Guy Goma
گائے گوما

بیس سال پہلے ٹھیک آج کے دن ایک سیاہ فام نوجوان "گائے گوما" آئی ٹی کی جاب کے لیے بی بی سی کے دفتر پہنچا۔ وہ اپنی باری کا منتظر تھا کہ ایک شخص نے آکر پوچھا، آپ آئی ٹی سے ہیں؟ کیا آپ ہی مسٹر گائے ہیں؟ گائے گوما نے اثبات میں سر ہلایا۔ وہ نوجوان انھیں ایک کمرے میں لے گیا۔
چند منٹ بعد ایک خاتون وہاں آئیں۔ گائے گوما کو لگا کہ انھیں کہیں دیکھا ہے۔ کسی نے نوجوان سے پوچھا کہ میک آپ کروائیں گے؟ ابھی وہ صورتحال سمجھنے کی کوشش کررہا تھا کہ انٹرویو شروع ہوگیا۔ وہ بی بی سی ٹی وی پر لائیو انٹرویو تھا۔
گائے گوما کو احساس ہوگیا کہ کچھ مسئلہ ہوگیا ہے۔ لیکن اس نے حواس بحال رکھے۔ خاتون اینکرنے ایک آن لائن میوزک کیس کے عدالتی فیصلے کے بارے میں دو سوالات کیے۔ گائے گوما نے سکون سے ان کا جواب دیا۔ جوابات غلط نہیں تھے لیکن اینکر کو بھی احساس ہوگیا کہ کچھ مسئلہ ہے۔ اس نے انٹرویو فوراََ ختم کردیا۔
بعد میں پتا چلا کہ اینکرنے آئی ٹی ایکسپرٹ گائے کیونی کا انٹرویو کرنا تھا۔ پہلا نام یکساں ہونے کی وجہ سے غلطی ہوئی۔ بہرحال وہ بھنڈ منظر عام پر آیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔ بعد میں بی بی سی نے خود بھی اسے دوبارہ نشر کیا۔
آج اس بھنڈ کے بیس سال ہونے پر نیویارک ٹائمز نے تفصیل سے پوری کہانی چھاپی ہے اور بی بی سی کے اس کلپ کا لنک بھی شئیر کیا ہے۔
میں نے جیو میں کم از کم دو بھنڈ ایسے ہوتے دیکھے ہیں۔ عام طور پر اسائنمنٹ ڈیسک کے پاس ایک فون ڈائریکٹری ہوتی ہے جس میں ان تمام لوگوں کے نمبر ہوتے ہیں، جن کا کبھی انٹرویو کیا ہو یا کرنا پڑجائے۔ سیاست دان، سرکاری حکام، ترجمان، کھلاڑی، فنکار، تجزیہ کار، سب نام ہوتے ہیں۔ جب کسی کا بیپر، یعنی لائیو انٹرویو کرنا ہو تو اسائنمنٹ ڈیسک سے ہی نمبر مانگا جاتا ہے۔
پی سی آر، وہ جگہ جہاں پینل پروڈیوسر اور آڈیو انجینر بیٹھے ہوتے ہیں، کئی فون رکھے ہوتے ہیں جن سے انٹرویو کے لیے کال ملائی جاتی ہے۔ ایک بار اسائنمنٹ ڈیسک نے کوئی غلط نمبر دے دیا۔ بریکنگ نیوز کی جلدی تھی۔ ایسوسی ایٹ پروڈیوسر نے کال ملاکر لائن اسٹوڈیو میں ٹرانسفر کردی۔ آن ائیر جانے کے بعد معلوم ہوا کہ کال غلط شخص کو ملادی گئی ہے۔
پہلی بار یہ غلطی ایسوسی ایٹ پروڈیوسر سے ہوئی۔ دوسری بار اس وقت جیو دبئی کے بیورو چیف ایم کے عباس نے بھنڈ مارا۔ پرویز مشرف کا دور تھا۔ کسی اہم معاملے پر چوہدری شجاعت حسین کا لائیو بیپر کرنا تھا۔ وہ حسب عادت بھاگے بھاگے آئے اور پی سی آر کے فون سے خود کال ملاکر اسٹوڈیو میں ٹرانسفر کی۔ اینکرنے سوال پوچھا تو پتا چلا کہ فون غلط ملایا گیا۔ چوہدری شجاعت کے بجائے کسی عام آدمی کا فون مل گیا تھا۔
میں اسائننمٹ ڈیسک پر کم بھروسا کرتا تھا۔ جب میں نے جیو چھوڑا تو میری اپنی فون ڈائریکٹری میں ڈھائی ہزار نمبر تھے۔ وائس آف امریکا میں وہ ذخیرہ بہت کام آیا۔ لیکن ایک دن مجھ سے بھی غلطی ہوئی لیکن چونکہ وہ لائیو انٹرویو نہیں تھا اس لیے بھنڈ نہیں تھا۔
میں نے کسی معاملے پر ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی سے رائے لینا چاہی۔ فون بک میں خالد مقبول کا نام دیکھ کر کال ملائی۔ پوچھا کہ خالد مقبول صاحب بات کررہے ہیں؟ کال ریسیو کرنے والے نے تصدیق کی۔ میں نے اپنا تعارف کروایا اور سیاسی سوال پوچھا۔ وہ صاحب ہنسے اور کہا، میں وہ خالد مقبول نہیں ہوں۔ میں نے فون بک دوبارہ کھولی اور کہا، معذرت چاہتا ہوں جنرل صاحب۔
وہ مشرف کے سابق ساتھی اور سابق گورنر پنجاب جنرل خالد مقبول تھے۔

