Monday, 06 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mudassar Hameed
  4. Alfaz Ke Zakham Kyun Nahi Bharte?

Alfaz Ke Zakham Kyun Nahi Bharte?

الفاظ کے زخم کیوں نہیں بھرتے؟

انسان کی زندگی میں کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو نہ جسم پر نظر آتے ہیں، نہ کسی دوا سے بھر پاتے ہیں۔ یہ زخم نہ تلوار دیتی ہے، نہ گولی، بلکہ چند بے سوچے سمجھے الفاظ دے جاتے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ بولنے والا انہیں چند لمحوں میں بھول جاتا ہے، مگر سننے والا برسوں تک انہیں اپنے دل میں اٹھائے پھرتا ہے۔

بارش ابھی ابھی رکی تھی۔ ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کے باہر ایک بوڑھا شخص بینچ پر خاموش بیٹھا تھا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، مگر سردی سے نہیں۔ اس کی نظریں بار بار اس دروازے پر اٹھتی تھیں جس کے پیچھے ڈاکٹر اس کے بیٹے کی جان بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔

چند لمحوں بعد دروازہ کھلا۔ ایک نوجوان ڈاکٹر باہر آیا اور مسکراتے ہوئے بولا: "بابا! گھبرائیے نہیں، آپ کے بیٹے کی جان خطرے سے باہر ہے"۔

یہ سن کر بوڑھے شخص کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

ڈاکٹر نے حیرت سے پوچھا: "اب تو خوش ہونا چاہیے، پھر آپ رو کیوں رہے ہیں؟"

بوڑھے نے آہستہ سے کہا: "میں آج اپنے بیٹے کی جان بچ جانے پر نہیں رو رہا۔۔ میں ان الفاظ پر رو رہا ہوں جو میں نے برسوں پہلے اس کے دل میں اتار دیے تھے۔۔ "

بوڑھے نے نظریں جھکا لیں اور کہا: "وہ صرف دس سال کا تھا۔ ایک دن امتحان میں کم نمبر آئے تو غصے میں، سب کے سامنے میں نے کہہ دیا تھا۔۔ تم میری سب سے بڑی ناکامی ہو"۔

وہ چند لمحے خاموش رہا، پھر بولا: "مجھے لگا تھا بچہ ہے، بھول جائے گا۔ مگر میں غلط تھا۔ وہ بڑا تو ہوگیا، لیکن میرے الفاظ اس کے ساتھ بڑے ہوتے گئے۔ اس نے پڑھائی میں دلچسپی کھو دی، لوگوں سے بات کرنا کم کر دی اور ہر ناکامی کے بعد خود سے یہی کہتا رہا: میں ناکام ہوں"۔

ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ الفاظ صرف آواز ہوتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ کچھ الفاظ انسان کے دل میں عمر بھر کے لیے گھر بنا لیتے ہیں۔ تلوار کا وار جسم پر ہوتا ہے، زبان کا وار شخصیت پر۔

یہی وجہ ہے کہ نفسیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ بچپن میں بار بار سنے گئے الفاظ انسان کی خود اعتمادی، فیصلوں اور مستقبل پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ اگر کسی بچے سے مسلسل کہا جائے کہ "تم کچھ نہیں کر سکتے"، تو وہ آہستہ آہستہ اس بات پر یقین کرنے لگتا ہے۔

اسی لیے اسلام نے زبان کی حفاظت کو عبادت کا حصہ بنایا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے"۔ یہ صرف ایک اخلاقی نصیحت نہیں، بلکہ ٹوٹتے ہوئے دلوں کو بچانے کا اصول ہے۔

بوڑھا شخص ابھی بھی اسی بینچ پر بیٹھا تھا۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا: "اے کاش! انسان کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ بھی تیر کی طرح واپس آ سکتے"۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ تیر کبھی کبھی نکال لیا جاتا ہے، الفاظ نہیں۔ وہ دل میں رہ جاتے ہیں، یادوں میں رہ جاتے ہیں اور کبھی کبھی پوری زندگی انسان کے ساتھ چلتے رہتے ہیں۔

اس لیے بولنے سے پہلے ایک لمحہ ضرور سوچ لیجیے۔ ہو سکتا ہے آپ کا ایک جملہ کسی کی زندگی سنوار دے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہی ایک جملہ کسی کی زندگی کا سب سے گہرا زخم بن جائے۔

Check Also

Barhti Abadi, Ghat-te Wasail

By Muhammad Umar Shahzad