Tuesday, 16 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Aamir Mehmood
  4. Man Teri Mere Jurm Bhi Tere

Man Teri Mere Jurm Bhi Tere

میں تیری میرے جرم بھی تیرے

بے شمار درود و سلام سرکار ﷺ کی ذاتِ اقدس پر۔

ہر انسان اِس دنیا میں اکیلا آتا ہے اور ہر آنے والے انسان کو اپنا اخری سفر اکیلے ہی طے کرنا ہے، یعنی اِس دنیا میں آمد تنہا ہے اور یہاں سے روانگی بھی تنہا ہی ہوگی اور اگر آپ غور کریں تو دنیا سے گزرنے کا عمل اور دنیا میں وقت بھی تنہائی ہی میں گزرتا ہے، ہر ذی روح کی دنیا میں موجودگی دو جہتی ہے ایک تو دنیا کے ساتھ اِس کا تعلق ہے اور ایک تنہائی ہے، تنہائی بہت ضروری ہے حقیقتوں کے ساتھ نسبت اور تعلق کے لیے، تنہائیوں کے بغیر آپ ازلی سفر کے لیے تیار نہیں ہو سکتے، ویسے بھی جب آپ دنیا کے معاملات مکمل کر لیتے ہیں اور بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچ جاتے ہیں اُس وقت آپ کا زیادہ تر وقت خود اپنے ساتھ ہی گزرتا ہے، اگر آپ اپنی زندگی میں حقیقتوں کے ساتھ نسبت اور تعلق قائم نہیں رکھ سکے تو پھر وہ وقت بہت مشکل ہو جاتا ہے، اِس سے مشکل وقت انسان کے لیے اور کوئی نہیں ہے۔

اکیلا پن اور چیز ہے اور تنہائی اور چیز ہے اکیلا پن بہت ہی تکلیف دہ ہے اور اِس میں بہت سے جسمانی، روحانی اور نفسیاتی بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں، تنہائی اور چیز ہے، نبیوں پیغمبروں اور بزرگوں نے تنہائی مانگی ہے حقیقتوں کے ساتھ واصل ہونے کے لیے، تنہائیوں کے اپنے میلے ہوتے ہیں، اپنے فیض ہیں، انسان کے لیے جو بھی ادب کے شاہ پارے چاہے وہ دنیاوی رنگ میں ہوں یا صوفیانہ رنگ میں ہوں تخلیق ہوئے ہیں وہ تنہائیوں ہی کے فیض ہیں، تنہائیاں ہی آپ کو اپنی غلطیوں کے احساسات کی طرف مائل کرتی ہیں اور یہ احساس دلاتی ہیں کہ اب توبہ استغفار کا وقت آگیا ہے۔

انسان جو بھی چھوٹے بڑے جرم کرتا ہے وہ ہمیشہ اِس کے وجود میں کہیں نہ کہیں موجود رہتے ہیں اور اُس کو احساس دلاتے رہتے ہیں کہ کہاں غلطی ہوگئی ہے، بعض اوقات انسان یہ سمجھتا ہے کہ جو میں نے صغیرہ اور کبیرہ گناہ کر لیے ہیں، اب میری واپسی ممکن نہیں ہے اور وہ اِسی تڑپ اور کسک میں باقی ماندہ زندگی گزارتا ہے اور گناہ پہ گناہ کرتا چلا جاتا ہے، وہ شاید اس راز سے نہ آشنا ہوتا ہے کہ عارفِ گناہ کی اللہ تبارک و تعالی کے ہاں بہت وقعت ہے، اُس انسان کو بہت پسند کیا جاتا ہے جو کہ گناہ کی راہوں سے گزرا ہو، کیونکہ وہ گناہوں کی لذت سے آشنا ہو کر واپس حقیقتوں کی طرف رجوع کرتا ہے، تو ایسے انسان کے لیے دین میں بڑی گنجائش ہے اور اِس کو بزرگانِ دین بڑی ہی گرم جوشی سے خوش آمدید کہتے ہیں۔

عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ عارفِ گناہ کا ہمارے دین میں بڑا مقام ہے یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ کچھ لوگ ایک تندور کے کناروں پر بیٹھے ہیں اور ایک اُس میں گر گیا ہے اور پھر باہر نکل آیا ہے تو وہ اِس تندور کی حدت کا راز آشنا ہے، وہ اِس انسان سے بہتر ہے جس نے تمام عمر عبادتوں میں گزاری ہے اور گناہ کی لذت سے نہ آشنا رہا ہے، لذت آشنا جب واپس گھر کو لوٹتا ہے تو اُس کی قدر و منزلت اور ہی ہے، جب اشک ندامت اِس انسان کو عطا ہوتے ہیں تو پھر وہ رب کے بہت قریب ہو جاتا ہے، عبادتوں والا انسان اسی زعم میں مبتلا رہتا ہے کہ میری عبادتیں اور ریاضتیں کافی ہیں میری بخشش کے لیے، یہی بعض اوقات ناقابل قبول ہو سکتی ہیں۔

بزرگ فرماتے ہیں کہ عبادتوں کا تکبر تمام عبادتوں کو زائل کر دیتا ہے، یہ سب سے برا تکبر ہے کہ آپ اِس تکبر کے تخت پر بیٹھ کر دوسرے انسانوں کو کمتر سمجھنے لگ جاتے ہیں، ہمارے لاہور میں ایک اہلِ نظر تشریف فرما ہوتے تھے، جن کا نام تھا بابا جی نور والے، بہت سے جید دانشور ان کے ہاں جاتے تھے اور ان کے پاس بیٹھتے تھے، علمِ معرفت حاصل کرنے کے لیے، اشفاق احمد صاحب مرحوم بھی اُن لوگوں میں شامل تھے۔

آپ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں اُن کے ساتھ بیٹھا تھا تو ایک دیہاتی پگڑی باندھے بڑی بڑی مونچھیں رکھے ہوئے اُن کے پاس حاضر ہوا، وجاہت سے وہ کسی گاؤں کا چوہدری لگتا تھا، اُس نے آتے ہی بابا جی کے پاؤں پکڑ لیے اور کہنے لگا کہ بابا جی رحمتیں ہوگئیں، برکتیں ہوگئی، نور ہی نور ہوگیا، فضل ہوگیا، میں پار ہوگیا، بابا جی ایک چادر کو سینے میں مصروف تھے، آپ اپنا کام کرتے رہے اور اُس کی بات سنتے رہے، جب اُس نے اپنی بات مکمل کی تو بابا جی نور والے فرمانے لگے کہ جیسے تم نے زور لگا کے گناہ چھوڑ دیے ہیں اِسی طرح زور لگا کر عبادتیں بھی چھوڑ دو، یعنی عبادتوں کا تکبر بھی چھوڑ دو۔

یہ عبادتیں، ریاضتیں انسان کا انفرادی معاملہ ہے اللہ تعالی کے ساتھ، اُن کو استعمال کرتے ہوئے انسانوں کو کمتر سمجھنے کی اجازت نہیں ہے، ہر جرم دار کا ایک مستقبل ہے اور ہر عبادت گزار کا ایک ماضی ہے، کوئی نہیں جانتا ایک انسان کون سے حالات و واقعات سے ہو کر گزرا ہے اُس کے ساتھ کون کون سی تاثیریں وابستہ ہیں، اِسی لیے عارفِ گناہ کا مقام روحانیت میں بہت زیادہ ہے، کیونکہ گناہ کرکے چھوڑنا کسی کسی کا نصیب ہے اور جو گدازی دل اور اشک ندامت عارفِ گناہ پر اترتے ہیں شاید عبادتوں یا ریاضتوں والے پر نہ اترتے ہوں اور جب احساسات آنکھیں پرنم کرتے ہیں تو گناہ گار اللہ تعالی کے حوالے ہو جاتا ہے اور پھر وہ مقام آ جاتا ہے کہ، میں تیری میرے جرم بھی تیرے، سبحان اللہ۔

اللہ تعالی آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔

Check Also

Ambar Bail Ki Uljhi Bailen (4)

By Zafar Syed