Zindagi Aik Kharab Lock Hai
زندگی ایک خراب لاک ہے

رات گئے ایک جگہ دعوت سے واپسی ہوئی۔ پاکستانی دعوتیں دو حصوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔ ایک کھانا اور دوسرا میزبان کے ہزار اصرار کے باوجود آخرکار اٹھنے کی کامیاب کوشش۔ ہم بھی تقریباً آدھی رات کے قریب گھر پہنچے۔ لیکن جیسے ہی مرکزی دروازے پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ لاک سو چکا ہے۔ چابی گھومنے سے انکاری تھی اور اوپر سے بجلی بھی غائب۔ یعنی حالات مکمل طور پر قومی منظرنامے میں ڈھل چکے تھے۔ اندھیرا، پریشانی اور ذمہ داری کسی پر نہیں۔ میں نے فوراً گاڑی کے ڈیش بورڈ سے ٹارچ نکالی بیگم صاحبہ نے ٹارچ مجھے تھمائی اور خود لاک کھولنے میں مصروف ہوگئیں۔
خاصی دیرگزر گئی لیکن لاک تھا کہ کھلنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ بیگم صاحبہ کا پارہ ساتویں آسمان کو چھونے لگا پھر انہوں نے ٹارچ خود پکڑ لی اور مجھے کہا کہ آپ ٹرائی کریں۔ میں نے کوشش کی تو لاک فوراً کھل گیا۔ جیسے ہی دروازہ کھلا وہ مجھ پر برس پڑیں۔ کہنے لگی "اب پتا چلا کہ ٹارچ کیسے پکڑتے ہیں؟" گھر داخل ہونے کے پندرہ منٹ بعد تک وہ مسلسل کہتی رہیں کہ آپ نے جان بوجھ کے ٹارچ غلط پکڑی تھی تاکہ مجھ سے دروازہ نہ کھل سکے۔ آپ جان بوجھ کر غلط روشنی ڈال رہے تھے! آخر کار مجھے اپنی غیر ذمہ داری کا اعتراف کرنا ہی پڑا۔ یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں انسان کو اندازہ ہوتا ہے کہ گھریلو سیاست میں سچ سے زیادہ اہم امن و استحکام ہوتا ہے۔
یوں بھی موسم گرما کا آغاز ہے۔ گھریلو کے ساتھ قومی سطح پر بھی مئی کا ہر گزرتا دن گرم سے گرم تر ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نو اور دس مئی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ نو مئی عسکری تاریخ کا ہولوکاسٹ ہے اور دس مئی عسکری تاریخ کا ڈی ڈے۔ D Day وہ دن جب اتحادی فوجیں ہٹلر کو شکست دینے نارمنڈی فرانس کے ساحل پر اُتر گئیں تھیں۔ تمام شادی شدہ دوستوں کو بالخصوص اور غیر شادی شدہ لوگوں کو بالعموم میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ مئی کے مہینے میں کسی بھی طاقت کے مرکز سے پنگا نہ لیں۔ گھر میں طاقت کا مرکز بیگم ہوتی ہیں اور باہر والے مرکز کا نام لینے سے بھی لوگ احتیاط کرتے ہیں۔ دونوں جگہ ایک ہی اصول نافذ ہے کہ اظہارِ رائے آپ کا حق ضرور ہے لیکن اس کے نتائج کے ذمہ دار آپ خود ہوں گے۔
مئی کو گزر جانے دیں۔ جون اور جولائی ویسے ہی بال بچوں والے پر بلز کی صورت بجلی بن کر گرتے ہیں۔ اگست میں بارشیں اور سیلاب آن پڑتی ہیں۔ ستمبر تبدیلی کا ماہ کہلاتا ہے لیکن کوئی خاص تبدیلی موسم اور حالات میں آتی نہیں ہے۔ اکتوبر تک کسی طرح سانس لینے اور جئیے جانے کی مشق میں دن گزاریں۔ اللہ بہتر کرے گا۔ ایک عام پاکستانی کی پوری زندگی دراصل ایک خراب لاک ہے جسے کھولنے کے لیے کبھی صحیح چابی نہیں ملتی اور اگر مل بھی جائے تو سرکاری یا غیر سرکاری سطح پر کوئی نہ کوئی یہ ضرور کہتا ہے قصور آپ کا ہی ہے، آپ نے ٹارچ ٹھیک نہیں پکڑی ہوئی۔

