Saturday, 07 March 2026
  1.  Home
  2. Arif Anis Malik
  3. Shajra Tayyaba

Shajra Tayyaba

شجرہ طیبہ

میناب کی فروری وہ مہینہ ہے جب سمندر تھک کر گھٹنے ٹیکتا ہے۔

عمان کی خلیج سے اٹھنے والی ہوا میں فروری تک وہ آگ نہیں رہتی جو جون میں ہڈیوں کا گُودا پگھلا دیتی ہے۔ اس مہینے میناب کا آسمان ایسا صاف ہوتا ہے جیسے کسی نے نیلے شیشے کو اندر سے دھو کر سُکھایا ہو۔ چوبیس پچیس درجے کی وہ نرمائش جو نہ سردی ہے نہ گرمی، بس زندگی کا وہ مقام جہاں سانس لینا آسان ہو جاتا ہے۔ کھجور کے پیڑ، جو میناب کی اصل رگوں میں دوڑتے ہیں، اس موسم میں ساکت کھڑے رہتے ہیں جیسے پہرے دار جنہیں ابھی حکم نہیں ملا، گرمیوں کی فصل کے منتظر، مگر اُن کے تنے سے نہ سبزی اتری ہے نہ سایہ۔ لیموں کے باغ فروری میں پکتے ہیں اور شہر کی گلیوں میں ایک خوشبو بسی رہتی ہے جو سنگترے کی نہیں بلکہ لیموں کی ہے۔ قدرے تیز، قدرے تازہ، وہ خوشبو جو پھیپھڑوں میں اُترے تو آدمی کو لگے کہ خدا نے دنیا بنا کر پچھتایا نہیں ہوگا۔

میناب ندی جنوب کی طرف بہتی ہے اور اپنے کنارے سے آدھ کوس کے فاصلے پر یہ شہر آباد ہے۔ تاریخ کہتی ہے کہ اسے دو بہنوں نے بنایا تھا، بی بی مینو اور بی بی ناز نین۔ عورتوں کا شہر۔ اسی لیے شاید یہاں کی عورتیں اتنی مضبوط ہیں، وہ ایک وراثت سنبھالے پھرتی ہیں جو انہیں پتہ بھی نہیں کہ کتنی پرانی ہے۔ وہ رنگین چادریں پہنتی ہیں جو ہند کی ساڑیوں سے ملتی جلتی ہیں، ریشمی کناریوں والی اور پاؤں تک کے پاجامے جن کی پنڈلیوں پر ہاتھ سے کاڑھی ہوئی کاری گری ہوتی ہے، سرخ، سبز، نارنجی، ایسے رنگ جن کا سمندر کنارے کی اس گرم زمین سے ایک پرانا رشتہ ہے اور ان کے چہروں پر وہ بُرقع جو افغانی برقع نہیں، ایک چھوٹا سا نوک دار سونے رنگ کا نقاب ہے، پرتگالیوں کی میراث، جو سولہویں صدی میں اس ساحل پر آئے تھے اور جانے کے بعد اپنی عورتوں کا یہ چھوٹا سا طریقہ یہاں کی مٹی میں چھوڑ گئے۔ سرخ نقاب کا مطلب ہے شادی شدہ، نارنجی کا مطلب منگنی۔

مریم کا نقاب سرخ تھا۔

وہ صبح سویرے اٹھتی تھی، اس سے بھی پہلے کہ میناب ندی پر سورج کی پہلی کرن پڑے۔ اس کا گھر شہر کی اُس گلی میں تھا جہاں پکی اینٹوں کے مکانات کے درمیان ایک نیم کا پیڑ کھڑا تھا جو گرمیوں میں تھوڑی سی چھاؤں دیتا تھا اور سردیوں میں بے پتّا کھڑا رہتا تھا، ایک فقیر کی طرح جو موسموں سے ماورا ہو چکا ہو۔ مریم کھجور کی پتیاں بُنتی تھی، چٹائیاں اور ٹوکریاں، جمعرات کے بازار کے لیے، اُس پنجشنبہ بازار کے لیے جو پانچ سو سال پرانا ہے اور جہاں ہورمزگان کے گاؤں گاؤں سے عورتیں آتی ہیں اور اپنا کام بیچتی ہیں، بغیر مردوں کے، اپنے ہاتھوں پر بھروسہ کرتے ہوئے۔ مریم کے ہاتھ کام کے دوران آزاد ہو جاتے تھے، انگلیاں خود جانتی تھیں کہاں جانا ہے، بُنائی کا یہ نقشہ اس کی ماں کے ہاتھوں میں تھا اور اس سے پہلے اس کی ماں کی ماں کے۔ کچھ چیزیں سکھائی نہیں جاتیں، اُترتی ہیں۔

اُس صبح، اٹھائیس فروری کو، مریم نے فجر کی نماز کے بعد چائے بنائی۔ چائے میں ہل دالی تھی جو میناب کی عورتیں ڈالتی ہیں۔ اُس نے ایک پلیٹ میں گھر کی رکھی ہوئی خرمائیں نکالیں، موٹی اور شیریں، گرمیوں کی فصل کو سنبھال کر رکھی ہوئی تھیں، یہ فروری کے دن وہی پرانی خرمائیں کھاتے ہیں۔ باہر سے لیموں کے پیڑ پر کچھ پکے پھل نظر آئے، سبز کا پیلا ہو جانا۔ اُس نے سوچا دوپہر میں اتار لوں گی۔

زینب ابھی سو رہی تھی۔

دس برس کی زینب۔ ہورمزگان کی بچیاں اتنی صاف رنگ نہیں ہوتیں، گرم سمندری ہواؤں نے ان کی جلد کو ایک گہرا سانولا رنگ دیا ہوتا ہے جو بہت خوبصورت لگتا ہے اور جسے یہ لوگ خود نہیں پہچانتے کیونکہ خوبصورتی اکثر اُسے نہیں دکھتی جس کی اپنی ہو۔ زینب کے بال لمبے تھے، گھنگریالے، جن کو مریم ہر صبح دو چوٹیاں بنا کر باندھتی تھی۔ ایک چوٹی کبھی اکھڑ جاتی تھی اسکول تک پہنچتے پہنچتے اور زینب اسے کبھی درست نہیں کرتی تھی، بچپن میں بکھراؤ سے کوئی شرم نہیں ہوتی۔

اُس صبح مریم نے اُسے جگایا۔ زینب نے آنکھیں کھولیں، وہی کام کیا جو بچے کرتے ہیں، چند لمحے آنکھیں پھر بند کیں، پھر ایک گہری سانس لے کر اٹھ بیٹھی جیسے نیند سے لڑ کر جیتی ہو۔ مریم نے اُسے وردی پہنائی، سفید قمیص، گہرا نیلا شلوار، وہی جو اسکول نے مقرر کی تھی۔ پھر چوٹیاں بنائیں۔ آج انہوں نے ایک چھوٹی سی چُٹکی ڈالی تھی بالوں میں، نارنجی رنگ کا ایک پلاسٹک پھول، بازار میں ملنے والی وہ سستی چیز جو بچوں کو اصلی سے زیادہ پسند آتی ہے۔

زینب نے چائے کے ساتھ خرما کھائی، وہی جو مریم نے رکھی تھی۔ تھیلا اٹھایا، کپڑے کا سبز تھیلا جس میں کتابیں تھیں اور ایک پرانی پنسل جس کی نوک گھسی ہوئی تھی اور جسے زینب نے گھر پر تراشنا یاد نہیں رکھا تھا مگر اسکول میں استانی جی سے مانگ لیا کرتی تھی۔

دروازے پر مریم نے اسے روکا۔ دوپٹہ سیدھا کیا۔ ٹھوڑی پکڑ کر چہرہ اوپر کیا، جیسے ماں کرتی ہیں جب کچھ کہنا ہو۔ کہا: آج حساب کی آخری تیاری ہے۔ گھبرانا نہیں، تجھے آتا ہے سب۔

زینب نے سر ہلایا اور گلی میں اتر گئی۔

اُس کے پاؤں گلی کے پتھروں کو جانتے تھے، کون پتھر تھوڑا اونچا ہے، کہاں موڑ پر نیم کے پتے گرے ہوتے ہیں جن پر چلنا پھسلن کا خطرہ ہے۔ وہ راستہ اتنی بار چلی تھی کہ پاؤں خود چلتے تھے اور آنکھیں اِدھر اُدھر دیکھتی تھیں۔ کھجور کے پیڑوں کے درمیان سے گزرتی سڑک، بائیں طرف وہ مکان جس کے باہر ہمیشہ ایک بڑھیا بیٹھی ہوتی تھی کھجور کی پتیوں سے پنکھا بُنتے ہوئے، اُس نے زینب کو دیکھا اور آواز لگائی: اسکول جا رہی ہو؟ زینب نے ہاتھ ہلایا اور آگے بڑھ گئی۔

جمعرات کا بازار دو دن پہلے ہی ختم ہوا تھا۔ اُس روز مریم وہاں گئی تھی اپنی چٹائیاں بیچنے اور واپسی پر اپنی پڑوسن خدیجہ کے ساتھ تازہ لیموں اور مچھلی لائی تھی۔ خدیجہ کی بیٹی سارا بھی زینب کی جماعت میں تھی۔ دونوں بچیاں سوتے میں ملتی تھیں، ایک دوسرے کی کتابیں اٹھاتیں، ایک دوسرے کی غلطیاں سنتیں، وہ دوستی جو کسی معاہدے کے بغیر ہوتی ہے اور اسی لیے پائیدار ہوتی ہے۔

شجرہ طیبہ پرائمری اسکول میناب کے اُس محلے میں تھا جہاں گلی تھوڑی چوڑی ہو جاتی ہے۔ عمارت پرانی تھی، دیواریں نیلے رنگ سے پینٹ کی ہوئی تھیں، نیچے کے حصے پر گلابی پھول اور سبز پتیاں کسی نے محبت سے بنائی تھیں، شاید کبھی کوئی استانی رہی ہوگی جس نے سوچا ہوگا کہ دیواریں بھی بچوں کو کچھ سکھا سکتی ہیں، کم از کم یہ کہ رنگ اچھی چیز ہے اور دنیا خوبصورت ہو سکتی ہے۔ دروازے پر لکھا تھا شجرہ طیبہ، پاک درخت، وہ درخت جس کی جڑیں مضبوط ہوں اور شاخیں آسمان تک جائیں۔

فاطمہ خانم نے پچیس برس پڑھایا تھا اس شہر میں۔

ان کی عمر پچاس کے آس پاس تھی، بالوں میں سفیدی آنے لگی تھی جسے وہ چھپاتی نہیں تھیں کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ وقت کے نشانوں سے شرم نہیں کرنی چاہیے، وقت نے جو دیا ہے وہ دیا ہے۔ ان کی آنکھوں میں ایک قسم کی تھکاوٹ تھی جو معلمین کی ہوتی ہے، وہ تھکاوٹ جو صبح اٹھنے تک جاتی ہے اور کلاس میں بچوں کو دیکھتے ہی واپس آ جاتی ہے۔ ان کا طریقہ تھا کہ ہر صبح پڑھانا شروع کرنے سے پہلے ایک چھوٹی دعا پڑھتے تھے، بسم اللہ سے، پھر ہاتھ پھیلاتے، پھر بچیاں ایک لمحے کے لیے خاموش ہو جاتیں اور یہ خاموشی کمرے کو ایک مسجد بنا دیتی تھی۔ ان کا ماننا تھا کہ علم کا آغاز خدا کے نام سے ہونا چاہیے کیونکہ علم ہی واحد چیز ہے جو انسان کو انسان بناتی ہے، باقی سب جانور بھی کرتے ہیں۔

اُس اٹھائیس فروری کی صبح انہوں نے دعا پڑھی، ہاتھ پھیلائے، آمین کہا۔

زینب نے کاپی نہیں لائی تھی۔ اسے احساس ہوا جب فاطمہ خانم نے کہا کہ آج حساب کے سوال کرتے ہیں۔ زینب نے تھیلے میں ہاتھ ڈالا، الٹا سیدھا کیا، خالی ہاتھ نکالا۔ پھر سارا کی طرف دیکھا۔ سارا نے بغیر کچھ کہے اپنی کاپی کا ایک صفحہ الگ کیا اور زینب کی میز پر رکھ دیا۔ یہ دوستی کا وہ درجہ ہے جو بچوں میں ہی ہوتا ہے، بڑے ہو کر ہم سیکھتے ہیں کہ دینے سے پہلے سوچو، بچے ابھی سوچنا نہیں جانتے اس لیے بے روک دیتے ہیں۔

باہر آسمان پر بادل تھے، وہ ہلکے بادل جو فروری میں میناب پر چند گھنٹے آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ میناب ندی اپنے کنارے پر کھجور کے پیڑوں کے سائے میں بہہ رہی تھی۔ مچھلی بازار میں صبح کی نیلامی ختم ہوگئی تھی اور ماہی گیر اپنے جال سمیٹ رہے تھے۔ سمندر کی نمکین ہوا شہر کے اندر آتی تھی اور لیموں کے باغوں کی خوشبو سے ملتی تھی۔ دونوں ملتی تھیں تو میناب کی اپنی خوشبو بنتی تھی، دنیا میں کہیں اور نہیں تھی وہ خوشبو۔

مریم گھر میں بیٹھی کھجور کی پتیاں بُن رہی تھی۔ اس کے ہاتھ چلتے رہے اور ذہن زینب کے ساتھ اسکول چلا گیا۔ اس نے سوچا: لڑکی کا حساب ٹھیک ہے، گھبراہٹ صرف امتحان کے نام سے ہوتی ہے ورنہ اسے آتا سب ہے۔ اُس نے پتیوں کو مضبوطی سے پرویا، ایک اور قطار مکمل ہوئی، ٹوکری کی دیوار اوپر اٹھی۔ پڑوس سے خدیجہ کی آواز آئی، وہ اپنے صحن میں کوئی کام کر رہی تھی۔ میناب کی گلیاں تنگ ہوتی ہیں اور گھر ایک دوسرے سے اتنے قریب کہ پڑوس کی زندگی اپنی زندگی کا حصہ بن جاتی ہے۔

پھر زمین ہلی۔

مریم نے محسوس کیا مگر سمجھا نہیں۔ پھیلی ہوئی انگلیاں رک گئیں۔ ایک آواز آئی جو آواز نہیں تھی، ایک دھماکہ تھا مگر دھماکے جیسا نہیں، ایک گرج جو زمین سے آئی نہ آسمان سے، جیسے دنیا کے اندر سے کچھ پھٹ گیا ہو۔ کھڑکی کے شیشے کانپے۔ گلی میں ایک کتا بھاگا۔ کہیں دور ایک برتن گرا۔

مریم کھڑی ہوئی۔

پھر ایک اور دھماکہ اور اس کے بعد وہ سناٹا جو صرف بہت بڑی تباہی کے بعد آتا ہے، جب ہوا بھی سانس روک لیتی ہے۔

مریم نے کھڑکی سے دیکھا۔ دھواں اٹھ رہا تھا۔ گہرا، سیاہ، اُسی سمت سے جہاں نیلی دیواروں والا اسکول تھا۔

ماؤں کے پاؤں بتانے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ کہاں جانا ہے۔ وہ خود جانتے ہیں۔

مریم گلی میں نکل آئی۔ کچھ اور لوگ بھی نکلے تھے، ابھی سب کو سمجھ نہیں آیا تھا کہ کیا ہوا ہے، بس سب جانتے تھے کہ کچھ ہوا ہے۔ خدیجہ بھی نکلی، ان کی آنکھوں میں ابھی وہی سوال تھا جو مریم کی آنکھوں میں تھا۔ دونوں نے ایک لمحے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر دوڑ پڑیں۔

گلیاں ختم ہوتی رہیں۔ لوگ بڑھتے رہے۔ جب وہ اسکول کی گلی میں مڑیں تو پہلے دھوئیں نے روکا، پھر آنکھوں نے۔

دیواریں نہیں تھیں۔

نہ نیلا رنگ تھا، نہ گلابی پھول تھے، نہ سبز پتیاں تھیں۔ شجرہ طیبہ جس درخت کے نام پر تھا وہ اب اس زمین پر نہیں تھا۔ صرف پتھر تھے، ٹوٹے ہوئے، کنکریٹ کے بڑے بڑے ٹکڑے اور اُن کے نیچے سے جو آوازیں آ رہی تھیں، مریم نے جب وہ آوازیں سنیں تو اس کا دل ڈوب گیا۔ وہ آوازیں بچوں کی تھیں۔

کچھ لوگ پہلے سے پہنچ چکے تھے، ہاتھوں سے پتھر ہٹا رہے تھے۔ ایک آدمی کا ہاتھ لہو آلود تھا مگر وہ رکا نہیں تھا۔ کوئی چیخ رہا تھا، کوئی خاموش تھا جیسے بولنا بھول گیا ہو۔

مریم نے اپنا نام نہیں لیا، اپنی بیٹی کا نام لیا۔

زینب۔

کوئی جواب نہیں آیا۔

وہ آگے بڑھی، ایک پتھر کے پاس رکی۔ پتھر کے نیچے سے کچھ نکلا ہوا تھا، ایک کپڑے کا کونہ۔ سبز رنگ۔ اُس نے آگے بڑھ کر دیکھا۔

وہ کپڑے کا سبز تھیلا تھا جس میں کتابیں تھیں۔

مریم نے تھیلا پہچانا جیسے ماں کبھی نہیں بھولتی۔ اُس نے تھیلا پکڑا اور اس کے ساتھ ہی اُس کے گھٹنے زمین پر آ گئے۔ کسی نے اُسے سہارا دیا، وہ نہیں جانتی تھی کون تھا۔ تھیلے میں کتابیں تھیں، پنسل تھی جس کی نوک گھسی ہوئی تھی اور ایک چھوٹی سی چیز تھی جو کتابوں کے درمیان پھنسی ہوئی تھی، نارنجی رنگ کا ایک پلاسٹک پھول، وہی جو آج صبح مریم نے اپنی بیٹی کی چوٹی میں لگایا تھا۔

پھول ابھی تازہ تھا۔ اتنا ہی تازہ جتنا اُس کا دن تھا جب شروع ہوا تھا۔

اُس دن میناب میں ایک سو پینسٹھ بچیاں مریں۔ فاطمہ خانم بھی جنہوں نے صبح دعا پڑھی تھی اور سوچا ہوگا کہ آج کا دن گزر جائے گا جیسے کل کا گزرا تھا۔ سارا بھی جس نے بغیر سوچے اپنا صفحہ دے دیا تھا اور وہ بڑھیا بھی، وہ جو گلی میں بیٹھ کر پنکھا بُنتی تھی، اُس کا گھر قریب تھا اور مکانوں کی چھتیں ساتھ گری تھیں۔

بی بی مینو اور بی بی ناز نین نے یہ شہر بنایا تھا۔

اور ایک لمحے میں وہ اُن بچیوں کو نگل گیا جنہیں بی بی مینو اور بی بی ناز نین کا نام بھی نہیں پتہ تھا مگر جن کی رگوں میں وہی خون تھا، وہی ضد، وہی زندگی کا حق جو اُن دونوں بہنوں نے کبھی کسی سے نہیں مانگا تھا بلکہ اٹھا لیا تھا اپنے ہاتھوں سے۔

زندگی آپ کو بتاتی نہیں کہ آج کا دن آخری ہے۔ وہ آپ کو وہی معمول دیتی ہے جو کل دیا تھا۔ وہی صبح، وہی چائے، وہی چوٹی، وہی دوپٹہ درست کرنا، وہی تھوڑی پکڑنا اور کہنا کہ گھبرانا نہیں، تجھے آتا ہے سب۔ وہ آپ کو اتنا اعتماد دیتی ہے کہ آپ دروازے سے نکل جائیں، مڑ کر نہ دیکھیں، آگے چل پڑیں۔

اور پھر مڑ کر دیکھنے کا وقت نہیں آتا۔

میناب ندی بدستور بہتی رہی۔

کھجور کے پیڑ بدستور کھڑے رہے۔

صرف شجرہ طیبہ نہیں رہا۔ وہ پاک درخت جس کی جڑیں مضبوط ہونی تھیں اور شاخیں آسمان تک جانی تھیں۔ آج اس زمین پر نہیں تھا۔ اُس کی جڑوں میں بچیاں تھیں۔ اُس کے تنے میں اُن کا خون تھا اور اُس کی شاخیں، وہ شاخیں جو آسمان کو چھونے والی تھیں، آج آسمان خود جھک کر اُن کے پاس آیا تھا۔

Check Also

Taleem Akhir Hai Kya?

By Amer Abbas