Tuesday, 16 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Shams Muneer Gondal
  4. Hasan Ibn Sabbah Ki Jannat (1)

Hasan Ibn Sabbah Ki Jannat (1)

حسن بن صباح کی جنت (1)

تاریخ ہمیشہ تلواروں سے نہیں لکھی جاتی، بعض اوقات یہ الفاظ، نظریات اور ذہنوں کی جنگ ہوتی ہے اور یہ جنگ اتنی خاموش ہوتی ہے کہ صدیوں بعد بھی انسان سمجھ نہیں پاتا کہ وہ جیتا کیا ہے اور ہارا کیا۔ مولانا رومی ایک عجیب مگر لرزا دینے والا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ ایک شخص اندھیری رات میں مسجد کی طرف نکلا۔ راستہ نہ دکھائی دیتا تھا، قدم بہک گئے اور وہ منہ کے بل کیچڑ میں آ گرا۔ وہ اٹھا، کپڑے جھاڑے اور واپس گھر آ گیا۔ پھر دوبارہ نکلا۔ مگر قسمت نے ایک بار پھر اسے زمین پر دے مارا۔ تیسری بار بھی ناکامی ہوئی۔

یہ صرف ایک شخص کی کہانی نہیں تھی یہ انسان کی کمزوری کی علامت تھی۔ مگر پھر کہانی میں ایک موڑ آیا۔ چوتھی بار جب وہ نکلا تو اس کے دروازے پر ایک شخص چراغ لے کر کھڑا تھا۔ خاموشی سے آگے بڑھا اور روشنی دکھاتا ہوا اسے مسجد تک لے گیا۔ نماز کے بعد وہی شخص اسے واپس گھر چھوڑنے آیا۔ دروازے پر پہنچ کر سوال ہوا: "تم کون ہو؟ جواب آیا: میں ابلیس ہوں"۔ یہ جملہ بجلی بن کر گرا۔ مگر اگلے ہی لمحے جو دلیل دی گئی وہ انسانی عقل کو جھنجھوڑ دینے والی تھی۔ ابلیس نے کہا: "میں نے تمہیں گرایا نہیں میں نے تمہیں بچایا ہے۔ اگر تم ایک بار پھر گرتے تو تمہاری وجہ سے تمہارے پورے علاقے پر رحمت اتر آتی۔ یہ وہ لمحہ تھا جہاں انسان سمجھتا ہے کہ برائی ہمیشہ برا کام نہیں کرتی بعض اوقات برائی کا کام صرف نظام کو سمجھنا ہوتا ہے اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے حسن بن صباح کی دنیا شروع ہوتی ہے۔

تاریخ کے اندھیروں میں ایک ایسا نام ابھرتا ہے جو صرف ایک شخص نہیں تھا، وہ ایک نظریہ تھا، ایک ریاست تھی، ایک ذہنی سلطنت تھی۔ حسن بن صباح ایران کے شہر قم میں پیدا ہوا۔ اس کے فکری دھارے اسماعیلی باطنی فکر سے جڑے ہوئے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب علم اور عقیدہ تلواروں کی نوک پر توازن تلاش کر رہے تھے۔ باطنی فکر کا بنیادی نکتہ بظاہر سادہ تھا مگر اندر سے انتہائی پیچیدہ: ہر ظاہر کے پیچھے ایک باطن ہے اور اصل حقیقت وہ نہیں جو دکھائی دیتی ہے۔ یہ جملہ اگر علم کے ہاتھ میں ہو تو فلسفہ بن جاتا ہے مگر اگر اقتدار کے ہاتھ میں آ جائے تو پھر یہ نظریہ نہیں رہتا، ہتھیار بن جاتا ہے۔ یہی وہ فکری دروازہ تھا جس سے حسن بن صباح نے اپنی سلطنت کا آغاز کیا۔

اس نے مذہب کو رد نہیں کیا اس نے مذہب کی تشریح کو بدل دیا اور تاریخ کا سب سے خطرناک کھیل ہمیشہ وہیں شروع ہوتا ہے جہاں الفاظ کے معنی بدل دیے جائیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے نظام میں عبادات کی ظاہری شکلیں برقرار تھیں مگر ان کی روح بدل دی گئی تھی۔ نماز، روزہ، طہارت سب کچھ موجود تھا، مگر ایک نئے زاویے کے ساتھ۔ جہاں حکم کی اصل مرکزیت"شیخ" بن جاتا تھا، نہ کہ شریعت۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان خدا کی ہدایت سے زیادہ انسان کی تعبیر پر یقین کرنے لگتا ہے اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب عقیدہ آزاد نہیں رہتا قابو میں آ جاتا ہے۔ حسن بن صباح کا قلعہ صرف پتھروں کی دیواریں نہیں تھا وہ ایک ذہنی ریاست تھی۔ وہاں داخل ہونے والا صرف جسم سے نہیں، سوچ سے بھی قید ہو جاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک نوجوان حبشی لڑکا قرآن کی تلاوت کر رہا تھا۔ حسن بن صباح نے پوچھا: "کیا پڑھ رہے ہو؟"

جواب آیا: "سورۃ الرحمن"۔ "کس حصے میں ہو؟"، "جنت کے ذکر میں" یہ وہ لمحہ تھا جہاں ایک عام انسان کا ذہن جذبات سے متاثر ہو جاتا ہے۔ حسن بن صباح نے کہا: "اگر تمہارا ایمان مضبوط ہو تو میں تمہیں جنت اس دنیا میں دکھا سکتا ہوں"۔ یہ جملہ جادو نہیں تھا یہ نفسیات تھی۔ نوجوان سوال میں ڈوب گیا اور جب انسان سوال چھوڑ دے اور یقین کے سہارے کسی اور کے ہاتھ میں آ جائے تو وہ صرف مرید نہیں رہتا وہ مواد بن جاتا ہے۔ پھر وہی ہوا جو ہر مضبوط نظریاتی گرفت میں ہوتا ہے۔ اطاعت کو ایمان بنا دیا گیا اور سوال کو گناہ۔

نوجوان کو یقین دلایا گیا کہ اصل عبادت حکم کی پیروی ہے اور حکم کی مرکزیت شیخ ہے اور پھر وہی ہوا جو تاریخ ہمیشہ دہراتی ہے۔ انسان نے کتاب کو چومنے کے بجائے ایک جانب رکھ دیا کیونکہ اسے بتایا گیا تھا کہ یہی نجات ہے۔ شیخ کی اطاعت سے جنت ملتی ہے۔ یہ الگ بات کہ یہ جنت الفردوس کی بجائے حشیشن کی جنت تھی جہاں نشے میں مدہوش کرکے سماں بدل دیا جاتا تھا۔ دوسرے الفاظ میں مسمرائز یا مسحور کرکے بے خود بنا دیا جاتا تھا۔ یہاں کہانی صرف ایک فرد کی نہیں رہتی یہ پورے نظام کی تشریح بن جاتی ہے۔

حسن بن صباح کا اصل ہنر تلوار نہیں تھا اس کا اصل ہتھیار "یقین کی انجینئرنگ" تھا۔ وہ انسان کے اندر سوال کو مار دیتا تھا اور اس کی جگہ اطاعت کو زندہ کر دیتا تھا اور جب معاشرے میں سوال مر جائے تو وہاں حقیقت کی ضرورت نہیں رہتی صرف ہدایت نامے رہ جاتے ہیں۔ وہ اپنے ساتھیوں سے کہتا تھا کہ اگر چند اور نوجوان اسی طرح مل جائیں تو سلطنتوں کے تخت الٹ دیے جائیں گے۔ یہ جملہ صرف سیاسی نہیں تھا یہ ذہنی انقلاب کا اعلان تھا۔ کیونکہ تاریخ میں حکومتیں ہمیشہ تلوار سے نہیں گرتیں کبھی کبھی وہ عقیدے کے نئے معنی سے گر جاتی ہیں اور یہی وہ خطرناک حقیقت ہے جسے تاریخ بار بار چھپانے کی کوشش کرتی ہے مگر ناکام رہتی ہے: جب انسان سوچنا چھوڑ دیتا ہے اور صرف ماننا شروع کر دیتا ہے تو وہ آزاد نہیں رہتا، استعمال ہونے لگتا ہے۔

حسن بن صباح کی دنیا ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سب سے بڑا فتنہ ہمیشہ وہ نہیں ہوتا جو سامنے کھڑا ہو سب سے بڑا فتنہ وہ ہوتا ہے جو"حق"کے نام پر ذہن کے اندر داخل ہو جائے اور شاید اسی لیے رومی نے کہا تھا کہ راستہ ہمیشہ اندھیرے میں نہیں بھٹکتا کبھی کبھی روشنی بھی انسان کو غلط سمت لے جاتی ہے۔ کیونکہ چراغ اگر ہاتھ بدل لے تو روشنی بھی سوال بن جاتی ہے اور سوال اگر بند کر دیا جائے تو حقیقت دفن ہو جاتی ہے۔ یہی حسن بن صباح کی جنت تھی جہاں جنت کا وعدہ موجود تھا مگر راستہ کسی اور کے ہاتھ میں تھا اور تاریخ آج بھی وہی سوال دہراتی ہے کیا ہم حقیقت کو دیکھ رہے ہیں یا کسی اور کی روشنی میں چل رہے ہیں۔

جاری ہے۔۔

Check Also

Ye Mulk Aage Kese Barh Sakta Hai?

By Muhammad Irfan Nadeem