Saturday, 07 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Jawad Hussain Rizvi
  4. Istemar Ki Musalat Karda Jang Mein Khaleeji Mumalik Ki Mumkina Shamooliat

Istemar Ki Musalat Karda Jang Mein Khaleeji Mumalik Ki Mumkina Shamooliat

استعمار کی مسلّط کردہ جنگ میں خلیجی ممالک کی ممکنہ شمولیت

امریکی و صیہونی حملوں کے بعد ایران نے جوابی حکمتِ عملی کے طور پر اسرائیل سمیت خطّے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے۔ ایران کی عسکری حکمتِ عملی بظاہر اس اصول پر قائم ہے کہ جن مقامات سے اس پر حملہ کیا جائے گا یا جہاں سے حملوں کی معاونت ہوگی، وہی مقامات جوابی کارروائی کا ہدف بنیں گے۔ اسی وجہ سے اب تک ترکی اور آذربائیجان میں موجود امریکی تنصیبات کو باقاعدہ طور پر نشانہ نہیں بنایا گیا، کیونکہ وہاں سے ایران پر براہِ راست حملوں کی واضح اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔ البتہ ترکی کے بعض علاقوں میں ڈرون سرگرمیوں کی محدود خبریں ضرور سامنے آئی ہیں۔

دوسری جانب خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈّے ایران کی جوابی کارروائیوں کی زد میں آئے ہیں۔ اس پر بعض خلیجی حکومتوں نے شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایران کو سخت دھمکیاں بھی دی ہیں۔ تاہم اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ایران ان علاقوں میں موجود امریکی اڈّوں کو کیوں نشانہ بنا رہا ہے، بلکہ بنیادی سوال یہ ہے کہ ان ممالک نے اپنی سرزمین پر امریکہ کو ایسے فوجی اڈّے فراہم ہی کیوں کیے جنہیں خطّے کی جنگوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

اصولی طور پر اگر کسی ملک کی سرزمین پر موجود غیر ملکی فوجی اڈّے سے کسی دوسرے ملک پر حملہ کیا جائے تو جوابی کارروائی کا ہدف وہ اڈّا بنتا ہے، نہ کہ لازماً میزبان ریاست۔ اس لحاظ سے امریکی فوجی اڈّوں پر حملہ درحقیقت امریکہ کے خلاف کارروائی تصور کیا جائے گا، نہ کہ ان میزبان ممالک کے خلاف براہِ راست جنگ۔ البتہ بعض اطلاعات کے مطابق چند مقامی تنصیبات اور دیگر اہم مراکز کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اس کی ایک ممکنہ وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ ایران کے ڈرون اور میزائلوں کو روکنے کے لیے دفاعی نظام کے تحت جب ان ممالک سے میزائل داغے جاتے ہیں تو بعض اوقات فضا میں تباہ ہونے والے میزائلوں کا ملبہ زمین پر گر کر محدود نوعیت کی تباہی کا سبب بن جاتا ہے۔

اس پورے منظرنامے میں اسرائیل کی خفیہ حکمتِ عملی اور ممکنہ اشتعال انگیزیوں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مثال کے طور پر قبرص میں موجود برطانیہ کے فوجی اڈّے پر حملے کے حوالے سے بعد میں تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ اس کی نسبت ایران کی طرف ثابت نہیں ہو سکی۔ اسی طرح ماضی میں آرامکو کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے بارے میں بھی مختلف تجزیوں میں یہ سوال اٹھایا جاتا رہا ہے کہ آیا ان کے اصل محرّکات کیا تھے۔ اس پس منظر میں یہ احتمال بھی زیرِ بحث رہتا ہے کہ بعض قوّتیں کشیدگی کو بڑھانے کے لیے خفیہ کارروائیوں کا سہارا لے سکتی ہیں تاکہ علاقائی جنگ کو مزید پھیلایا جا سکے۔

دوسری جانب امریکہ کی حکمتِ عملی کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ بہت سے تجزیہ نگاروں کے مطابق واشنگٹن کی کوشش یہ ہو سکتی ہے کہ خلیجی ممالک اور دیگر اتحادی بھی براہِ راست اس جنگ میں شریک ہو جائیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ایران کی جانب سے استعمال ہونے والی نسبتاً کم لاگت والی ڈرون اور میزائل ٹیکنالوجی دفاعی نظام کے لیے ایک معاشی دباؤ بھی پیدا کر رہی ہے۔ ایران کم قیمت ڈرون اور میزائل استعمال کرتا ہے جبکہ انہیں روکنے کے لیے جدید دفاعی میزائل استعمال کیے جاتے ہیں جن کی قیمت کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔ اس طرح ایک طویل جنگ کی صورت میں معاشی بوجھ بڑھتا جاتا ہے۔

خلیجی ممالک کے لیے دانشمندی اسی میں ہے کہ وہ اس تنازع کو مزید وسعت دینے سے گریز کریں۔ اگر یہ جنگ براہِ راست علاقائی سطح پر پھیل گئی تو اس کے نتائج نہ صرف سیاسی بلکہ معاشی اور سلامتی کے اعتبار سے بھی انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔ ایران اس وقت اپنی قومی بقا اور سلامتی کو درپیش خطرات کے تناظر میں ردِّعمل دے رہا ہے، اس لیے خطّے کے دیگر ممالک کو جذباتی ردِعمل کے بجائے حکمت اور تدبّر سے کام لینا چاہیے۔

حقیقت یہ بھی ہے کہ امریکی و صیہونی حملوں کے سلسلے میں بعض علاقائی ممالک کی خاموشی یا غیر فعال رویہ بھی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اگر یہ ممالک واقعی خطّے میں امن چاہتے ہیں تو انہیں جنگ بندی اور سفارتی حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرنا چاہیے۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ اس معاملے میں نہ صرف بہت سے مسلم ممالک بلکہ عالمی طاقتیں بھی عملی اقدامات کے بجائے زیادہ تر بیانات اور رسمی مذمّتوں تک محدود نظر آتی ہیں۔

Check Also

Istemar Ki Musalat Karda Jang Mein Khaleeji Mumalik Ki Mumkina Shamooliat

By Syed Jawad Hussain Rizvi