Pakistan Waqai Aik Jannat Hai
پاکستان واقعی ایک جنت ہے

جس سوسائٹی میں رہائش پذیر ہوں وہاں قدم قدم پر میڈیکل سٹورز یا فارمیسیز موجود ہیں۔ بحریہ ٹاؤن لاہور کے رہائشی تو جانتے ہی ہوں گے کہ یہاں اتنی تعداد میں ریسٹورانٹس نہیں جتنی تعداد میں میڈیکل سٹورز ہیں۔ آپ کو کیا لگتا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کی کُل آبادی بیمار ہے یا یہاں ادویات کی کھپت سارے شہر سے زیادہ ہے؟ یا یہ بہت زیادہ منافع بخش کاروبار ہے جس میں جمپ یا جیک پاٹ لگتے ہوں؟ اکثر سٹورز پر الو بول رہا ہوتا ہے لیکن وہ کھُلے ہیں، بند نہیں ہوتے۔ کرایے بھی لاکھوں کے حساب سے ادا کر رہے ہیں۔ کمرشل پراپرٹیز ہیں ان پر بجلی کے بلز بھی آفرین ہیں۔ ائیر کنڈیشنرز چوبیس گھنٹے چل رہے ہیں۔
بڑے شہروں میں کچھ کاروبار، کاروبار کرنے کی نیت سے نہیں کھولے جاتے۔ ان کا مقصد کچھ اور ہوتا ہے۔ یہ فرنٹ فیس ہوتے ہیں۔ ان کی آڑ میں جعلی انوائسنگ یا فیک بلنگز ہوتی ہیں۔ غیر قانونی دولت یا کالے دھن کو سفید کرنے کا لانڈری سیٹ آپ ہوتے ہیں۔ امپورٹ ایکسپورٹ سے وابستہ کچھ کاروبار کاغذوں میں بڑے پیمانے پر کھولے جاتے ہیں جن کا مقصد منی لانڈرنگ ہوتا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کا اعترافی بیان ہے صرف ایک سال کے دوران سو ارب ڈالرز ملک سے باہر گئے ہیں۔ یہ قانونی راستے سے نہیں گئے ہیں۔ یہ بھی ایک تخمینہ یا اندازہ ہے شاید اعداد و شمار اس سے کہیں بڑھ کے ہوں۔
پاکستان کا المیہ یہ رہا کہ یہاں پیداواری یونٹس لگانے، ٹیکسز میں چھُوٹ دینے، ایکسپورٹرز کے لیے ون ونڈو آپریشن کا نظام بنانے کی بجائے اداروں پہ ادارہ بنایا گیا، این او سیز یا اجازت ناموں کے چکر ڈالے گئے اور جائز طریقے سے کاروبار کرنے کے پراسس کو طول دینے کی راہ اپنائی گئی۔ مینوفیکچرر کو گھاس نہیں ڈالی، ایکسپورٹر کو ریبیٹ کی مد میں حکومتوں نے کبھی آؤٹ آف باکس جا کر بھی چھُوٹ دے دی جس سے کارروائی ڈالنے والوں نے جعلی ایکسپورٹ بلز بنا کر مالی رعائیت حاصل کر لی، تو کبھی حکومتوں نے اس سلسلے سے گھبرا کر نظام اتنا ٹائٹ کر دیا کہ اصل یا جائز طریقے سے چلنے والا ایکسپورٹر دب گیا۔ نتیجتہً ساری معیشت امپورٹ بیس رہی۔ امپورٹ بل بڑھتا ہی چلا گیا۔
کسانوں کو آبیانے، ٹیوب ویل اور بجلی کے نرخوں پر رعائیتیں دی گئیں تو ان کا فائدہ بڑے جاگیرداروں نے اُٹھایا۔ چھوٹا کسان کے پاس اونٹ کے منہ میں زیرے جتنا فائدہ پہنچا۔ پھر زراعت کو بھی ایسا کلہاڑا پھر دیا گیا کہ بڑا زمیندار تو آسودہ رہے مگر چھوٹا تباہ ہو جائے۔ پھر صاحب لوگوں نے سوچا کہ زراعت میں تو بہت سکوپ ہے کیوں نہ اس شعبے میں بھی ہاتھ دھو لیے جائیں۔ آجکل پاکستان گرین پاکستان کے نعرے تلے صاحب لوگوں کے بڑے بڑے زرعی پراجیکٹس کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ نتیجتہً وہ عام کسان، وہ زمیندار جس کے ہاں نہ مربعوں میں رقبہ ہے نہ ہی وہ جدید مشینری و زرعی ٹیکنالوجی کا حامل ہے وہ منہ اُٹھائے آسمان میں رب کو تلاش کرتا پھرتا ہے۔ یہ واحد ملک ہے جہاں گندم کے نرخ حکومت نکالتی ہے اوپن مارکیٹ نہیں۔ حکومت ہی بڑی خریدار بن جاتی ہے۔ کماد کا نرخ شوگر مل مافیا طے کرتا ہے۔ شوگر ملز نے کپاس کو تباہ کر دیا اور کپاس کی جگہ گنے نے لے لی۔ وہ کپاس جو عالمی منڈی میں مہنگی ترین جنس ہے۔
اس ملک میں ایک ہی شعبہ پھلا پھولا جو تعمیرات اور رئیل اسٹیٹ سے وابستہ شعبہ تھا۔ لوگوں نے کیش یا نقد پلاٹس لیے۔ کوئی روک ٹوک نہیں تھی، کوئی نظام نہیں تھا، سوسائیٹیز نے آ کر پیسہ جمع کیا، فائلیں بانٹیں، الاٹمنٹ لیٹرز جاری کیے۔ کیش میں سودے ہوتے رہے۔ کالا دھن رئیل سٹیٹ مارکیٹ میں اتنا زیادہ ہوگیا کہ اس کا حجم 200 بلین ڈالرز سے تجاوز کر گیا۔ پاکستان کا کُل بجٹ 62 بلین ڈالرز اور اس ملک پر مجموعی قرض 131 بلین ڈالرز ہے۔ رئیل سٹیٹ اور تعمیرات کا شعبہ اوورسیز کی بدولت بھی بہت پھیلا۔ ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائیٹیز اس شعبے میں بڑی سٹیک ہولڈر ہے۔ پچھلے تین چار سالوں سے یہ شعبہ ٹیکسز کے سبب اور کچھ قانونی معاملات کو ایف بی آر کے حوالے کرنے کے سبب زوال کا شکار ہوا ہے۔ وجہ یہ کہ پیسہ غیر قانونی تھا اس سے خرید و فروخت کرنے کا جواز مہیا نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ریاست نے سٹاک ایکسچینج کو اُٹھانے کی خاطر ایمنسٹی اسکیم پیش کر دی یعنی سٹاکس خریدیں آپ سے پیسے کی پوچھ گچھ نہیں کی جائے گی۔ کچھ دھن وہاں منتقل ہوا اور سٹیٹ بینک نے شرح سود میں اضافہ کر دیا تو وہ قانونی پیسہ جس کا جواز یا ٹریل موجود تھی وہ بینکوں میں فکس ڈیپازٹ ہوگیا۔ رئیل سٹیٹ سے پیسہ نکل گیا۔
لاہور کی بڑی تجارتی منڈیوں شاہ عالمی، اکبری منڈی، حفیظ سینٹر، موچی دروازہ وغیرہ وغیرہ سب کیش کا کاروبار چلتا ہے۔ لین دین بینکنگ سسٹم یا قانونی سسٹم کا حصہ نہیں بنتا۔ چنانچہ ٹیکس چوری بھی ہے۔ یہ کالا دھن کہیں تو کھپنا ہے؟ یا تو منی لانڈر ہو کے ملک سے باہر جائے گا یا پھر اس کو قانونی کرنے کے راستے نکالے جائیں گے۔ اس ملک میں یہی ہو رہا ہے۔ کاروبار کی جگہ بیشک اُلو بول رہے ہوں لیکن آپ ان کی روزانہ کی سیلز بک چیک کر لیں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ پاکستان واقعی ایک جنت ہے۔

