5 Qisam Ke Log
پانچ قسم کے لوگ

پانچ قسم کے لوگوں کو آپ کچھ بھی کرکے کبھی نہیں سمجھا سکتے کہ اپنا مائنڈ بدل لو یار، فائدے میں رہو گے۔
1- کسی ماں کے لاڈلے کو جو جوان ہے، صحت مند ہے، بس ہڈ حرام ہے اور پاکستان میں رہتے ہوئے کچھ نہیں کماتا، یعنی کوئی کام / جاب ہی نہیں کرتا اور یہ ہی کہتا ہے مجھے باہر کے ملک بھیجو، وہیں کام کروں گا، وہیں کام سیکھوں گا بھی۔
2- زندگی میں پہلی بار نیا مکان والے والی اس فیملی کو، جو تنگ گلی میں، آبائی گھر گرا کر وہیں اپنا گھر بنانا چاہ رہی ہو۔ جب کہ انکے پاس باہر کھلے راستے پر پلاٹ بھی موجود ہو یا پلاٹ لے سکنے کی استطاعت بھی ہو۔ حالانکہ اس گھر کو ویسا ہی رہنے دینا چاہیے اور کھلی جگہ گھر بنانا چاہیے۔
3- عشق میں پڑے کسی مرد کو۔ کہ جس حسین چہرے کے پیچھے جو تم پاگل ہو اور اسے چھوڑ رہے ہو یا گنوا رہے ہو، اگنور کر رہے ہو، وہ اس لا حاصل سے لاکھ درجے بہتر ہے، جو تمہیں حاصل اور دستیاب ہے۔ لاحاصل بھی جب حاصل ہو جائے گا تو موجودہ حاصل کی مانند جذبات ہونگے۔
4- شادی کے بعد ماں سے صبح شام ٹیویشن لینے والی بیٹی۔ پل پل کی خبر دینے والی اور ماں کی عقل سے سسرال میں چلنے والی۔ جب تک اسے سمجھ آتی کہ اپنی عقل استعمال کرنی ہے، ہر بات وہاں بتانا ضروری نہیں ہے۔ تب تک وہ خود بھی ذلیل ہو چکی ہوتی اور اپنے گھر والوں کی بھی عزت اپنے سسرال میں برباد کر چکی ہوتی۔ اپنے خاوند کو بھی اپنے میکے میں مجرم ثابت کر چکی ہوتی۔ زندگی تو بعد میں چلتی رہتی ہے مگر وہ شروع کے سالوں میں لی گئی ٹیویشن کے اثرات کبھی پیچھا نہیں چھوڑتے۔
5- کردار، ہنر، علم، مرتبے و موجودہ اپنی حیثیت کو چھوڑ کر ذات برادری یا اپنے آباؤ اجداد کے قصے کہانیوں کی بنیاد پر خود کو اعلی و ارفع سمجھنے والے بیوقوف کو بھی آپ کبھی نہیں بدل سکتے۔ میرے بھائی وہ ہاتھی پر گھوڑے پر سواری کرتے تھے، راجہ مہاراجہ تھے، تم کیا ہو؟ تمہارے پاس کیا ہے؟ تمہارے پاس کتنی جاگیر ہے؟ کتنے ملازم ہیں؟ کونسے محل میں رہتے ہو؟

