Monday, 06 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Malik Asad Jootah
  4. Sasti Shohrat Aur Bikharti Nasal e Nao

Sasti Shohrat Aur Bikharti Nasal e Nao

سستی شہرت اور بکھرتی نسلِ نو

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی تہذیب مٹی ہے، تو اس کے پیچھے کسی بیرونی لشکر کا ہاتھ بعد میں اور اس کے اپنے اندرونی فکری و اخلاقی زوال کا ہنگامہ پہلے برپا ہوا ہے۔ آج ہم جس عہدِ ملوکیتِ جدید یعنی ٹیکنالوجی کے دور میں سانس لے رہے ہیں، اس نے بظاہر فاصلے تو سمیٹ دیے ہیں مگر انسانی اقدار، سنجیدگی اور فہم و ادراک کے وسیع سمندروں کو سکھا کر چند سیکنڈز کی ایک اسکرین میں قید کر دیا ہے۔

اس ڈیجیٹل یلغار کے بطن سے جنم لینے والا ایک فتنہ ٹک ٹاک کی صورت میں ہماری دہلیز پار کرکے اب ہماری خلوتوں پر بھی قابض ہو چکا ہے۔ یہ محض ایک تفریحی ایپلی کیشن نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا خاموش فکری نشہ ہے جس نے ہماری نوجوان نسل کے شعور کو اس بے دردی سے مفلوج کیا ہے کہ جہاں علم، کتاب، حیا اور تہذیب اب قصہِ پارینہ معلوم ہوتے ہیں اور زندگی کا کل حاصل محض لائیکس اور ویوز کی صورت میں برآمد ہو رہا ہے۔ سستی شہرت کی اس اندھی ہوس نے ایک مائنڈ لیس (بے مغز) معاشرے کی بنیاد رکھ دی ہے، جہاں تماشہ بننے اور تماشہ دیکھنے کے علاوہ کوئی دوسرا قومی مشغلہ باقی نہیں رہا۔

​اگر ہم اس ڈیجیٹل اسکرین پر پھیلنے والے تعفن کا گہرائی سے جائزہ لیں، تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ راتوں رات سلیبریٹی بننے کے چکر میں اخلاقیات، خاندانی وقار اور انسانی عزتِ نفس کا جنازہ روزانہ سرِ عام اٹھایا جاتا ہے۔ جن نوجوانوں کے کاندھوں پر اس قوم کی فکری باگ ڈور ہونی تھی، وہ آج کسی شاہراہ پر چلتی ٹرین کے سامنے خطرناک اسٹنٹس کرتے، یا کسی معصوم شہری کی تذلیل کرکے اسے پرینک کا نام دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ حیا، جو کبھی ہمارے معاشرے کا حسن اور زیور ہوا کرتی تھی، اب اس چند انچ کی اسکرین پر ویوز بٹورنے کا سب سے سستا ہتھیار بن چکی ہے۔ دکھ تو اس بات کا ہے کہ نوجوانوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں کو کسی تعمیری سانچے میں ڈھالنے کے بجائے، خود کو سرِ بازار تماشہ بنانے کو آرٹ اور فن کا نام دے دیا ہے اور اِسی پستی کو اپنی زندگی کی معراج سمجھ بیٹھے ہیں۔

​ایک وہ وقت تھا جب اس دھرتی کے گلی کوچوں اور چائے خانوں میں جب نوجوان بیٹھتے تھے، تو ان کی گفتگو کا محور علم، سیاست، عالمی منظرنامہ، فلسفہ، ادب اور مستقبل کے جاندار منصوبے ہوا کرتے تھے۔ کتاب ان کی رفیقِ تنہائی ہوتی تھی اور اچھے اساتذہ کی صحبت ان کا فخر۔ مگر آج کے نوجوان کا کل کائنات پندرہ سیکنڈ کی ایک کھوکھلی ویڈیو اور اس کے نیچے آنے والے چند سطحی کمنٹس ہیں۔ اس رحجان نے نئی نسل میں ایسا گہرا فکری جمود اور بانجھ پن پیدا کر دیا ہے جس کے ہولناک نتائج ہمارے سامنے ہیں۔

مطالعے کی عادت دم توڑ چکی ہے، لائبریریاں ویران ہیں اور دماغ شارٹ ویڈیوز کے اسیر ہو کر گہری سوچ اور متبادل زاویہِ نگاہ سے بالکل محروم ہو چکے ہیں۔ جب کسی معاشرے کے نوجوانوں کا فکری معیار اور کامیابی کا پیمانہ محض وائرل ہونا قرار پا جائے، تو وہاں پھر دانشور، مفکر، سائنسدان اور مصلح پیدا نہیں ہوا کرتے، بلکہ وہاں صرف تماش بینوں کی ایک ایسی بھیڑ جمع ہوتی ہے جو معلومات سے تو لیس ہوتی ہے، مگر حکمت، تدبر اور اصل شعور سے بالکل پیدل ہوتی ہے۔

​اس ورچوئل دنیا کا ایک اور خطرناک پہلو وہ نفسیاتی بحران ہے جو اس نے ہماری صفوں میں پیدا کر دیا ہے۔ ٹک ٹاک کی اس چکا چوند دنیا میں ہر شخص ایک مصنوعی، پرآسائش اور پرفیکٹ زندگی کی جھوٹی عکاسی کر رہا ہے۔ جب ایک عام یا مڈل کلاس طبقے کا نوجوان اس بناوٹی چمک دمک کو دیکھتا ہے، تو وہ لاشعوری طور پر احساسِ کمتری اور شدید مایوسی کی دلدل میں دھنس جاتا ہے۔ جب اس کی تلخ حقیقی زندگی اور اس ڈیجیٹل سراب کا آپس میں ٹکراؤ ہوتا ہے، تو اس کے نتیجے میں معاشرتی بغاوت، چڑچڑاپن اور ڈپریشن جنم لیتا ہے۔

وہ محنت، ریاضت اور صبر کے طویل تعمیری راستے کو یکسر مسترد کرکے شارٹ کٹ کے ذریعے راتوں رات امیر ہونے کے خواب بننے لگتا ہے اور یہی خواب اکثر اسے جرائم، منشیات یا مستقل ناامیدی کی اندھی کھائی میں لا کھڑا کرتے ہیں۔ مگر یہاں ہمیں گریباں میں جھانک کر یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ صرف ان کم عمر ٹک ٹاکرز کو سولی پر لٹکانا کہاں کا انصاف ہے؟ اصل مجرم تو ہمارا وہ تماش بین معاشرہ ہے جو اس سستے اور بیہودہ مواد پر داد و تحسین کے ڈونگرے برساتا ہے۔ ہم ایک ایسے بازار کے خریدار بن چکے ہیں جہاں کچرا مہنگے داموں بکتا ہے اور علم و ہنر کو کوئی کوڑی کے بھاؤ بھی نہیں پوچھتا۔

Check Also

Barhti Abadi, Ghat-te Wasail

By Muhammad Umar Shahzad