Shaitan, Hormones Aur Khoon Ka Fasad
شیطان، ہارمونز اور خون کا فساد

قرآنِ کریم نے جب سود خوروں کی مثال دی تو ایک ایسی آفاقی حقیقت سے پردہ اٹھایا جس کی گہرائی تک پہنچنا انسانی عقل کے لیے ایک چیلنج تھا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ سود کھانے والے قیامت کے دن اس شخص کی طرح کھڑے ہوں گے جسے شیطان نے چھو کر باولا (مخبط) کر دیا ہو۔ یہاں "چھونے" اور "باولا" کرنے کی اصطلاح کوئی معمولی بات نہیں، بلکہ یہ انسانی وجود پر ایک ایسی بیرونی دسترس کا بیان ہے جو اسے ہوش و حواس سے بیگانہ کر دیتی ہے۔ اسی طرح نبی کریمﷺ کا یہ فرمان کہ شیطان انسان کے خون میں اس طرح دوڑتا ہے جیسے گردشِ لہو، اس حقیقت پر مہر ثبت کرتا ہے کہ شیطان کا حملہ محض باہر سے نہیں بلکہ انسانی وجود کے اندرونی نظام تک رسائی رکھتا ہے۔
لیکن یہ شیطان ہے کیا؟ میرا فلسفہ یہ ہے کہ شیطان دراصل ایک آفاقی نفس (Universal Ego) کا نام ہے۔ یہ محض کسی مخصوص جن یا انسان کی ذات نہیں، بلکہ ایک ایسی سرکش توانائی ہے جس نے خود ابلیس کو بھی ابلیس بنایا۔ جب یہ آفاقی نفس کسی وجود کو "چھوتا" ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کے سوچنے سمجھنے کے تسلسل میں دست درازی کرتا ہے۔ قرآن میں جتنے بھی اخلاقی زوال کے واقعات ہیں، وہ دراصل اسی نفسانی کیفیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والا باولا پن ہے، جہاں انسان اپنی جبلتوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنی انسانیت کھو بیٹھتا ہے۔
آج کی جدید سائنس اس قرآنی اور نبوی حقیقت کو بائیو کیمیکل ہیکنگ کے طور پر دیکھتی ہے۔ جب حدیث کہتی ہے کہ وہ خون میں دوڑتا ہے، تو اس سے مراد وہ کیمیکلز اور ہارمونز ہیں جو شیطان کے وسوسوں کے نتیجے میں ہمارے خون میں شامل ہوتے ہیں۔ جب ہم بے احتیاطی کرتے ہیں، طہارت کا لحاظ نہیں رکھتے یا ناپاکی میں رہتے ہیں، تو ہم اپنے حیاتیاتی نظام کی فائر وال کو گرا دیتے ہیں۔ مثلاً نہانے کی جگہ پیشاب کرنے جیسی بظاہر چھوٹی بے احتیاطی بھی وسوسوں کے لیے ایک بڑا دروازہ کھول دیتی ہے، جس سے شیطان کو ہمارے خون کی کیمسٹری میں مداخلت کا راستہ مل جاتا ہے۔
شیطان (آفاقی نفس) مرد ہو یا عورت، اس کی اسی حس کو نشانہ بناتا ہے جو کمزور ہو۔ فحاشی اور پورن کی لت اسی ہیکنگ کی ایک بدترین شکل ہے۔ جب کوئی اس میں مبتلا ہوتا ہے، تو اس کے دماغ میں ڈوپامائن (Dopamine) کا سیلاب آ جاتا ہے جو اسے ایک باولا انسان بنا دیتا ہے۔ وہ اپنے ازواجی رشتوں اور پارٹنر کو دھوکہ دینے لگتا ہے کیونکہ اس کے ہارمونز کا توازن ہیک ہو چکا ہوتا ہے۔ اسی طرح دولت کا لالچ خون میں کورٹیسول (Cortisol) اور ایڈرینلائن (Adrenaline) کی مقدار بڑھا دیتا ہے، جو انسان کو مستقل بے چینی اور مادی ہوس میں مبتلا رکھتا ہے۔ غیبت، تجسس اور شک کے پیچھے وہ انزائمز (MAO) ہوتے ہیں جو انسان کے اندر وہم پیدا کرکے اسے معاشرے کے لیے ایک مخبط شخص بنا دیتے ہیں۔
چاہے احتلام ہو، دولت جمع کرنے کی حرص ہو، شوقِ غیبت و بہتان ہو یا رشتوں میں تجسس سے دراڑیں ڈالنا اور شک پیدا کرنا ہو، دراصل ان سب کا اصل محرک خون ہے جس میں موجود کیمیائی عدم توازن انسان کو نارمل رویوں سے دور لے جاتا ہے۔ اسی لیے ان تمام برائیوں سے نجات کے لیے خون کی صفائی اور اس کے کیمیائی توازن کی بحالی ضروری ہے۔
سائنس ان نفسیاتی امراض کا علاج صرف ادویات میں ڈھونڈتی ہے، لیکن اصل علاج اس ہیکنگ کو ختم کرنے اور خون کی صفائی میں ہے۔ جب تک خون کے اندر موجود وہ زہریلے کیمیکلز پاک نہیں ہوں گے، شیطان کی دسترس ختم نہیں ہوگی۔ اسی لیے جدید سائنس اب ان طریقوں کی طرف آ رہی ہے جو صدیوں سے مذہب کا حصہ رہے ہیں۔
آٹو فیجی (Autophagy): سائنسی طور پر جب انسان ایک طویل وقت تک بھوکا رہتا ہے، تو اس کے جسم کے خلیے اپنے اندر موجود زہریلے شیطانی مادوں اور ناکارہ پروٹین کو خود ہی ہضم کرکے خون کو صاف کر دیتے ہیں۔ تمام مذاہب میں اس عمل کو روزہ کہا جاتا ہے۔
ہائیڈرو تھراپی (Hydrotherapy): پانی کے مالیکیولز جب جسم کے مخصوص اعصابی مراکز پر لگتے ہیں، تو وہ خون کے اندر موجود الیکٹرک چارج کو متوازن کرکے کورٹیسول کے لیول کو نیچے لاتے ہیں اور ہیک شدہ اعصاب کو ری سیٹ کر دیتے ہیں۔ اسلام میں اسے وضو اور غسل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
نیورو پلاسٹی سٹی (Neuroplasticity): دماغ کے خلیوں میں پاکیزہ جملوں کی تکرار گناہ کے پرانے اعصابی راستوں کو بلاک کرکے سافٹ ویئر کو ری رائٹ کرتی ہے۔ اسے ہم ذکر اور تسبیح کہتے ہیں۔
الکلائن نیوٹریشن (Alkaline Nutrition): حلال اور طیب غذا خون کو تیزابیت سے پاک رکھتی ہے، جس میں شیطانی وائرس پرورش نہیں پا سکتے۔
سرکاڈین ردھم (Circadian Rhythm): انسانی جسم کے قدرتی کلاک کے مطابق صبح کی پہلی روشنی میں بیدار ہونا ہارمونز کے قدرتی کلاک کو بحال کرتا ہے۔ شریعت میں اسے نمازِ فجر اور سحر خیزی کہا جاتا ہے۔
اس پورے عمل کا مقصد انسان کو ایک متوازن انسان بنانا ہے، کیونکہ صاف خون ہی وہ مقام ہے جہاں الہامی سگنلز موصول ہوتے ہیں اور رحمانیت کا بسیرا ہوتا ہے۔ قرآن کی ابتدا میں انسان سورہ فاتحہ کے ذریعے اللہ سے گمراہ ہونے سے پناہ مانگتا ہے اور اللہ قرآن کے بالکل آخر میں، آخری سورہ کی آخری آیت میں یہ حقیقت کھول دیتا ہے کہ یہ وسوسے جو خون میں شیطان کی وجہ سے اٹھتے ہیں، چاہے وہ جنات میں سے ہوں یا انسانوں میں سے، در حقیقت خون اور جذبات سے ہی وسواس پیدا کرتے ہیں۔ ان سے بچنے کے لیے انسان کو صرف "رب الناس، الہ الناس اور ملک الناس" سے اپنا تعلق جوڑنا ہوگا۔ اس ایک سرکش نفس سے بچنے کے لیے اللہ نے اپنی تین عظیم صفات کا تعارف اسی لیے کرایا کہ شیطان کو خون میں دوڑنے کی دسترس حاصل ہے اور وہ یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ انسان اپنے رب کا نافرمان اور ناشکرا ہے۔
وہ چاہتا ہے کہ جیسے اس کے شیطان نے اس سے سجدے کی طاقت چھین لی، اسی طرح وہ انسان کے خون میں شامل ہو کر سجدہ ندامت کی طاقت انسان سے بھی چھین لے۔ بس جب غلطی ہوا کرے تو کوشش کریں سر جھک جائے۔

