Thursday, 07 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Insaf Ya Intiqam?

Insaf Ya Intiqam?

انصاف یا انتقام؟

جب عمر سرفراز چیمہ عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہو کر یہ کہتے ہیں کہ یا تو ہمیں مار دیں یا انصاف دے دیں تو یہ محض ایک جملہ نہیں ہوتا یہ پورے نظامِ انصاف کے منہ پر ایک سوالیہ نشان ہوتا ہے بلکہ انصاف عدل کے منہ پہ زناٹے دار تھپڑ ہے۔ ایک ایسا سوال جس کا جواب صرف عدالتوں میں نہیں بلکہ قوم کے ضمیر میں تلاش کرنا چاہیے اور جب ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی بیمار کینسر سے لڑتی ہوئی خاتون اس حال میں ہو کہ خود سے کپڑے تک نہ پہن سکے تو پھر یہ سوال اور بھی گہرا ہو جاتا ہے کہ آخر ان کا جرم کیا ہے؟ کیا بیماری بھی اب جرم بن چکی ہے یا پھر یہ سب صرف سیاسی انتقام کی ایک بھیانک شکل ہے؟

یہاں سوال صرف قانون کا نہیں۔ بلکہ غیرت، اخلاق اور انسانیت کا بھی ہے وہ لوگ جو معمولی دباؤ پر خواتین کی عزت و حرمت کے علمبردار بن جاتے ہیں آج ان کی آواز کیوں خاموش ہے؟ کیا غیرت بھی اب سیاسی وابستگی دیکھ کر جاگتی ہے مریم نواز جو اکثر عوامی جلسوں میں خواتین کے حقوق کی بات کرتی ہیں کیا ان کی نظر ان مظلوم خواتین تک نہیں پہنچتی؟ یا پھر یہ اصول بھی حالات کے ساتھ بدل جاتے ہیں اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا نظام انصاف سے زیادہ انتقام کی بنیاد پر چلتا دکھائی دیتا ہے جیلیں صرف مجرموں سے نہیں بلکہ ان لوگوں سے بھی بھری پڑی ہیں جن کا جرم شاید صرف ایک مختلف رائے رکھنا ہے سالوں سے لوگ اذیت سہہ رہے ہیں مقدمات لٹکے ہوئے ہیں اور انصاف ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔

یہ بے حسی خطرناک ہے جب ریاست اپنے شہریوں کے ساتھ انصاف کرنے کے بجائے نفرت اور انتقام کا راستہ اختیار کرے تو پھر معاشرہ ٹوٹنے لگتا ہے اعتماد ختم ہو جاتا ہے اور قانون ایک مذاق بن کر رہ جاتا ہے ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم ایک مہذب قوم بننا چاہتے ہیں یا ایک ایسا ہجوم جو وقتی جذبات اور سیاسی مفادات کے پیچھے انسانیت کو بھول جائے کیونکہ اگر آج ہم نے آواز نہ اٹھائی تو کل یہی خاموشی ہمارے اپنے دروازے پر دستک دے گی۔

ہم ایک عجیب ملک میں رہتے ہیں، جہاں انصاف کی آنکھوں پر پٹی نہیں بلکہ شاید پورا چہرہ ہی ڈھانپ دیا گیا ہے تاکہ وہ دیکھ ہی نہ سکے کہ ظلم کہاں ہو رہا ہے اور کس پر ہو رہا ہے ڈاکٹر یاسمین راشد ایک بیمار، نحیف وجود، کینسر سے لڑتی ہوئی ایک عورت، جو اپنے جسم کا بوجھ بھی مشکل سے اٹھا سکتی ہے ریاست کے لیے وہ اتنی خطرناک ہوگئی کہ اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالنا ضروری سمجھا گیا۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ وہ بے گناہ ہیں یا نہیں سوال یہ ہے کہ کیا ہم اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ بیماری بھی ہمیں رحم دل نہیں بنا سکتی یا ایک ضعیف عورت کے لئے ذرا بھی دل میں رحم نہیں سوچیں کیا ہم مسلمان کہلانے کے حقدار ہیں۔

مریم نواز کی تقاریر میں خواتین کا ذکر بڑے جوش سے آتا ہے، مگر شاید کچھ خواتین ایسی بھی ہیں جو تقریروں کی روشنی میں نظر نہیں آتیں۔ کیونکہ وہ مخالف صف میں کھڑی ہیں یہ وہ اندھا کونہ ہے جہاں اصول جا کر مر جاتے ہیں انتقام بھڑک اٹھتا ہے۔ ہماری جیلیں عجیب جگہیں بن چکی ہیں یہاں صرف مجرم نہیں، نظریات بھی قید ہیں یہاں صرف بدن نہیں آوازیں بھی بند کی جاتی ہیں اور سب سے بڑھ کر یہاں انصاف کو لمبی نیند سلا دیا گیا ہے یہ نظام، جو خود کو قانون کا رکھوالا کہتا ہے دراصل ایک خاموش انتقام کی مشین بنتا جا رہا ہے یہاں فیصلے کم، پیغامات زیادہ دیے جاتے ہیں اور پیغام سادہ ہے جو ہمارے ساتھ نہیں وہ محفوظ بھی نہیں مگر تاریخ کا ایک عجیب مزاج ہے یہ کبھی کسی کے ساتھ مستقل وفادار نہیں رہتی آج جو خاموش ہیں کل ان کی باری بھی آ سکتی ہے۔

سوچنے کی بات صرف یہ ہے کہ جب انصاف مر جائے تو ریاست کتنے دن زندہ رہتی ہے اس پر غور کرنا ہے وقت سفا ایک جیسا نہیں رہتا مکافات کے عمل سے ہر کسی نے گزرنا ہے کوئی وقت سے پہلے کوئی ذرا وقفے کے بعد باری ضرور آتی ہے۔

Check Also

Dehshat Gardon Ki Muzammat Ghair Mashroot Karen

By Amir Khakwani