Monday, 06 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Ayesha Batool
  4. Doctors Bhi Insan Hote Hain

Doctors Bhi Insan Hote Hain

ڈاکٹرز بھی انسان ہوتے ہیں

بیماری زندگی کی ایک حقیقت ہے اور جب بھی انسان کسی تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو سب سے پہلے اللہ تعالیٰ سے شفا کی دعا کرتا ہے، پھر علاج کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کرتا ہے۔ ڈاکٹر اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ علم و مہارت کو استعمال کرتے ہوئے مریض کی صحت یابی کا ذریعہ بنتا ہے، لیکن افسوس کہ بعض اوقات ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ڈاکٹر بھی آخر ایک انسان ہے، کوئی مشین نہیں۔

ایک ڈاکٹر روزانہ تقریباً 70 سے 80 مریضوں کا معائنہ کرتا ہے اور کئی مرتبہ یہ تعداد اس سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ ہر مریض کی بیماری مختلف، مزاج الگ، حالات جدا اور پریشانیاں اپنی نوعیت کی ہوتی ہیں۔ ہر ایک کی بات غور سے سننا، بیماری کو سمجھنا، درست تشخیص کرنا اور مناسب دوا تجویز کرنا نہایت ذمہ داری، صبر اور ذہنی یکسوئی کا کام ہے۔ روزانہ اتنے زیادہ لوگوں سے خوش اخلاقی اور تحمل کے ساتھ پیش آنا یقیناً آسان نہیں ہوتا۔

بطورِ مریض ہماری بھی ذمہ داری ہے کہ ہم ڈاکٹر کے پاس احترام، صبر اور تعاون کے ساتھ جائیں۔ اپنی بیماری کی علامات واضح انداز میں بیان کریں، ڈاکٹر کی بات پوری توجہ سے سنیں اور اس کی ہدایات پر عمل کریں۔ اگر کوئی بات سمجھ نہ آئے تو ادب سے سوال کریں، لیکن بداعتمادی، تلخ لہجے یا غیر ضروری بحث سے گریز کریں، کیونکہ ایک مخلص ڈاکٹر کا مقصد مریض کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ اس کی صحت بہتر کرنا ہوتا ہے۔

آج کل سوشل میڈیا، غیر مستند مشوروں اور ادھوری معلومات کی وجہ سے بہت سے لوگ ڈاکٹر کی رائے سے زیادہ دوسروں کی باتوں پر یقین کر لیتے ہیں۔ بعض اوقات ایک غیر متعلقہ شخص کی بات پر اعتماد کرکے علاج ادھورا چھوڑ دیا جاتا ہے یا اپنی مرضی سے دوائیں استعمال کی جاتی ہیں، جس کے نتائج نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس لیے علاج کے معاملے میں افواہوں یا غیر مصدقہ معلومات کے بجائے اپنے مستند ڈاکٹر کی رہنمائی پر اعتماد کرنا چاہیے۔

اسلام ہمیں ہر اس شخص کی عزت اور قدر کرنا سکھاتا ہے جو انسانیت کی خدمت میں مصروف ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو"۔ (سورۃ المائدہ: 2)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اللہ اپنے بندے کی مدد میں رہتا ہے، جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے"۔ (صحیح مسلم)

ڈاکٹرز بھی انہی لوگوں میں شامل ہیں جو دن رات انسانوں کی جان بچانے اور ان کی تکلیف کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یقیناً ہر شعبے میں غلطیاں ہو سکتی ہیں، لیکن چند افراد کی وجہ سے پورے پیشے کو موردِ الزام ٹھہرانا انصاف نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ڈاکٹرز کی محنت، وقت اور خدمت کی قدر کریں، ان کے ساتھ حسنِ اخلاق سے پیش آئیں اور انہیں عزت دیں۔

یاد رکھیں! شفا صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، جبکہ ڈاکٹر اس شفا کا ایک ذریعہ ہیں۔ اس لیے نہ ڈاکٹر سے غیر حقیقی توقعات وابستہ کرنی چاہییں اور نہ ہی بلاوجہ اس پر بداعتمادی کرنی چاہیے۔ جب مریض اور ڈاکٹر ایک دوسرے کے ساتھ اعتماد، احترام اور تعاون کا رشتہ قائم کرتے ہیں تو علاج بھی بہتر ہوتا ہے اور معاشرے میں انسانیت، ہمدردی اور خیر کا ماحول بھی فروغ پاتا ہے۔

میں اپنی طرف سے ان تمام ڈاکٹرز کو سلام کرتی ہوں جو اپنی ڈیوٹی کو ایمانداری کے ساتھ پورا کرتے ہیں اور اللہ کی رضا کے لیے کام کرتے ہیں۔ اللہ تعالی انہیں خوش رکھے انہیں صحت تندرستی والی زندگی عطا کرے اور ہدایت کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔

اے اللہ! ہمارے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے احترام، رحم اور حسنِ ظن پیدا فرما۔ ہمارے ڈاکٹرز کو صحت، حکمت، صبر، اخلاص اور دیانت داری کے ساتھ انسانیت کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرما اور مریضوں کو صبر، اعتماد، شکر اور درست فیصلے کرنے کی سمجھ عطا فرما۔ ہمیں ایک دوسرے کی قدر کرنے، آسانیاں پیدا کرنے اور تیری رضا کے مطابق اپنے فرائض ادا کرنے والا بنا۔ اے اللہ! تمام بیماروں کو کامل شفا عطا فرما، تمام خدمت کرنے والوں کی حفاظت فرما اور ہمارے معاشرے میں محبت، اعتماد، خیر اور عافیت کو عام فرما۔

Check Also

Doctors Bhi Insan Hote Hain

By Ayesha Batool