Jan Jokham Mein Nahi Dalna Chahta
جان جوکھم میں نہیں ڈالنا چاہتا

چند ماہ قبل لاہور گینگ وار پر سلسلہ وار مضامین لکھے تھے جن میں لاہور سمیت پنجاب بھر میں جرائم کی دنیا سے منسلک کرداروں کا تفصیلی ذکر کرتا رہا۔ جرم کی دنیا مکڑی کا جالا ہے جہاں ہر تار الگ الگ رہتے ہوئے بھی آپس میں کہیں نہ کہیں جڑا ہوتا ہے۔ ٹیپو ٹرکاں والا، طیفی و گوگی بٹ، بابا و حنیفہ، مظہر تبی، ارشد امین چوہدری، اسد پرنس، طاہر پرنس، بھولا سنیارا، ہمایوں گجر، مظہر شاہ، رانا ثروت، ببو خان، انو چبیل سمیت کئی گینگسٹرز اور اُجرتی قاتلوں کی وہ سلسلہ وار مضامین کی کڑی تھی جن کا تانا بانا کہیں نہ کہیں آپس میں ملتا تھا۔ ان مضامین کا ماخذ ریسرچ ورک تھا جس میں انسپکٹر عابد باکسر سے ذاتی ملاقات، انسپکٹر نوید سعید اور چند پولیس افسران کے انٹرویوز سمیت یوٹیوب پوڈکاسٹس، میڈیا رپورٹس اور گوالمنڈی، شاہ عالمی اور سوتر منڈی اندرون لاہور کے کچھ جیتے جاگتے عینی شاہدین سے حاصل شدہ معلومات تھیں۔
اس سیریز پر بہت زیادہ فیڈ بیک موصول ہوا۔ یہ فیڈ بیک پولیس افسران کی جانب سے بھی ملا، وسعت اللہ خان صاحب جیسے مایہ ناز صحافی سے بھی ملا اور کچھ ان لوگوں سے بھی ملا جن کے ہاں ان مضامین کا ذکر ہونا خطرے کی بات ہو سکتی تھی۔ چونکہ جرم کی دنیا سیاسی یا بااثر افراد کی پشت پناہی کے بنا پھل پھُول نہیں سکتی اس لیے کہیں کہیں سیاسی افراد کا بھی ذکر رہا مگر احتیاط کے ساتھ کیونکہ مجھے بھی اسی معاشرے میں جینا ہے۔ پولیس اور جرم کا ساتھ بھی چولی دامن کا ہے۔ جرم کی پرورش میں پولیس کے رویے کا بھی ایک ہاتھ ہوتا ہے تو اس کے خاتمے میں بھی ان کا ہی ہاتھ ہوتا ہے۔ الغرض وہ سیریز مجھے ختم کرنا پڑی کیونکہ مجھے محسوس ہونے لگا میں لکھتے لکھتے گہرے پانیوں میں اُتر رہا ہوں۔ جتنا لکھ دیا اتنا ہی کافی ہے۔
اسی سلسلے میں مجھ سے ایک بڑے نامور اسکرپٹ رائٹر نے رابطہ کیا اور ہماری ملاقات چائے خانہ میں ناشتے پر بھی ہوئی۔ وہ مجھ سے وہ سارا تحقیقی مواد چاہتے تھے اور اس بات کے خواہاں تھے کہ ان مضامین کی سیریز کو ڈرامہ اسکرپٹ میں ڈھال کر اگر کچھ پروڈیوس کیا جائے تو کیسا رہے گا۔ میں نے ان کو اجازت دے دی کہ آپ چاہیں جو مرضی کریں، میں آپ کو اپنے مضامین کو اسکرپٹ میں ڈھالنے، تحقیقاتی مواد شئیر کرنے سمیت ہر ممکن تعاون کرنے پر تیار ہوں مگر اس سے زیادہ مجھ سے امید نہ رکھیں۔ آپ بہت بہادر ہوں گے لیکن میں بال بچوں والا بے ضرر سا لکھنے پڑھنے اور نوکری کرکے گھر چلانے والا انسان ہوں، مجھے اس میں کریڈٹ لینے کا کوئی شوق نہیں ہے۔ نیز یہ بھی پاکستان میں رہتے آپ اسے پروڈیوس نہیں کر پائیں گے۔ کر لیں گے تو کہاں چلا پائیں گے؟ ویب سیریز کا خیال اچھا ہے مگر اس کا خمیازہ بھی آپ نے ہی بھگتنا ہوگا۔ وہ اس بات کو بخوبی سمجھتے تھے اور مجھ سے اتفاق کرتے رہے۔ انہوں نے بہرحال، پھر بھی لکھنے میں دلچسپی کا اظہار کیا تو میں نے ان کو سورسز، مواد اور اپنے مضامین کا مجموعہ دے دیا۔
آج تک مجھے پیغامات موصول ہوتے ہیں جن میں فرمائش ہوتی ہے کہ اس سلسلے پر مزید مضامین لکھیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اتنا ہی کافی ہے۔ لاہور میں مجھے جینا ہے۔ بھارتی فلم دھریندر آئی تو لوگوں نے پیغامات بھیجے کیا لیاری گینگز کے بارے اس فلم میں جو فلمایا گیا اس کا حقیقت سے تعلق ہے یا نہیں، آپ کراچی گینگ وار پر کیوں نہیں لکھتے، داؤد ابراہیم، شعیب خان، انسپکٹر ذیشان، الذوالفقار کا جنم اور خالد شہنشاہ کا کردار، ابراہیم بھولو، عزیر بلوچ، ایم کیو ایم کے اُجرتی قاتل، اسلم چوہدری، چائنہ کٹنگ کے بے تاج بادشاہ، وغیرہ وغیرہ وغیرہ سمیت وہ بھی سلسلہ وار داستانیں ہیں۔ جی ہاں، بالکل ہیں۔ کراچی انڈر ورلڈ نیٹ فلکس کے پانچ سے چھ سیزن کا مضمون ہے۔ جب بات ہوگی تو سیاسی کرداروں کا بھی ذکر ہوگا اور جب ان کا ذکر ہوگا تو سرخ دائرہ مجھ پر لگے گا آپ پڑھنے والوں پر نہیں۔ پہلے ہی لاہور گینگ وار پر لکھ کر ہائی لائٹ ہونے سے کسی طرح خود کو بچایا ہے۔ حالانکہ میں صدق دل سے کہتا ہوں کہ بااثر سیاسی افراد اور پولیس افسران کا ذکر میں نے بہت احتیاط برتتے ہوئے کیا تھا اور بہت سی حساس مگر خطرناک باتیں میں نے حذف کی تھیں۔
یہ مضمون چونکہ میرے لیے ذاتی دلچسپی رکھتا ہے اس پر علم یا ریسرچ اپنی معلومات کے لیے رکھتا ہوں مگر اسے قلمبند کرنا رسک ہو جاتا ہے۔ خاص کر کراچی کے معاملات میں فرسٹ ہینڈ علم مجھے اپنے سابقہ سُسر سے ملا ہے جو کراچی کے مختلف علاقوں میں بطور پولیس افسر تعینات رہے اور ایس پی صدر ٹاؤن کراچی کے عہدے سے رئیٹائر ہوئے۔ اب وہ اس دنیا میں نہیں ہیں۔ ان سے بات چلتی رہتی تھی۔ کراچی پولیس کے کئی نامور افسران ان کے دوست تھے۔ ایس پی فاروق اعوان ان کے کزن تھے، اسلم خان کی ٹیم میں انہوں نے کام کیا تھا، آئی جی شعیب سڈل کی ٹیم کا بھی حصہ رہے۔ مٹھادر، کھارادر اور لیاری میں وہ پوسٹ رہے تھے۔ ان کے طفیل میں کئی لوگوں سے کراچی میں ملا ہوا ہوں اور فرسٹ ہینڈ انفارمیشن لی ہوئی ہے۔ اس وقت ذاتی دلچسپی کا مضمون تھا اور بس۔
آج بھی ایک جگہ سے پیغام ملا ہے۔ عرض ہے کہ مجھے لکھنے کا فن سہی مگر گھر بار چلانا زیادہ بڑا فن ہے اور بلا وجہ کسی اور فنکاری کا مظاہرہ کرتے جان جوکھم میں نہیں ڈالنا چاہتا۔ آپ سب کی پسندیدگی کا شکریہ۔

