Thursday, 07 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Amir Khakwani
  3. Dehshat Gardon Ki Muzammat Ghair Mashroot Karen

Dehshat Gardon Ki Muzammat Ghair Mashroot Karen

دہشت گردوں کی مذمت غیر مشروط کریں

ہم اخبارنویس ہیں، کام ہی خبروں کا ہے، آج کل اخبار میں باقاعدہ کام نہیں کر رہا، ورک فرام ہوم چل رہا اور زیادہ تر کالم نگاری ہی ہے، مگر خبروں کی دنیا سے دور نہیں۔ روزانہ کئی اخبار، جرائد، ویب سائٹس پڑھتے ہیں۔ ٹی وی اور سوشل میڈیا سے خبریں بھی برستی رہتی ہیں۔ اچھی، بری، دل شاد کرنے والی، تکلیف دہ ہر قسم کی خبریں۔ بعض خبریں مگر دل پر ایسے گرتی ہیں جیسے پتھر پانی میں گرے اور دیر تک لہریں اٹھتی رہیں۔ اتمان زئی، چارسدہ میں شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کی شہادت کی خبرایسی ہی ایک خبر تھی۔ اس نے ہلا کر رکھ دیا۔

مولانا ادریس صاحب کوئی معمولی آدمی نہیں تھے۔ دو بڑے مدارس میں شیخ الحدیث تھے، ڈھائی ہزار کے قریب طلبہ ان سے حدیث کا درس لیتے تھے۔ استاد الاساتذہ کا لقب ایسے ہی نہیں ملتا۔ ان کے خاندان کے کئی لوگ دینی علوم سے وابستہ تھے۔ وہ چارسدہ کے نامور عالم مولانا حسن جان شہید کے داماد تھے، وہی مولانا حسن جان جنہوں نے جرات سے ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کے خلاف آواز اٹھائی اور اپنے ہی ایک بدبخت شاگرد کی غداری سے شہید ہوئے۔ گویا شہادت اس خاندان کا مقدر ٹھہری۔ مولانا ادریس جے یوآئی ف کے ضلعی امیر، مرکزی شوریٰ کے رکن، مولانا فضل الرحمن کے قریبی ساتھی اور سابق رکن صوبائی اسمبلی تھے، یعنی ایک مکمل اور قد آور شخصیت۔

سوال یہ ہے کہ آخر قصور کیا تھا مولانا ادریس صاحب کا؟ پتہ چلا کہ کچھ عرصہ قبل انہوں نے جمعہ کے خطبے میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے حوالے سے چند اچھے مثبت جملے بول دئیے۔ بس اتنی سی بات۔ اس کے بعد ایسا طوفان اٹھا کہ اللہ کی پناہ۔ موجودہ حکومت سے ناراض سیاسی حلقے بھی ناخوش ہوئے، پشتون قوم پرستوں نے زہریلے تیر چلائے۔ سب سے بڑھ کر مگر ٹی ٹی پی کے خوارج اور ان کے ہمدرد حلقے تلملائے۔ انہیں یہ تکلیف کہ ایک بڑا عالم دین ریاست کے ساتھ اعلانیہ کھڑا ہوگیا ہے۔ سب سے دردناک یہ کہ افغانستان سے بھی لوگ مولانا صاحب کو نشانہ بنانے لگے، حالانکہ افغان طالبان کے امیر ملا ہبت اللہ سے ان کے ذاتی مراسم تھے۔ اطلاعات کے مطابق بعض افغان طالبان وزرا بھی مولانا ادریس کے شاگردوں میں سے ہیں، افسوس کہ یہ بدنصیب شاگرد بھی ان ظالموں کو نہ روک سکے جنہوں نے ایک بڑے عالم، بڑے استاد کو خون میں نہلا دیا۔

سچی بات یہ ہے کہ اس پوری صورتحال کا مجھے تفصیل سے علم مفتی عبدالرحیم صاحب کی ایک ویڈیو سے ہوا۔ مفتی صاحب نے دس بارہ دن قبل کھل کر اور بڑی جرات کے ساتھ اس مہم کی مذمت کی اور افغان قیادت سے بھی اپیل کی کہ اپنی صفوں کو روکیں۔ مفتی صاحب نے اپنی مومنانہ فراست سے بھانپ لیا تھا کہ یہ مہم کہاں جا کر رکے گی۔ شاید اسی کے بعد مولانا صاحب کو دو سکیورٹی اہلکار دیے گئے، مگر وہ ناکافی رہا۔

یہ واقعہ بہت اہم اور آنکھیں کھول دینے والا ہے، اسے سمجھنا ضروری ہے۔ مولانا ادریس صاحب کی شہادت کوئی الگ تھلگ واردات نہیں، یہ اس خوفناک سلسلے کی ایک کڑی ہے جو خوارج نے علما، اساتذہ، سیکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں کے خلاف شروع کر رکھا ہے۔ ان بدبختوں کے ہاں کوئی دلیل ہے، نہ منطق، نہ عقل۔ ان کا واحد ہتھیار دینی حلقے اور عوام الناس میں خوف، جبر پھیلانا اور اندھا دھند خون بہانا ہے۔ بدنصیبی یہ ہے کہ یہ دہشت گرد ود کو اسلام کا ٹھیکیدار سمجھتے ہیں مگر اسلام میں علما کا مقام کیا ہے، یہ انہیں شاید کبھی معلوم نہیں ہوا۔ علما قرآن و سنت کے محافظ ہیں، اخلاق و اقدار کے نگہبان ہیں، معاشرے کا ضمیر ہیں۔ ان پر حملہ کوئی سیاسی اختلاف نہیں، یہ اسلام کی روح پر حملہ ہے۔ جو لوگ علما کو اس طرح نشانہ بناتے ہیں، وہ خود ثابت کر دیتے ہیں کہ ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، یہ خوارج ہیں، فتنہ ہیں اور انہیں فتنہ ہی کہنا چاہیے۔

مولانا ادریس صاحب نے اپنی حق گوئی اور صاف گوئی کی قیمت جان سے ادا کی۔ یہ شہادت ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ اللہ انہیں جنت الفردوس عطا فرمائے اور انہیں ان سے پہلے شہید ہونے والے عظیم علما کی صف میں بلند مقام دے۔

ایک اہم سوال البتہ ہم سب کو اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے۔ جو لوگ آج آنسو بہا رہے ہیں، تعزیتی پوسٹیں لگا رہے ہیں، جب مولانا صاحب کے خلاف وہ گھٹیا اور خوفناک مہم چل رہی تھی تب یہ کہاں تھے؟ کیوں ان کی زبانیں اس وقت بند رہیں؟ خاموشی بھی ایک رویہ ہے اور بعض اوقات یہ رویہ جرم کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ وہ علما بھی اس سانحے کے بالواسطہ ذمہ دار ہیں جو ان خوارج کو مختلف تاویلیں فراہم کرتے، حیلوں بہانوں سے ان کے لیے کلمہ خیر کہتے اور اس طرح دہشت گردی کی آبیاری کرتے رہتے ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ آگ ایک دن ان کے دامن تک بھی پہنچ سکتی ہے۔

افغان طالبان سے بھی پوچھنا ہے۔ ایک طرف اسلامی حکومت کا دعویٰ، دوسری طرف اپنے ہم مسلک ممتاز عالم دین کو بھیڑیوں کے آگے ڈال دیا۔ افغان طالبان اور ان کے امیر مولانا ہبت اللہ نے اپنی زمین سے چلنے والی مہم روکی، نہ ان دہشت گرد گروہوں پر ہاتھ ڈالا جن کے وہ براہ راست سرپرست ہیں۔ جو حکومت علما کو اس طرح درندوں کے آگے بے یارومددگار چھوڑ دے، اسے اسلامی حکومت کا نام دینا ایک شرمناک دعویٰ ہی کہا جا سکتا ہے۔ اب کہا جا رہا ہے کہ افغان سوشل میڈیا پر بعض بدبخت اس شہادت پر خوشیاں منا رہے ہیں۔ یہی وہ افغان طالبان ہیں جن کی ہم نے اتنے عرصے تک حمایت کی۔ تب اندازہ نہیں تھا کہ یہ اس قدر محسن کش اور کم ظرف نکلیں گے۔

صوبائی حکومت کی بات بھی ضروری ہے۔ جب مولانا صاحب کے خلاف اتنی خوفناک مہم چل رہی تھی، جب مفتی عبدالرحیم صاحب جیسے شخص نے علی الاعلان خطرے کا ذکر کیا، تب محض دو اہلکار کافی سمجھے گئے؟ ایسے قیمتی انسان کے لیے بلٹ پروف گاڑی اور مکمل سیکیورٹی دستہ کیا بہت بڑا مطالبہ تھا؟ پختون خوا میں دینی شخصیات کی شہادتوں کا سلسلہ رکنے میں نہیں آ رہا اور صوبائی پولیس کی کارکردگی ہر بار سوالیہ نشان بن کر رہ جاتی ہے۔

جو لوگ آج ماتم کر رہے ہیں اور کل خاموش تھے، ان کے لیے ایک بات، شہادت پر آنسو بہانا کافی نہیں۔ جو آگ آج کسی اور کے گھر لگی ہے، کل کسی بھی دروازے پر دستک دے سکتی ہے، خاموش رہنے والوں کے دروازے سمیت۔ دہشت گردوں کو کسی بھی قسم کی تاویل اور عذر کی رعایت دینا بھی ان کی سہولت کاری ہے۔ اس لئے سب مل کر، متحد ہو کر فتنتہ الخوارج کے خلاف کھڑے ہوں۔ ان کی غیر مشروط مذمت کریں، ان کے تمام سہولت کاروں کو ایکسپوز کریں۔

Check Also

Operation Bunyan Ul Marsoos (4)

By Javed Chaudhry