Monday, 06 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Iqbal Bijar
  4. Do Sarhadon Ke Darmiyan

Do Sarhadon Ke Darmiyan

دو سرحدوں کے درمیان

میں ایک ایسے شہر کو جانتا ہوں جس کا نام کسی نقشے پر نہیں ملتا۔ وہاں پہنچنے کے لیے نہ کسی سڑک کی ضرورت ہوتی ہے، نہ کسی سرحدی چوکی کی۔ اس شہر تک پہنچنے کا راستہ صرف مسلسل ناکامی، ٹوٹتے خواب اور ختم ہوتی امیدیں ہیں۔ یہ شہر کامیابی اور ناکامی کی دو سرحدوں کے درمیان آباد ہے۔

اس شہر کے لوگ عجیب ہیں۔ وہ ہر صبح نئے حوصلے کے ساتھ گھر سے نکلتے ہیں اور ہر شام ایک اور شکست اپنے کندھوں پر اٹھائے واپس لوٹتے ہیں۔ وہ محنت کرتے ہیں، انتظار کرتے ہیں، دروازے کھٹکھٹاتے ہیں، خود کو بار بار ثابت کرتے ہیں، مگر کامیابی کی سرحد ان سے چند قدم آگے ہی رہتی ہے، جیسے وہ ان کے لیے بنی ہی نہ ہو۔

میں نے اس شہر میں کسی کو مرتے نہیں دیکھا، لیکن زندہ بھی بہت کم دیکھا ہے۔ یہاں چلتے پھرتے جسم ہیں، مگر ان کے اندر خوابوں کی دھڑکنیں نہیں رہیں۔ یہاں مسکراہٹیں ہیں، مگر وہ چہروں پر رکتی نہیں، صرف رسم پوری کرتی ہیں۔ یہاں آنکھیں کھلی ہوتی ہیں، مگر مستقبل دکھائی نہیں دیتا۔

اس شہر کا موسم ہمیشہ اداس رہتا ہے۔ یہاں بہار بھی خزاں کا لباس پہن کر آتی ہے۔ راتیں اس قدر لمبی ہوتی ہیں کہ صبح ہونے پر بھی اندھیرا انسان کے اندر باقی رہتا ہے۔ یہاں چوراہوں پر صرف ٹریفک نہیں رکتا، قسمت بھی رک جاتی ہے۔

ہر چوراہے پر مجھے ایک کہانی ملتی ہے۔ کہیں ایک نوجوان ہے جس کی جیب میں ڈگری ہے مگر ہاتھ میں روزگار نہیں۔ کہیں ایک باپ ہے جو اپنے بچوں کی خواہشوں سے نظریں چرا رہا ہے کیونکہ اس کی محنت بازار میں سستی اور ضروریات مہنگی ہو چکی ہیں۔ کہیں ایک ماں ہے جو اپنے بچوں کو یہ یقین دلاتی ہے کہ کل سب بہتر ہوگا، حالانکہ اسے خود بھی معلوم نہیں کہ وہ کل کیسا ہوگا۔

اس شہر میں سب سے زیادہ خوفناک چیز غربت نہیں، امید کا آہستہ آہستہ مر جانا ہے۔ انسان ایک ہی دن میں نہیں ٹوٹتا۔ وہ روز تھوڑا تھوڑا مرتا ہے۔ ہر نامکمل خواب کے ساتھ، ہر بند دروازے کے ساتھ، ہر اس لمحے کے ساتھ جب اسے بتایا جاتا ہے کہ اس کی محنت کافی نہیں تھی، حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ اس کے لیے راستہ ہی کبھی کھولا نہیں گیا۔

پھر ایک دن وہ جینا نہیں چھوڑتا، صرف محسوس کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ مجھے لگتا ہے دنیا کی سب سے بڑی المیہ جنگیں نہیں، بلکہ وہ شہر ہیں جہاں لوگ زندہ رہنے پر مجبور ہوں مگر جینا بھول جائیں۔

شاید آپ نے بھی اس شہر کو دیکھا ہو۔ شاید آپ روز اس کے کسی بازار سے گزرتے ہوں۔ شاید آپ کے دفتر، آپ کی گلی یا آپ کے گھر میں بھی اس شہر کا کوئی مکین رہتا ہو۔ یا شاید۔۔ آئینے کے سامنے کھڑا شخص بھی اسی شہر کا رہائشی ہو۔ اس لیے میں اس شہر کا نام نہیں لیتا۔

کیونکہ یہ کسی ایک جگہ کا نام نہیں، ایک کیفیت کا نام ہے۔ ایک ایسا احساس، جو اس وقت جنم لیتا ہے جب کامیابی صرف چند لوگوں کی میراث بن جائے اور ناکامی لاکھوں انسانوں کی قسمت اور جب کوئی معاشرہ اپنے لوگوں کو خواب دیکھنے کی سزا دینے لگے، تو وہاں قبرستانوں سے زیادہ زندہ لاشیں آباد ہوتی ہیں۔

Check Also

Sasti Shohrat Aur Bikharti Nasal e Nao

By Malik Asad Jootah