Peche Ki Reh Jana?
پیچھے کی رہ جانا؟

کبھی کبھی ہم کوئی بات سنتے ہیں اور وہ بس کانوں سے گزر جاتی ہے، لیکن کبھی کوئی ایک لائن ایسی ہوتی ہے جو دل میں اتر جاتی ہے اور پھر وہیں ٹھہر جاتی ہے۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ میں ایک دن کوک اسٹوڈیو کا ایک گانا سن رہی تھی۔ سچ کہوں تو مجھے یہ بھی مکمل یقین نہیں کہ وہ قوالی تھی یا گانا اور گانے والے کا نام بھی مجھے ٹھیک سے یاد نہیں، لیکن اس میں ایک لائن تھی: "ساری خوشیاں مل جاون تے پیچھے کی رہ جانا؟"
یہ ایک جملہ تھا، مگر اس نے مجھے روک لیا۔ میں وہیں رک گئی اور سوچنے لگی کہ واقعی، اگر انسان کو سب کچھ مل جائے تو پھر کیا باقی رہ جاتا ہے؟
میں نے اس لائن پر غور کرنا شروع کیا۔ اپنی زندگی کو دیکھا، اپنے اردگرد کے لوگوں کو دیکھا۔ ہم سب کسی نہ کسی خوشی کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ کوئی کامیابی کو خوشی سمجھتا ہے، کوئی پیسے کو، کوئی رشتوں کو۔ ہم دن رات محنت کرتے ہیں، صرف اس امید میں کہ ایک دن ہمیں وہ سب مل جائے گا جو ہم چاہتے ہیں۔
لیکن پھر میں نے سوچا، اگر وہ دن آ بھی جائے؟ اگر واقعی سب کچھ مل جائے تو؟ کیا پھر دل مکمل ہو جائے گا؟ یا پھر کوئی نئی کمی جنم لے گی؟ یہی سوچ مجھے اندر تک ہلا گئی۔
میں نے محسوس کیا کہ خوشیاں شاید کبھی مکمل نہیں ہوتیں اور نہ ہی انسان کی خواہشیں ختم ہوتی ہیں۔ ایک خواہش پوری ہوتی ہے تو دوسری سر اٹھا لیتی ہے۔ شاید اسی لیے انسان ہمیشہ ایک تلاش میں رہتا ہے۔
پھر ایک اور بات میرے دل میں آئی کہ شاید زندگی کا حسن ہی اس "ادھورے پن" میں ہے۔ اگر سب کچھ مکمل ہو جائے تو نہ کوئی خواب باقی رہے گا، نہ کوئی دعا، نہ کوئی امید۔
اور سب سے بڑھ کر، میں نے یہ سمجھا کہ اصل سکون دنیا کی ہر خوشی میں نہیں، بلکہ اس تعلق میں ہے جو ہم اپنے رب کے ساتھ بناتے ہیں۔ جب دل اللہ کے قریب ہوتا ہے، تو تھوڑی سی خوشی بھی بہت لگتی ہے اور جب یہ تعلق کمزور ہو، تو ساری خوشیاں بھی کم محسوس ہوتی ہیں۔
اسی سوچ کے ساتھ میں نے یہ فیصلہ کیا کہ یہ بات صرف اپنے دل تک محدود نہیں رکھنی چاہیے۔ اگر ایک لائن مجھے اتنا سوچنے پر مجبور کر سکتی ہے، تو شاید یہ کسی اور کے دل کو بھی چھو لے۔
اسی نیت سے میں نے یہ کالم لکھا ہے تاکہ ہم سب ایک لمحہ رک کر یہ سوچیں کہ ہم کس چیز کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اور آخر میں ہمیں کیا چاہیے۔
کیونکہ شاید اصل سوال یہی ہے اگر ساری خوشیاں مل بھی جائیں، تو پھر بھی کیا کچھ باقی رہتا ہے؟ تو شاید اس سوال کا جواب یہی ہے کہ اگر ساری خوشیاں مل بھی جائیں، تو پھر بھی کچھ باقی رہتا ہے اور وہ ہے انسان کا مقصد، اس کی جستجو اور اس کا اپنے رب سے تعلق۔
کیونکہ اصل زندگی صرف خوشیاں حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ ایک معنی خیز سفر ہے، جو تب تک خوبصورت رہتا ہے جب تک اس میں تلاش باقی ہو۔ اللہ تعالی ہمیں عزت والی شناخت عطا فرما۔ شناخت تو ہر انسان چاہتا ہے لیکن اس کی خواہش عزت والی اور جائز ہونی چاہیے۔ ایک بار پھر سے وہی سوال۔
ساری خوشیاں مل جاون تے پیچھے کی رہ جانا؟

