Zara Nam Ho To
ذرا نم ہو تو

فی زمانہ ہر انسان کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ آئے روز کوئی نہ کوئی ایسا المیہ عالمی سطح پر جنم لیتا رہتا ہے۔ جس سے ہماری پہلے سے سکڑی سمٹی معیشیت مزید دباؤ میں آ جاتی ہے اور ہمارے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں۔ بیروزگاری کا جن ہمیشہ بوتل سے باہر نظر آتا ہے۔ گہرائی میں جائیں تو ہمیں بہت سی وجوہات کا علم ہو سکتا ہے۔ کسی بھی ملک کی اکانومی میں سمال انڈسٹری کا اہم رول ہوتا ہے۔
ہمارے اداروں کی عدم توجہی سے خاطر خواہ فوائد نہیں مل رہے۔ حالانکہ ہمارے ہمسایہ ملک چین کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ سرخ فیتے ہٹا کر ہی ہم ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔ ہماری بنیادی طریقہ تعلیم، سلیبس، امتحانی نظام میں خرابیاں ہیں۔ جب تک ہر بچے کی نفسیات اورعلاقے کی مناسبت ملکی ضروریات کے مطابق اپنے بچوں کو گروم نہیں کریں گے۔ رزلٹ نہیں لے سکتے ہیں۔ ہر بچہ سی ایس ایس، ڈاکٹر انجنئیر نہیں بن سکتا ہمارا سارا زور رٹو توتابنانا اور نمبر گیم کی حد تک کامیابی کو معیار بنانا ہے۔ جو سراسر نقصان کا سودا ہے۔ ہم اسی تعلیمی نظام اسی سلیبس اسی غلامانہ دور حکومت کے نظام کو لے کر چل رہے ہیں جو صرف دفتر میں بابو کی سیٹ پر بیٹھ سکے۔
ابھی حال ہی میں سی ایس ایس کا رزلٹ قلعی کھول دیتا ہے۔ گریجوایشن کے بعد جو جتنا توتا رٹو وہ اتنا ہی کامیاب اور اس کو ملک کے کسی بھی محکمے میں جب سرکار چاہے فٹ کر دے اور وہ ملک کے اداروں سے جو کھلواڑ چاہے کرے۔ خدارا کچھ نیا سوچئیے کھڑا پانی بھی ایک جگہ رک جائے تو بدبو دار ہو جاتا ہے۔ اب یہ نظام بدبودار ہو چکا ہے۔ انگریزوں نے یہ نظام لوگوں کو غلام رکھنے کے لئے بنایا تھا اس غلامانہ نظام سے جان چھڑائیں۔
اسی کی دہائی تک سائیکل ہماری زندگی میں شامل تھا۔ ایک پوری انڈسٹری تھی۔ آج بھی ترقی یافتہ اقوام میں سائیکل ایک بھرپور سواری کے طور پر سڑکوں پر نظر آتی ہے۔ ہم دوبارہ اس کو کیوں پیروں پر کھڑا نہیں کر سکتے سائیکل کی سواری صحت کے ساتھ ساتھ ماحول دوست فیول کی بچت میں اہم رول ادا کر سکتی ہے، میڑک تک کے بچوں کو پابند کیا جائے کہ وہ صرف سائیکل پر اسکول آئیں۔ سڑک پر الگ سے ٹریک بنا دیا جائے۔ کچھ ممالک میں سائیکلز بطور کرایہ پر دستیاب ہوتی ہیں۔ ہم وہ میکانزم اپنا سکتے ہیں۔ جس سے اس مہنگائی کے دور میں کرایہ اور فیول کی بچت ہوگی۔
موٹر سائیکل اب ہر گھر کی ضرورت اسی ایک انڈسٹری سی ہم بیروزگاری کے جن کو بوتل میں بند کر سکتے ہیں۔ اندازہ کریں جب ایک موٹر سائیکل سروس کے لئے آتی ہے تو کتنے لوگوں کا روز گار اس سے چلتا ہے۔
مکینک، الیکڑیشن، سپیر پارٹ، مو بو آئل، خرادیہ، ویل بیلسنگ، نمبر پلیٹ مینو فیکچر، سروس اسٹیشن، ڈیکوریشن یہ سب کام ایک موٹر سائیکل کی سروس کے دوران پیش آتے ہیں اور ہر کوئی اپنی استعداد کے مطابق اپنی روزی لے کر جاتا ہے۔ اسی ایک کام کو اگر سلیبس کا حصہ بنا دیا جائے۔ جو بچے زیادہ تعلیم نہیں حاصل نہیں کر سکتے ہم ان کو ایک اچھا روزگار دے سکتے ہیں۔ یہ بطور مثال دی ہے۔ اس طرح کے سینکڑوں سمال بزنس بطور مضمون اور ٹریننگ شامل کرکے ہم ملک و قوم کی ترقی میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ شاید علامہ اقبال نے اسی موقع کے لئے شعر ارشاد کیا تھا
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

