Thursday, 07 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Anwar Bhatti
  4. Sach Ka Tanha Musafir Aur Jhoot Ki Patriyon Par Dagmagati Pakistan Railway

Sach Ka Tanha Musafir Aur Jhoot Ki Patriyon Par Dagmagati Pakistan Railway

سچ کا تنہا مسافر اور جھوٹ کی پٹریوں پر ڈگمگاتی پاکستان ریلوے

بندن میاں اُس روز ریلوے اسٹیشن کے اُس ویران پلیٹ فارم پر بیٹھے تھے جہاں شامیں ہمیشہ کسی تھکے ہوئے مسافر کی طرح خاموشی سے اترتی ہیں اور فضا میں ایسی اداسی چھوڑ جاتی ہیں جیسے وقت خود بھی یہاں آکر کچھ دیر کے لیے رک گیا ہو۔ پلیٹ فارم کے زرد بلب اپنی مدھم روشنی میں ٹمٹما رہے تھے اور ہوا میں زنگ آلود لوہے، دھوئیں اور پرانی یادوں کی ملی جلی مہک تیر رہی تھی۔

بندن میاں نے آہستہ سے نگاہ اٹھائی تو دیکھا کہ ایک مال گاڑی پٹریوں پر ایسے رینگتی ہوئی گزر رہی ہے جیسے کوئی بوڑھا مزدور عمر بھر کا بوجھ اپنی کمر پر اٹھائے آخری سفر طے کررہا ہو۔ مال گاڑی کی خستہ حال بوگیاں عجیب تھکے ہوئے انداز میں چرچراتی ہوئی آوازیں نکال رہی تھیں۔ کمزور اور جگہ جگہ سے بل کھائے ہوئے ٹریک کی وجہ سے ڈبے کبھی دائیں تو کبھی بائیں ہچکولے کھارہے تھے اور یوں محسوس ہورہا تھا جیسے ہر بوگی اپنے وجود کو سنبھالنے کی آخری کوشش کررہی ہو۔ انجن کی بھاری سانسیں فضا میں پھیل رہی تھیں اور اُس کی آواز میں ایک ایسا درد تھا جو صرف وہی محسوس کرسکتا تھا جس نے اس ادارے کو اپنی آنکھوں سے بکھرتے دیکھا ہو۔

بندن میاں نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور دھیرے سے بولا یہ ریل گاڑی ایسے ہی اس حال کو نہیں پہنچی۔ اس کی پٹریوں کا صرف فولاد ہی نہیں ٹوٹا بلکہ نیتیں بھی ٹوٹی ہیں۔ اس کے انجن صرف پرانے نہیں ہوئے بلکہ ضمیر بھی بوسیدہ ہوئے ہیں۔ اس تباہی کے پیچھے وقت نہیں بلکہ ابن الوقت لوگ ہیں۔ وہ لوگ جنہوں نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے ادارے کی بنیادیں کھوکھلی کردیں۔ کہیں اقربا پروری نے قابلیت کا گلا گھونٹا، کہیں سیاسی چال بازیوں نے ایماندار افسروں کو دیوار سے لگادیا، کہیں کام کرنے والوں کو ہٹا کر چاپلوس اور کام چور لوگوں کو اُن کی جگہ بٹھادیا گیا۔ جن ہاتھوں کو پٹریاں مضبوط کرنی تھیں وہی ہاتھ فائلوں کے نیچے سودے کرتے رہے۔ جن آنکھوں کو حادثات روکنے تھے وہ سفارشوں کی چمک میں اندھی ہوگئیں۔ جن لوگوں کو ادارے کا محافظ ہونا چاہیے تھا وہی اُس کی جڑیں کھوکھلی کرتے رہے۔

بندن میاں بولے ریلوے جیسے ادارے ایک دن میں تباہ نہیں ہوتے بلکہ یہ ادارے اُس وقت مرتے ہیں جب اُن کے اندر سے محبت ختم ہوجاتی ہے۔ جب ڈیوٹی صرف تنخواہ بن جائے، فرض صرف حاضری تک محدود ہوجائےاور سچ بولنے والے کو پاگل سمجھا جانے لگے تو پھر پٹریاں بھی کمزور پڑجاتی ہیں۔ مال گاڑی کےڈبے اور مسافر کوچیں بھی ہچکولے کھانے لگتی ہیں اور انجن بھی راستے بھولنے لگتے ہیں۔ محبت صرف کسی انسان سے نہیں ہوتی، محبت اپنے فرض سے بھی ہوتی ہے، اپنے ادارے سے بھی ہوتی ہے، اُس مٹی سے بھی ہوتی ہے جہاں انسان اپنی جوانی کھپادیتا ہے اور سچا انسان جب کسی ادارے سے محبت کرتا ہے تو پھر وہ اُس کے زخم بھی اپنے سینے پر محسوس کرتا ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ اُس کی محبت سرِبازار رسوا ہو۔ وہ نہیں چاہتا کہ اُس کے ادارے کی پیشانی پر ناکامی کا داغ لگے۔ اسی لیے وہ ہر اُس طاقت کے سامنے کھڑا ہوجاتا ہے جو ادارے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ سچ بولنے کی قیمت بہت بھاری ہوتی ہے مگر پھر بھی خاموش ضمیر کے ساتھ جینے کے بجائے زخمی سچ کے ساتھ کھڑا رہنا پسند کرتا ہے۔

بندن میاں بولے میں نے اپنی آنکھوں سے ایسے لوگ دیکھے ہیں جنہوں نے اس ادارے سے عشق کیا۔ ایسا عشق جس میں نہ شہرت تھی نہ فائدہ، نہ ترقی کی امید تھی نہ کسی انعام کی خواہش۔ وہ صرف یہ چاہتے تھے کہ پاکستان ریلوے کی سانسیں چلتی رہیں اس کی پٹریوں پر سفر کی امید زندہ رہے اس کے اسٹیشن آباد رہیں اس کے سگنل روشن رہیں اور مسافر با حفاظت اپنی منزل مقصود تک پہنچے رہیں۔ وہ جانتے تھے کہ اگر ادارہ گرا تو صرف عمارتیں نہیں گریں گی بلکہ ہزاروں خاندانوں کے چولہے بھی بجھ جائیں گے لاکھوں لوگوں کا باحفاظت اور آرام دہ سفر رک جائے گا قوم کا اعتماد مرجائے گا۔ اسی لیے وہ ہر اُس طاقت کے سامنے کھڑے ہوگئے جو ریلوے کو نقصان پہنچانا چاہتی تھی۔

بندن میاں بولے سچا ملازم بہت عجیب ہوتا ہے۔ وہ اپنے افسر کے سامنے بھی سچ بول دیتا ہے یونین کے دباؤ میں بھی نہیں آتا، سفارشوں کے سامنے بھی نہیں جھکتا اور دھمکیوں سے بھی نہیں ڈرتا۔ اُس کے دل میں صرف ایک چیز ہوتی ہے اور وہ ہوتی ہے ادارے سے محبت۔ وہ جانتا ہے کہ اگر خاموش رہا تو آنے والی نسلیں اُسے کبھی معاف نہیں کریں گی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی نوکری کی پرواہ کیے بغیر میدان عمل میں اتر آتا ہے۔ کبھی اُس کا تبادلہ کردیا جاتا ہے، کبھی اُس کی خفیہ رپورٹ خراب کردی جاتی ہے، کبھی اُس پر جھوٹے الزامات لگادیے جاتے ہیں، کبھی اُسے تنہا کردیا جاتا ہےمگر وہ پھر بھی خاموشی کے ساتھ اپنے سچ پر قائم رہتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وقتی شور ہمیشہ جھوٹ کا ہوتا ہے اور مستقل سکون ہمیشہ سچ کے حصے میں آتا ہے۔

بندن میاں نے چائے کا آخری گھونٹ لیا اور آہستہ سے مسکرائے۔ بولے محبت کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ سچا انسان اپنی محبت کو بچانے کے لیے خود بدنام ہوجاتا ہے۔ بندن میاں اس بات کا گواہ ہے کہ ریلوے کے کئی ایماندار ملازمین ایسے گزرے ہیں جنہوں نے ادارے کی عزت بچانے کے لیے اپنی عزت قربان کردی۔ وہ جانتے تھے کہ اگر وہ بول پڑے تو بہت سے چہرے بے نقاب ہوجائیں گے، بہت سے طاقتور لوگ ننگے ہوجائیں گے، بہت سے محل زمین بوس ہوجائیں گے۔ مگر انہوں نے ادارے کی ساکھ بچانے کے لیے خاموشی اختیار کرلی۔ دنیا نے اُنہیں پاگل پن کا نام دیا، کمزور سمجھا، بزدل کہا، ناکام کہامگر حقیقت یہ تھی کہ وہ اپنی ذات کو قربان کرکے اپنے ادارے کو بچارہے تھے۔

بندن میاں بولے تم نے کبھی غور کیا کہ درخت ہمیشہ پھل آنے کے بعد پتھر کھاتا ہے۔ بے کار درخت پر کوئی پتھر نہیں مارتا۔ اسی طرح سچا ملازم ہمیشہ نشانے پر رہتا ہے کیونکہ وہ اُن لوگوں کے راستے میں کھڑا ہوجاتا ہے جو ادارے کو لوٹنا چاہتے ہیں۔ ایک چور کو سب سے زیادہ خطرہ پولیس سے نہیں بلکہ ایک ایماندار انسان سے ہوتا ہے کیونکہ ایماندار آدمی کبھی بک نہیں سکتا اور جس انسان کو خریدا نہ جاسکے وہ ہمیشہ طاقتور لوگوں کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔

بندن میاں نے اپنی چھڑی زمین پر ماری اور بولے پاکستان ریلوے صرف ویگنوں، کوچنگ بوگیوں، انجنوں اور پٹریوں کا نام نہیں یہ لاکھوں خوابوں کی تعبیر ہے۔ یہاں ایک سگنل مین کی غلطی سینکڑوں جانیں لے سکتی ہے ایک کلرک کی دیانت ہزاروں روپے بچاسکتی ہے ایک اسٹیشن ماسٹر، ایک کانٹے والےایک گینگ مین اور ایک ڈرائیور کی ذمہ داری، لگن، محنت اور ایمانداری پورے سفر کو محفوظ بناسکتی ہے۔ مگر افسوس یہ ہے کہ ہم نے ہمیشہ ایماندار آدمیوں کو تنہا چھوڑ دیا۔ ہم نے اُن لوگوں کو ترقی دی جو خوشامد جانتے تھےاور اُن لوگوں کو سزا دی جو سچ بولتے تھے۔

بندن میاں بولے مگر تاریخ گواہ ہے کہ جھوٹ وقتی طور پر طاقتور ضرور ہوجاتا ہے مگر مستقل نہیں رہتا۔ سچ کا سفر آہستہ ضرور ہوتا ہے مگر وہ کبھی رکتا نہیں۔ میں نے ایسے افسر دیکھے جو اپنی کرسی کے نشے میں ایماندار ملازمین کو ذلیل کرتے رہے اُنہیں دور دراز علاقوں میں پھینکتے رہے اُن کی تنخواہیں روکتے رہے مگر وقت نے ایک دن اُنہیں بھی تنہا کردیا۔ کرسی چلی گئی، طاقت ختم ہوگئی، چاپلوس ساتھ چھوڑ گئے مگر دیانت دار اور سچے لوگ آج بھی لوگوں کی دعاؤں میں زندہ ہیں۔

بندن میاں کی آنکھیں نمی سے بھرگئیں۔ بولے اصل محبت وہ نہیں جو صرف آسان دنوں میں ساتھ رہے اصل محبت وہ ہے جو مشکل وقت میں بھی وفادار رہے۔ ایک سچا ریلوے ملازم جب رات کے اندھیرے میں پٹریوں کا معائنہ کرتا ہے جب جھلسا دینے والی گرمی میں تپتے ہوئے انجن کے ساتھ کھڑا رہتا ہے جب ایک سگنل مین بارش میں سگنل چیک کرتا ہےجب ایک سنسان و بیابان جگہ پر قائم اسٹیشن پر تمام تر خطرات کے باوجود بے خوف ہوکر ایک اسٹیشن ماسٹر، ایک کانٹے والا، ایک گارڈ اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتا ہے تو وہ صرف نوکری نہیں کررہا ہوتا بلکہ اپنے ادارے سے عشق نبھارہا ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اُس کی ایک ذرا سی غفلت سے کوئی بھی ٹرین حادثے کا شکار ہوگئی تو نہ صرف لوگ مریں گے۔ بلکہ ریلوے کی ساکھ بھی زخمی ہوگی۔ اسی لیے وہ اپنی نیند، اپنی صحت، اپنی خوشیاں سب قربان کردیتا ہے۔

بندن میاں بولے محبت انسان کو خاموش کردیتی ہے۔ سچا ملازم چیخ چیخ کر اپنی صفائیاں نہیں دیتا کیونکہ اُسے اپنے سچ پر یقین ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر اُس نے ہر الزام کا جواب دینا شروع کردیا تو اُس کا مقصد کہیں کھوجائے گا۔ اسی لیے وہ صبر کرتا ہے۔ وقت کے تھپیڑے کھاتا ہے، تنہائی سہتا ہے، لوگوں کی نفرت برداشت کرتا ہے مگر اپنے قدم پیچھے نہیں ہٹاتا۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر آج وہ جھک گیا تو کل پورا ادارہ جھک جائے گا۔

بندن میاں نے آسمان کی طرف دیکھا اور بولے اللہ بھی اُنہی لوگوں کو آزمائش دیتا ہے جن میں برداشت کی طاقت ہوتی ہے۔ ایک ایماندار ملازم کی سب سے بڑی آزمائش یہی ہوتی ہے کہ وہ حق پر رہتے ہوئے بھی بدنام کردیا جاتا ہے۔ اُس کے خلاف افواہیں پھیلائی جاتی ہیں اُسے ضدی کہا جاتا ہے اُسے نالائق ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے مگر اندر سے وہ جانتا ہوتا ہے کہ اُس کی نیت صاف ہے اور جس انسان کی نیت صاف ہو اُسے وقتی ہار سے ڈر نہیں لگتا۔

بندن میاں بولے ریلوے کے کئی محکمے ایسے ہیں جہاں اگر ایک آدمی بھی بیدار ہوجائے تو پورا نظام بدل سکتا ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ لوگ محبت چھوڑ چکے ہیں۔ آج ہر شخص صرف اپنی تنخواہ، اپنے الاونس، اپنی ترقی اور اپنے فائدے کے بارے میں سوچتا ہے۔ ادارہ تباہ ہورہا ہو تو ہوتا رہے پٹریاں ٹوٹ رہی ہوں تو ٹوٹتی رہیں انجن خراب ہورہے ہوں تو ہوتے رہیں ٹرینیں پٹری سے اتر رہی ہوں تو اترتی رہیں ٹرینیں آپس میں ٹکرا رہی ہوں تو ٹکراتی رہیں بس انکی اپنی جیب بھرتی رہنی چاہیے اور یہی سوچ کسی بھی ادارے کو اندر سے کھوکھلا کردیتی ہے۔

بندن میاں نے کہا مگر ابھی بھی امید باقی ہے کیونکہ کچھ لوگ آج بھی ایسے ہیں جو ریلوے کو صرف نوکری نہیں سمجھتے بلکہ اپنی پہچان سمجھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر ادارہ زندہ رہے گا تو اُن کی عزت بھی زندہ رہے گی۔ وہ آج بھی ہر دباؤ کے باوجود سچ بولتے ہیں ہر خطرے کے باوجود حق کا ساتھ دیتے ہیں ہر دھمکی کے باوجود اپنی ڈیوٹی محبت، ایمانداری اور لگن کے ساتھ سر انجام دیتے ہیں۔ وہ شاید کم ہیں مگر یہی لوگ اس ادارے کی آخری سانسیں ہیں۔ بندن میاں خاموش ہوگئے۔ پلیٹ فارم پر شام مزید گہری ہوگئی تھی۔ دور سے آتی ہوئی ٹرین کی روشنی اندھیرے کو چیرتی ہوئی قریب آرہی تھی۔

بندن میاں نے اپنی ٹوپی اتاری، اپنے سفید بالوں پر ہاتھ پھیرا اور دھیرے سے بولے بیٹا یاد رکھنا محبت کبھی کمزوری نہیں ہوتی بلکہ اصل کمزوری بے وفائی ہوتی ہے۔ سچا انسان اگر محبت میں ٹوٹ بھی جائے تب بھی وہ جھوٹے انسان سے بڑا ہوتا ہے کیونکہ اُس نے کم از کم اپنا ضمیر نہیں بیچا ہوتا اور پاکستان ریلوے جیسے ادارے آج بھی اُنہی لوگوں کے سہارے کھڑے ہیں جو اپنی ذات سے زیادہ اپنے فرض سے محبت کرتے ہیں۔ وہ لوگ جو سزا سے نہیں ڈرتے، تبادلے سے نہیں گھبراتے، تنہائی سے نہیں ٹوٹتےاور الزاموں سے نہیں بکھرتے بلکہ وہ خاموش رہ کر بھی ایک جنگ لڑتے ہیں۔ ایک ایسی جنگ جس میں اُن کے پاس نہ دولت ہوتی ہے نہ طاقت ہوتی ہے صرف اور صرف سچ ہوتا ہے اور دنیا کی ہر طاقت مل کر بھی اُس انسان کو شکست نہیں دے سکتی جس کے دل میں سچ زندہ ہو اور جس کی روح اپنے ادارے سے عشق کرتی ہو۔

Check Also

Kohsar University Pe Akhri Mazmoon

By Muhammad Idrees Abbasi