Monday, 06 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Abid Mehmood Azaam
  4. Kya Hum Yaqeen Ke Sath Ye Dawa Kar Sakte Hain?

Kya Hum Yaqeen Ke Sath Ye Dawa Kar Sakte Hain?

کیا ہم یقین کے ساتھ یہ دعویٰ کرسکتے ہیں؟

سوشل میڈیا پر سابق ایس ایس پی لاہور عمر ورک سے منسوب ایک بیان تیزی سے گردش کر رہا ہے، جس میں ان سے یہ الفاظ منسوب کیے جا رہے ہیں: "اگر میں نے اپنی 39 سالہ ملازمت کے دوران ایک روپیہ بھی رشوت لی ہو تو مجھے نبی کریم ﷺ کی شفاعت نصیب نہ ہو"۔ ​یہ ایک انتہائی سنگین اور بڑا دعویٰ ہے۔ اس بیان پر سوشل میڈیا پر ملے جلے ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ جہاں بہت سے لوگ ان کے کردار کو سراہ رہے ہیں، وہیں بعض افراد شکوک و شبہات کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی شخص کے کردار کے بارے میں قطعی گواہی دینا اسی کے لیے ممکن ہے جو اس کا براہِ راست شاہد ہو۔ تاہم اگر سابق پولیس آفیسر عمر ورک نے واقعی یہ الفاظ کہے ہیں اور ان کا یہ دعویٰ درست ہے تو بلاشبہ یہ غیر معمولی دیانت داری کی ایک روشن مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں دنیا و آخرت کی بھلائیاں عطا فرمائے۔

​ایسے دیانت دار اور فرض شناس انسان ہی معاشرے کا حقیقی اثاثہ ہوتے ہیں اور انہی کی بدولت دنیا میں خیر باقی ہے۔ ایسے افراد کسی بھی شعبے سے وابستہ ہوں، ملک و قوم کے لیے باعثِ فخر ہوتے ہیں۔ ان کے کردار کی ستائش اس لیے بھی ضروری ہے، کیونکہ دور حاضر میں ایسے کردار تلاش کرنے سے بھی نہیں ملتے۔ ​سوشل میڈیا پر سابق پولیس آفیسر کے کردار سے متعلق متعدد واقعات گردش کر رہے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ دورانِ ملازمت جب ان پر الزامات لگائے گئے تو انہوں نے عدالت میں نہایت اعتماد اور بے باکی سے جواب دیا: "اگر میں نے اپنی پوری سروس میں ایک روپیہ بھی رشوت لی ہو تو میری بیوی کو تین طلاقیں ہوں۔ الزام لگانا آسان ہے، اگر کسی کے پاس ثبوت ہے تو سامنے لائے۔ یہ وہ دنیا ہے جہاں اللہ کے نیک بندوں پر بھی تہمتیں لگتی رہی ہیں"۔ ​یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ انہوں نے پوری ملازمت کے دوران محض اپنی حلال تنخواہ پر گزارا کیا اور حسبِ استطاعت ضرورت مندوں کی مدد بھی کرتے رہے۔ ان کے بعض ساتھی افسران بھی ان کی دیانت داری کی گواہی دیتے ہیں۔

اگر یہ تمام دعوے سچ ہیں تو عمر ورک جیسے فرض شناس لوگ یقیناً ہر ادارے کے لیے باعثِ فخر ہیں۔ یہ معاملہ محض ایک پولیس افسر تک محدود نہیں، یہ کردار تو ہم سب کے لیے ایک نمونہ ہے۔ بحیثیت مجموعی ایسا کردار اپنانا ہم سب پر لازم ہے، ہمارا حق صرف وہی ہے جو ریاست کی طرف سے مقرر ہے۔ ​ہم سب کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ کیا ہم میں سے ہر شخص اتنے ہی اعتماد کے ساتھ اپنے کردار کی گواہی دے سکتا ہے؟

پولیس اہلکار، سیاست دان، بیوروکریٹس، ججز، جرنیل اور تمام محکموں کے چھوٹے بڑے تمام درجات کے سرکاری ملازمین لوگ پورے یقین کے ساتھ قسم اٹھا کر کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے اپنے منصب سے کبھی ناجائز فائدہ نہیں اٹھایا؟ ہمارے معاشرے میں بدعنوانی اس قدر سرایت کر چکی ہے کہ شاید سرکاری محکموں میں کام کرنے والے ایک فیصد افراد بھی اطمینان کے ساتھ ایسی قسم کھانے کی جسارت نہ کر سکیں۔ ​ہمیں دوسروں پر الزام تراشی سے قبل اپنے کردار، اپنی دیانت اور امانت داری کا احتساب کرنا چاہیے، کیونکہ کسی معاشرے کی حقیقی اصلاح افراد کی اصلاح سے ہی ممکن ہے۔

Check Also

Barhti Abadi, Ghat-te Wasail

By Muhammad Umar Shahzad