Monday, 06 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Wo Sach Jo Nisab Mein Jagah Na Pa Saka

Wo Sach Jo Nisab Mein Jagah Na Pa Saka

وہ سچ جو نصاب میں جگہ نہ پاسکا

تاریخ ہمیشہ فاتح نہیں لکھتے کبھی کبھی طاقتور لکھتے ہیں اور طاقتور جب تاریخ لکھتے ہیں تو وہ صرف واقعات نہیں لکھتے وہ اپنے کردار بھی تراشتے ہیں، اپنے چہرے بھی روشن کرتے ہیں اور بعض چہروں پر ہمیشہ کے لیے خاموشی کی چادر ڈال دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہر قوم کی ایک سرکاری تاریخ ہوتی ہے اور ایک اصل تاریخ۔ سرکاری تاریخ بچوں کو امتحان پاس کرواتی ہے، جبکہ اصل تاریخ قوموں کو شعور دیتی ہے۔ پاکستان بھی ان بدقسمت ممالک میں شامل ہے جہاں تاریخ کو اکثر اقتدار کی ضرورت کے مطابق لکھا پڑھایا اور سنایا گیا۔ ہماری نسلوں کو بتایا گیا کہ پاکستان بن گیا، سب کچھ ٹھیک چلتا رہا، پھر اچانک مسائل پیدا ہوگئے لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ ریاست کی ابتدائی سمت کیا تھی؟ بانیٔ پاکستان کی اصل خواہشات کیا تھیں؟ وہ کن خطرات کو سب سے بڑا خطرہ سمجھتے تھے؟ اور وہ کن رجحانات سے قوم کو بچانا چاہتے تھے؟

قیوم نظامی اپنی کتاب قائد اعظم بحیثیت گورنر جنرل میں ایک اہم واقعہ نقل کرتے ہیں ان کے مطابق سردار عبدالرب نشتر نے قائد اعظم کو ایک رپورٹ بھیجی جس میں اس وقت کے فوجی افسر ایوب خان کے بارے میں یہ تاثر دیا گیا کہ وہ مہاجرین کی آبادکاری جیسے اہم قومی فریضے سے زیادہ سیاسی معاملات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اسی روایت کے مطابق قائد اعظم نے سخت نوٹ لکھا اور ان کی کمان محدود کرنے اور انہیں مشرقی پاکستان بھیجنے کی ہدایت کی اگر یہ روایت درست ہے تو اس سے قائد اعظم کے ذہن میں موجود ایک بنیادی اصول واضح ہوتا ہے: فوج کا وقار سیاست سے دور رہنے میں ہے۔ الطاف گوہر نے اپنی کتاب گوہر گزشت میں بھی ایسے واقعات بیان کیے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ قائد اعظم فوجی افسروں کے سیاسی کردار سے مطمئن نہیں تھے ان کتابوں میں بعض روایات ایسی بھی موجود ہیں جن پر مؤرخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے لیکن ایک حقیقت پر اختلاف نہیں کہ قائد اعظم ریاستی اداروں کی آئینی حدود کے سختی سے قائل تھے۔ ان کی نظر میں ریاست کی طاقت آئین سے آتی تھی بندوق سے نہیں۔

جون 1948ء میں سٹاف کالج کوئٹہ میں قائد اعظم کی وہ تاریخی تقریر آج بھی ریاستی فکر کا بنیادی دستاویز سمجھی جاتی ہے۔ روایت ہے کہ جب انہیں محسوس ہوا کہ بعض فوجی افسران اپنے آئینی کردار کو پوری طرح نہیں سمجھتے تو انہوں نے اپنی تیار شدہ تقریر ایک طرف رکھ دی اور انہیں ان کا حلف یاد دلایا گویا وہ کہنا چاہتے تھے کہ فوج ریاست کا محافظ ہے ریاست کا مالک نہیں۔

یہ وہ لمحہ تھا جب پاکستان کے مستقبل کا ایک واضح نقشہ کھینچا جا رہا تھا مگر افسوس کہ آنے والے برسوں میں اسی نقشے پر سب سے زیادہ لکیریں کھینچی گئیں۔ تاریخ کا ایک اور باب جنرل اکبر خان سے متعلق ہے مختلف تاریخی حوالوں کے مطابق جب انہوں نے پالیسی سازی کے معاملات میں غیر معمولی دلچسپی دکھائی تو قائد اعظم نے انہیں واضح الفاظ میں کہا کہ حکومت پالیسی بناتی ہے فوج اس پر عمل کرتی ہے بعد ازاں یہی جنرل اکبر راولپنڈی سازش کیس میں گرفتار ہوئے اور برسوں قید کاٹی مگر تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے کہ بعد کے ادوار میں انہیں دوبارہ اہم سرکاری ذمہ داریاں بھی ملیں۔ یہی تضادات ہماری سیاسی تاریخ کی پہچان بن گئے پاکستان کی تاریخ کا شاید سب سے فیصلہ کن موڑ وہ تھا جب فوج اور سیاست کے درمیان موجود باریک لکیر دھندلی ہونا شروع ہوئی۔

شجاع نواز اپنی کتاب The Crossed Swords میں عسکری اور سیاسی تعلقات کی پیچیدگیوں کا تفصیل سے جائزہ لیتے ہیں یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ بعد کے برسوں میں فوج کا کردار سیاست میں بڑھتا گیا اور بالآخر 1958ء میں ملک نے پہلا مارشل لا دیکھا اس کے بعد یہ دروازہ ایک بار کھلا تو بار بار کھلتا رہا یہاں سوال صرف ایوب خان، یحییٰ خان، ضیاء الحق یا پرویز مشرف کا نہیں سوال ایک سوچ کا ہے سوال یہ ہے کہ کیا بانیٔ پاکستان نے ایسا پاکستان سوچا تھا جہاں منتخب حکومتیں بار بار اپنی مدت پوری نہ کر سکیں؟ جہاں آئین بار بار معطل ہو؟ جہاں بندوق اور بیلٹ کے درمیان مسلسل کشمکش رہے؟

اصغر خان نے اپنی کتاب "جنرل اور سیاست" میں ایک تلخ جملہ لکھا تھا کہ اگر جرنیلوں ہی نے سیاست کرنی ہے تو فوجی حلف سے یہ الفاظ نکال دیے جائیں کہ میں کسی قسم کی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لوں گا یہ صرف ایک جملہ نہیں، ایک پوری تاریخ کا نوحہ ہے۔ بدقسمتی یہ بھی رہی کہ ہم نے اپنی نئی نسل کو سوال پوچھنا نہیں سکھایا ہم نے انہیں تاریخ کے روشن ابواب تو پڑھائے، مگر وہ صفحات چھپا دیے جن میں آئینی بحران ادارہ جاتی کشمکش، مشرقی پاکستان کی علیحدگی، جمہوریت کی معطلی سیاسی انتقام اور قومی غلطیوں کے اسباق درج تھے حالانکہ زندہ قومیں اپنی کامیابیوں سے کم اور اپنی غلطیوں سے زیادہ سیکھتی ہیں۔

دنیا کی ترقی یافتہ قوموں نے اپنے ماضی کو مقدس نہیں بنایا بلکہ اس کا بے لاگ احتساب کیا جرمنی نے اپنی تاریخ کے سیاہ ترین باب کو نصاب کا حصہ بنایا، جاپان نے اپنی شکستوں سے سبق لیا، جنوبی افریقہ نے سچائی اور مفاہمت کا راستہ اختیار کیا۔ مگر ہم آج بھی تاریخ کو شخصیت پرستی، سیاسی وابستگی اور وقتی مفادات کے ترازو میں تولتے ہیں ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ تاریخ سے محبت کا مطلب تاریخ پر پردہ ڈالنا نہیں بلکہ اس کا سچ جاننا ہے۔ جو قومیں اپنی غلطیوں کو تسلیم نہیں کرتیں وہ انہی غلطیوں کو بار بار دہراتی ہیں اور جو قومیں اپنے بچوں کو صرف تعریف سناتی ہیں، تنقید نہیں سکھاتیں، وہ مستقبل کے معمار نہیں بلکہ ماضی کے قیدی تیار کرتی ہیں آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم اپنے قومی ہیروز کو گرانے کی کوشش کریں بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم انہیں انسانی تناظر میں سمجھیں، ان کے فیصلوں کا تجزیہ کریں اور ریاستی اداروں کے آئینی کردار کو مضبوط کریں تاریخ کا مقصد نفرت پیدا کرنا نہیں، شعور پیدا کرنا ہے۔

اگر شعور بیدار ہو جائے تو قومیں اپنی تقدیر خود لکھتی ہیں اور اگر شعور سلا دیا جائے تو پھر دوسروں کے لکھے ہوئے ابواب ہی نصیب بن جاتے ہیں۔ شاید پاکستان کی اصل ترقی موٹرویز، بلند عمارتوں یا معاشی اعداد و شمار سے پہلے وہاں سے شروع ہوگی جہاں ایک استاد کلاس روم میں کھڑا ہو کر اپنے طالب علم سے کہے تاریخ رٹنے کے لیے نہیں سمجھنے کے لیے ہوتی ہے۔ جس دن ہماری نئی نسل سوال کرنے لگے گی حوالوں کی تحقیق کرنے لگے گی اختلاف کو برداشت کرنا سیکھ لے گی اور آئین کو طاقت سے بالاتر سمجھنے لگے گی اسی دن پاکستان صرف جغرافیہ نہیں رہے گا ایک حقیقی جمہوری ریاست بننے کی سمت بڑھنا شروع ہو جائے گا یہی وہ سبق ہے جو شاید ہماری نصابی کتابوں کے کئی بند صفحات آج بھی خاموشی سے ہمیں دینا چاہتے ہیں۔

تاریخ کسی سے انتقام نہیں لیتی لیکن سبق ضرور دیتی ہے قومیں اس وقت آگے بڑھتی ہیں جب وہ اپنے ماضی کو جذبات سے نہیں دیانت داری سے پڑھتی ہیں اختلافی واقعات کو اختلافی ہی مانتی ہیں، مستند حقائق کو تسلیم کرتی ہیں اور اپنی غلطیوں سے سبق سیکھتی ہیں۔ شاید پاکستان کی ترقی کا راستہ بھی یہی ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو صرف وہ تاریخ نہ پڑھائیں جس پر تالیاں بجتی ہیں بلکہ وہ تاریخ بھی پڑھائیں جس سے سوال جنم لیتے ہیں کیونکہ سوال کرنے والی قومیں ہی بہتر مستقبل تعمیر کرتی ہیں جبکہ تاریخ کو چھپانے والی قومیں اکثر تاریخ کو دہرانے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔

وہ سچ جو نصاب میں جگہ نہ پا سکا آج ہماری نئی نسل کے شعور سے بھی اوجھل ہو چکا ہے جب قوموں کو ان کی اصل تاریخ کے بجائے صرف منتخب واقعات پڑھائے جائیں تو نسلیں تاریخ کو نہیں صرف سرکاری بیانیے کو یاد رکھتی ہیں۔ ہمارے نوجوان یہ تو جانتے ہیں کہ پاکستان کن قربانیوں کے بعد وجود میں آیا مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ اس ریاست کے بانی کس طرزِ حکمرانی کا خواب دیکھتے تھے۔ اداروں کی آئینی حدود کیا ہونی چاہئیں جمہوریت کو کن خطرات کا سامنا تھا اور ابتدائی برسوں میں کون سے فیصلے مستقبل کی سمت متعین کر گئے۔ جب تاریخ کے اہم ابواب نصاب سے غائب کر دیے جائیں تو قومیں ماضی کی غلطیوں سے سبق لینے کے بجائے انہیں دہرانا شروع کر دیتی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہم آج بھی انہی سوالوں کے گرد گھوم رہے ہیں جن کے جواب ہمیں 78 برس پہلے اپنی تاریخ میں مل سکتے تھے اگر وہ تاریخ پوری دیانت داری سے ہماری نئی نسل تک پہنچائی جاتی۔

Check Also

2025 Ki Sciency Tehqiqaat

By Rao Manzar Hayat