Hazrat Shoaib Ke Mazar Par
حضرت شعیبؑ کے مزار پر

ترکی سے ہمارا قافلہ اردن پہنچا تو یوں محسوس ہوا جیسے مشرقِ وسطیٰ کا ایک اور باب کھل گیا ہو۔ اردنی شاید واحد عرب قوم ہے جو انگریزی سے خاصی مانوس ہے اور اس مانوسیت کا عملی مظاہرہ ہمیں پہلے ہی دن دیکھنے کو ملا۔ عبداللہ صاحب، جو ہمارے گروپ کی نمائندگی کر رہے تھے، پوری تیاری کے ساتھ آئے تھے۔ اردنی حکام کے ساتھ ہونے والے اجلاس میں انہوں نے اردن کی تاریخ، معیشت اور سماجی ڈھانچے پر ایسی مدلل اور اعداد و شمار سے بھرپور گفتگو کی کہ میز کے دونوں طرف سنجیدہ توجہ قائم رہی۔ عمان، جو اردن کا دارالحکومت ہے، پہلی نظر میں ہی دل کو بھا گیا۔ صاف ستھرا، منظم اور حیرت انگیز طور پر کوڑے کرکٹ سے پاک شہر۔ سڑکیں گویا دھلی ہوئی، فضا میں ایک ترتیب اور ٹھہراؤ۔ یہ وہ پہلا تاثر تھا جو دیر تک ساتھ رہا۔
اردن کی زمین آثارِ قدیمہ سے بھری پڑی ہے، مگر پیٹرا کی بات ہی کچھ اور ہے۔ جنوبی اردن میں واقع یہ شہر پتھروں میں تراشی ہوئی تاریخ کا جیتا جاگتا استعارہ ہے۔ سرخ چٹانوں میں بسے یہ آثار انسان کو وقت کے بہاؤ میں پیچھے لے جاتے ہیں۔ میں نے وہاں سے لکڑی کا بنا ہوا پیٹرا کا ایک ماڈل بطور یادگار خریدا۔ بعد میں جب ڈاکٹر محمد اسرار الحق آسٹریلیا مقیم ہوئے تو یہ چھوٹا سا ماڈل بھی ان کے ساتھ چلا گیا۔ آسٹریلوی حکام نے، جو لکڑی کی اشیا کے معاملے میں خاصے سخت ہیں، اسرار صاحب سے بھاری فیس وصول کرکے اس لکڑی کو لیبارٹری میں جانچا، تب کہیں جا کر اسے گھر لے جانے کی اجازت ملی۔ اسی سفر میں حضرت شعیبؑ کی قبر کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ قبر غیر معمولی طور پر طویل تھی، ایسی کہ آدمی ٹھٹھک کر کھڑا ہو جائے اور تاریخ و روایت کے امتزاج پر سوچنے لگے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ وزارتِ عظمیٰ میں کچھ سندھی کسان اردن میں آباد کیے گئے تھے، ان سے ملاقات ہوئی تو وطن کی خوشبو اجنبی سرزمین میں بھی محسوس ہوئی۔
عمان میں سردی خاصی سخت تھی۔ سویٹر پر سویٹر اور کوٹ پر کوٹ پہنے بغیر گزارا نہ تھا۔ بازاروں میں گھومتے ہوئے میں نے قرآنِ پاک کا ایک جیبی نسخہ خریدا جس کی جلد مادرِ مروارید (Mother of Pearls) سے بنی ہوئی تھی۔ یہ محض خریداری نہ تھی، ایک یاد تھی جو سفر کے احساسات کو اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔ 1987ء کا آخری دن عمان میں گزرا اور وہ نیو ایئر نائٹ تھی۔ اسی شام مجھے یاد آیا کہ عبدالمطلب، اردن کا ایک افسر، نیپلز، اٹلی میں میرا ہم جماعت رہا تھا۔ میں نے اسے تلاش کرنے کی ٹھان لی۔ جس سے بھی اس کے بارے میں پوچھتا، وہ اس کے قبیلے کا نام جاننا چاہتا، جو مجھے معلوم نہ تھا۔ بہرحال کئی گھنٹوں کی تلاشِ بسیار کے بعد آخرکار میں اس کے اپارٹمنٹ تک پہنچ ہی گیا۔
دروازے کی گھنٹی بجائی تو عبدالمطلب باہر نکلا۔ مجھے دیکھ کر اس کے چہرے پر حیرت اور خوشی بیک وقت ابھری کہ میں عمان میں کیا کر رہا ہوں! اس نے بتایا کہ آج اس کے ہاں نیو ایئر نائٹ کی تقریب ہے اور میں اس کا حصہ ہوں گا۔ اس کے کچھ اعزہ فرانس سے بھی آئے ہوئے تھے۔ دسترخوان بچھا تو عرب مہمان نوازی کا پورا جلال سامنے تھا۔ پلاؤ سے بھری ایک دیوہیکل پرات، جس پر چلغوزوں کی گریاں ایسے بکھری تھیں جیسے کسی نے فراوانی کا اعلان کر دیا ہو۔ گوشت کے لیے کئی بکرے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ مشتاق احمد یوسفی کے قول کی بےساختہ یاد آئی کہ عالمِ اسلام میں کوئی بکرہ طبعی موت نہیں مرتا۔ عبدالمطلب نے بھنے ہوئے گوشت سے میری پلیٹ اس طرح بھر دی کہ وہ ختم ہونے کا نام ہی نہ لے۔
میں حیران تھا کہ یہ عرب جس کثیر مقدار میں گوشت اور پلاؤ تناول کر رہے تھے، وہ کہاں اترتا ہوگا اور وہ اس بات پر حیران تھے کہ میں نے اتنی قلیل مقدار پر ہی اکتفا کیوں کیا۔ یہ محض خوراک کا فرق نہ تھا، یہ تہذیبوں کے ذوق، عادتوں اور ترجیحات کا فرق تھا۔ اس رات، سرد عمان میں، عرب مہمان نوازی، پرانی دوستی اور نئے سال کی دہلیز پر کھڑے ہونے کا احساس، سب ایک ساتھ سمٹ آئے۔ حضرت شعیبؑ کے مزار کی زیارت سے لے کر پیٹرا کی خاموش چٹانوں اور عبدالمطلب کے گھر کی پرات تک، یہ سفر یادوں کی ایسی زنجیر بن گیا جس کی ہر کڑی اپنی جگہ روشن ہے۔
بشکریہ: جناب اظہارالحق: بکھری ہے میری داستان

