Barhti Abadi, Ghat-te Wasail
بڑھتی آبادی، گھٹتے وسائل

سنہ 2006ء میں پاکستان کی آبادی تقریباً 18 کروڑ تھی۔ آج، 2026ء میں، یہ بڑھ کر تقریباً 26 کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ یعنی صرف بیس برسوں میں اس ملک میں تقریباً آٹھ کروڑ نئے انسانوں کا اضافہ ہوا۔ یہ ایک ایسا اضافہ ہے جو دنیا کے درجنوں ممالک کی کل آبادی سے بھی زیادہ ہے۔
دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں 150 سے زیادہ ممالک ایسے ہیں جن کی کل آبادی آٹھ کروڑ یا اس سے کم ہے۔ دوسرے لفظوں میں، پاکستان نے صرف دو دہائیوں میں اپنی آبادی میں جتنے لوگ شامل کیے، اتنی آبادی تو دنیا کے بیشتر ممالک کی کل آبادی بھی نہیں۔ دنیا میں چند ہی بڑے ممالک ایسے ہیں جن کی آبادی گزشتہ بیس برسوں میں آٹھ کروڑ یا اس سے زیادہ بڑھی ہے اور پاکستان بھی انہی میں شامل ہے۔
چند برس پہلے ایک ماہرِ آبادیات ایک دیہات کے دورے پر گیا۔ اس نے ایک بزرگ سے پوچھا، "چچا! آپ کے کتنے بچے ہیں؟"
بزرگ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، "بیٹا! سات بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں"۔
ماہر نے حیرت سے پوچھا، "اتنے زیادہ؟"
بزرگ نے بڑے اطمینان سے کہا، "رزق اللہ دیتا ہے، ہم تو صرف وسیلہ بنتے ہیں"۔
ماہر خاموش ہوگیا۔ اس نے جیب سے ایک کاغذ نکالا، چند حساب لگائے اور پھر بزرگ سے پوچھا، "اگر آپ کے گیارہ بچوں میں سے ہر ایک کے بھی گیارہ بچے ہوں اور پھر ان کے بھی اتنے ہی ہوں تو صرف تین نسلوں بعد آپ کے خاندان کی تعداد ہزاروں میں ہوگی۔ کیا اس زمین، اس پانی، ان سکولوں، ان ہسپتالوں اور ان کھیتوں میں اتنی گنجائش ہوگی؟"
بزرگ پہلی مرتبہ خاموش ہوا۔
یہ سوال صرف اس بزرگ سے نہیں تھا، یہ سوال آج پورے پاکستان سے ہے۔
ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں آبادی صرف بڑھ نہیں رہی بلکہ دوڑ رہی ہے، جبکہ وسائل چل بھی نہیں پا رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے مسائل بھی آبادی کے ساتھ بڑھتے جا رہے ہیں۔ غربت بڑھ رہی ہے، بے روزگاری بڑھ رہی ہے، ٹریفک بڑھ رہی ہے، آلودگی بڑھ رہی ہے، ہسپتالوں پر بوجھ بڑھ رہا ہے، سکول کم پڑ رہے ہیں اور شہروں کا دم گھٹنے لگا ہے۔
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف زیادہ آبادی نہیں ہوتی بلکہ تعلیم یافتہ، ہنر مند، صحت مند اور باصلاحیت آبادی ہوتی ہے۔ اگر صرف آبادی ہی طاقت ہوتی تو دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے تمام ممالک دنیا کے امیر ترین ممالک ہوتے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ آبادی تب نعمت بنتی ہے جب اس کے ساتھ منصوبہ بندی بھی ہو، ورنہ یہی آبادی سب سے بڑا بوجھ بن جاتی ہے۔
پاکستان آج اسی موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر ہم نے آنے والے بیس برسوں کے بارے میں سوچنا ہے تو ہمیں آج کی حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا۔ ہمارے شہروں کی سڑکیں پہلے ہی گاڑیوں سے بھری ہوئی ہیں۔ سرکاری سکولوں میں بچوں کے لیے جگہ کم پڑ رہی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں ایک بستر پر دو دو مریض نظر آتے ہیں۔ صاف پانی نایاب ہوتا جا رہا ہے۔ زیرِ زمین پانی تیزی سے نیچے جا رہا ہے۔ زرعی زمینیں رہائشی کالونیوں میں تبدیل ہو رہی ہیں۔
سوچیے، اگر یہی رفتار برقرار رہی تو بیس سال بعد کیا ہوگا؟ آج ایک نوجوان نوکری کے لیے درجنوں اداروں کے چکر لگاتا ہے۔ بیس سال بعد شاید ایک آسامی کے لیے سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں امیدوار ہوں گے۔ آج ایک گھر کرائے پر لینا مشکل ہے، کل شاید متوسط طبقے کے لیے اپنا گھر صرف خواب بن جائے۔ آج بجلی کی کمی ہے، کل توانائی کی طلب کہیں زیادہ ہوگی۔ آج پانی کی قلت ہے، کل پانی شاید ہمارے سب سے بڑے قومی تنازعات میں شامل ہو۔
دنیا کے کئی ممالک نے وقت پر خطرہ بھانپ لیا تھا۔ انہوں نے آبادی کو روکنے کے لیے صرف قوانین نہیں بنائے بلکہ تعلیم، خواتین کی تعلیم، صحت اور معاشی ترقی کو آبادی سے جوڑ دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی آبادی بھی متوازن رہی اور معیشت بھی مضبوط ہوتی گئی۔
بدقسمتی سے ہم نے آبادی کے مسئلے کو ہمیشہ مذہبی، سیاسی یا جذباتی بحث بنا دیا، حالانکہ یہ بنیادی طور پر معاشی، سماجی اور انتظامی مسئلہ ہے۔ اسلام بھی ذمہ داری، کفالت اور اولاد کی اچھی تربیت پر زور دیتا ہے۔ زیادہ بچے پیدا کرنا کامیابی نہیں، بلکہ انہیں بہترین انسان بنانا اصل کامیابی ہے۔
ہمارے ہاں ایک اور المیہ بھی ہے۔ ہم ہر مسئلے کا ذمہ دار حکومت کو قرار دیتے ہیں لیکن اپنی ذمہ داری پر بات نہیں کرتے۔ حکومت ہسپتال بنا سکتی ہے مگر ہر بیماری کو روک نہیں سکتی۔ حکومت روزگار کے مواقع پیدا کر سکتی ہے مگر اگر آبادی روزگار کی رفتار سے کئی گنا تیزی سے بڑھے گی تو کوئی بھی حکومت کامیاب نہیں ہو سکے گی۔
آنے والے بیس سال پاکستان کے لیے فیصلہ کن ہوں گے۔ دنیا مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، بائیوٹیکنالوجی اور خلائی معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ مقابلہ آبادی کا نہیں بلکہ صلاحیت کا ہوگا۔ اگر ہمارے نوجوان تعلیم، ہنر اور ٹیکنالوجی سے محروم رہے تو ہماری بڑی آبادی ہمارے لیے فائدے کے بجائے ایک بڑا امتحان بن جائے گی۔
لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔ اگر ہم آج سے منصوبہ بندی شروع کر دیں، ہر بچے کو معیاری تعلیم دیں، ہر نوجوان کو ہنر سکھائیں، خواتین کی تعلیم پر سرمایہ لگائیں، صحت کے نظام کو بہتر بنائیں اور آبادی کے بارے میں قومی سطح پر سنجیدہ آگاہی پیدا کریں تو یہی نوجوان ہماری سب سے بڑی طاقت بن سکتے ہیں۔ دنیا کی بہت سی معیشتیں نوجوان آبادی کی وجہ سے ترقی کر چکی ہیں، مگر صرف اس وقت جب وہ نوجوان تعلیم یافتہ اور ہنرمند تھے۔
پاکستان کو اب جذبات سے نہیں، اعداد و شمار سے فیصلے کرنے ہوں گے۔ ہمیں ہر ضلع، ہر شہر اور ہر گاؤں کے لیے الگ منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ بیس سال بعد کتنے سکول، کتنے کالج، کتنی یونیورسٹیاں، کتنے ہسپتال، کتنی سڑکیں، کتنی بجلی اور کتنا پانی درکار ہوگا۔ قومیں مستقبل کا انتظار نہیں کرتیں، مستقبل کی تیاری کرتی ہیں۔
اس مسئلے کے حل کے لیے چند اقدامات ناگزیر ہیں۔
پہلا، آبادی اور وسائل کے درمیان توازن پیدا کرنے کے لیے قومی اتفاقِ رائے قائم کیا جائے۔
دوسرا، خواتین کی تعلیم کو قومی ترجیح بنایا جائے، کیونکہ دنیا بھر کا تجربہ بتاتا ہے کہ تعلیم یافتہ خواتین بہتر خاندانی منصوبہ بندی اور بہتر تربیت یافتہ نسل کی بنیاد بنتی ہیں۔
تیسرا، ہر نوجوان کو کم از کم ایک جدید ہنر سکھایا جائے تاکہ وہ صرف نوکری کا امیدوار نہ رہے بلکہ روزگار پیدا کرنے والا بھی بن سکے۔
چوتھا، زرعی زمینوں کے بے دریغ استعمال کو روکا جائے اور شہری منصوبہ بندی کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔
پانچواں، پانی کے ذخائر، ڈیموں، بارش کے پانی کے استعمال اور آبی وسائل کے تحفظ کو قومی سلامتی کا مسئلہ سمجھا جائے۔
چھٹا، میڈیا، علماء، اساتذہ اور والدین سب مل کر ذمہ دار والدین ہونے کا شعور پیدا کریں تاکہ خاندان کی تعداد سے زیادہ اس کے معیار پر توجہ دی جائے۔
آخر میں ایک سوال ہم سب کو اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے۔ ہم اپنے بچوں کو صرف دنیا میں لانا چاہتے ہیں یا انہیں ایک ایسی دنیا بھی دینا چاہتے ہیں جہاں وہ عزت، تعلیم، روزگار، صحت اور سکون کے ساتھ زندگی گزار سکیں؟
اگر جواب دوسرا ہے تو پھر فیصلے بھی آج کرنے ہوں گے۔ کیونکہ آبادی کا دھماکہ اچانک نہیں ہوتا، یہ خاموشی سے بڑھتا ہے اور جب قومیں اس کی آواز سنتی ہیں تو اکثر بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔
بیس سال بعد پاکستان کی تقدیر آج ہمارے فیصلوں سے لکھی جائے گی۔ اگر ہم نے منصوبہ بندی، تعلیم، ہنر، صحت اور ذمہ دارانہ طرزِ فکر کو اپنا لیا تو یہی آبادی ہماری سب سے بڑی طاقت بن سکتی ہے۔ لیکن اگر ہم نے آج بھی آنکھیں بند رکھیں، مسائل کو جذبات کی چادر سے ڈھانپتے رہے اور حقیقت کا سامنا نہ کیا تو آنے والی نسلیں شاید ہمیں معاف نہ کریں، کیونکہ تاریخ ہمیشہ وسائل کی کمی پر نہیں بلکہ بصیرت کی کمی پر قوموں کا احتساب کرتی ہے۔

