Tuesday, 16 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Kasb e Kamal Kun: Baba Misri

Kasb e Kamal Kun: Baba Misri

کسبِ کمال کُن: بابا مصری

كسب كمال كُن كہ عزيزِ جہان شوى
كس بے كمال ہيچ نيرزد، عزيزِ من!

دیہات کی زندگی اپنے اندر ایک ایسی سادگی، کشادگی اور مانوس محبت رکھتی ہے جسے لفظوں میں پوری طرح قید کرنا شاید ممکن نہیں۔ وہاں انسان صرف انسان نہیں ہوتا، ایک پورا جہان ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ اس کی زمین جڑی ہوتی ہے، اس کے جانور جڑے ہوتے ہیں، اس کی روایات، اس کی مہمان نوازی، اس کی خاموشیاں اور اس کے دکھ سکھ سب ایک دوسرے میں یوں پیوست ہوتے ہیں جیسے مٹی میں خوشبو۔ ہمارے گاؤں کے انہی خوشبو دار کرداروں میں ایک روشن اور ناقابلِ فراموش نام بابا مصری کا تھا۔ وہ بابا پھتہ کے دوسرے فرزندِ ارجمند تھے۔ غیر معمولی ذہانت، بے مثال محنت، گہری بصیرت اور حد درجہ مہمان نوازی ان کی شخصیت کے بنیادی اوصاف تھے۔

اگر بابا پھتہ اپنی وسیع القلبی اور مہمان دوستی کے باعث پورے علاقے میں معروف تھے تو بابا مصری نے اس وصف کو گویا نئی وسعت عطا کر دی تھی۔ مہمان ان کے گھر دنوں نہیں بلکہ مہینوں قیام کرتے اور انہیں کبھی یہ احساس نہ ہوتا کہ وہ کسی دوسرے کے گھر میں موجود ہیں۔ بابا مصری ان کے ساتھ ایسا برتاؤ کرتے جیسے اپنی اولاد کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ جب کوئی مہمان رخصت ہونے کی اجازت مانگتا تو بابا کی آنکھیں نم ہو جاتیں۔ ان کی مخصوص دیہاتی بولی میں محبت سے بھیگی ہوئی آواز بلند ہوتی، "او بھیڑیا جھلیا، کدے وینا، ٹِکا رو"۔ یہ الفاظ صرف روکنے کے لیے نہیں ہوتے تھے، یہ ایک محبت کرنے والے دل کی پکار ہوتی تھی۔ مہمان بھی ان کے اخلاص سے متاثر ہو کر اداس ہو جاتے۔ ان کی آواز بھرّا جاتی اور وہ کہتے، "بابا اب جانا ضروری ہے، کچھ کام بھی کرنے ہیں، پھر حاضر ہوں گے" اور یوں رخصتی کا وہ منظر کسی پرانے داستانی عہد کی طرح دل میں اتر جاتا۔

بابا مصری کی شخصیت کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی تھا کہ اس زمانے میں جب تقریباً ہر شخص کا کوئی نہ کوئی عرف، بگڑا ہوا نام یا دیہاتی تخلص ہوا کرتا تھا، بابا مصری ان چند خوش نصیب لوگوں میں شامل تھے جنہیں ہر شخص ان کے اصل نام سے پکارتا تھا۔ دور دور تک وہ صرف بابا مصری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ شاید ان کی شخصیت میں ایسی سچائی اور ایسی مضبوط شناخت تھی کہ کسی اضافی نام کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی۔ وہ کھلی اور بڑی کھیتی باڑی کرتے تھے۔ دور تک پھیلے ہوئے کھیت، بیلوں کی قطاریں، نرم مٹی کی خوشبو اور ان کے مضبوط ہاتھوں میں ہل ایک ایسا منظر تخلیق کرتے تھے جو آج کے زمانے میں شاید تصویروں میں بھی کم دکھائی دیتا ہے۔ وہ اور ان کا بڑا بیٹا ہل چلانے میں غیر معمولی محنت کرتے۔ صبح صادق نمودار ہونے سے پہلے بیدار ہو جاتے۔

تاریکی ابھی پوری طرح چھٹی بھی نہ ہوتی کہ وہ اپنے بیلوں اور ہل کے ساتھ کھیتوں کی طرف روانہ ہو جاتے۔ تاروں کی مدھم روشنی میں زمین پر ہل چلتا اور بابا اپنے بیلوں سے باتیں کرتے جاتے۔ ان کے لیے جانور صرف جانور نہیں تھے بلکہ ہم سفر تھے، رازدار تھے، محنت کے ساتھی تھے۔ ان کی بیگم بھی غیر معمولی خاتون تھیں۔ تہجد گزار، صابر اور اپنے شوہر کی مشقت بھری زندگی کی خاموش رفیق۔ بابا جب کھیتوں کو روانہ ہوتے تو وہ اٹھ کر تہجد ادا کرتیں، پھر نماز فجر پڑھتیں اور اس کے بعد ان کا ناشتہ لے کر کھیتوں میں پہنچ جاتیں۔ وہ ناشتہ دیہاتی زندگی کی توانائی اور خلوص کا مکمل استعارہ تھا۔ تازہ مکھن، دودھ، لسی اور دیسی گھی میں ڈوبے ہوئے بڑے بڑے اور موٹے موٹے پراٹھے۔ یہی وہ خوراک تھی جو ان لوگوں کو صبح سے شام تک مسلسل محنت کرنے کی طاقت بخشتی تھی۔

بابا مصری کے دو بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں۔ ان کی اولاد میں بھی محنت اور سادگی کی روایت جاری رہی۔ ایک بیٹا اور تین بیٹیاں کھیتی باڑی سے وابستہ رہیں جبکہ ایک بیٹے کو انہوں نے تعلیم کے لیے سکول بھیجا۔ اس نے دس جماعتیں پڑھیں اور بعد ازاں پاکستان نیوی میں شامل ہوگیا۔ کراچی جا کر اس نے ایک طویل عرصے تک نہایت دیانت داری اور قابلیت سے خدمات انجام دیں۔ وہ بیرونِ ملک بھی تعینات رہا اور پھر ریٹائرمنٹ کے بعد واپس اپنے گاؤں اور اپنے باپ کے پاس لوٹ آیا۔ بابا کو اپنے پوتوں سے غیر معمولی محبت تھی۔ وہ ان کی خوراک کا خاص خیال رکھتے اور گھر کی گائیوں کا تازہ دودھ انہیں خوب پلاتے۔ ان کے گھر میں گائیں بھی تھیں، بکریاں بھی اور بھیڑوں کا تو پورا ریوڑ تھا۔ بکریوں اور گائیوں کو ویہڑے میں کلوں سے باندھا جاتا مگر بھیڑوں کے لیے الگ بڑی چاردیواری تھی جس کے دروازے پر لکڑی کا ایک کھڑُک سا لگا ہوتا جسے مقامی زبان میں "واڑی" کہا جاتا تھا۔

شام ڈھلے جب ریوڑ واپس آتا تو انہیں اس واڑی میں داخل کر دیا جاتا جہاں وہ آزادی اور سکون کے ساتھ رات گزارتیں۔ کبھی کبھار کوئی بھیڑ وہاں مری ہوئی ملتی تو بابا ایک عجیب فلسفیانہ انداز میں کہتے کہ بھیڑ بہت خوددار جانور ہے۔ وہ تکلیف برداشت کر لیتی ہے مگر اپنی اذیت کا اظہار نہیں کرتی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ بھیڑ سمجھتی ہے کہ اگر اس کی تکلیف کسی نے جان لی تو شاید اس کے دشمن خوش ہوں گے، اس لیے وہ خاموشی سے دکھ سہتی ہے اور خاموشی سے مر جاتی ہے۔ اس زمانے میں مجھے یہ باتیں محض دیہاتی قصے معلوم ہوتی تھیں مگر آج سوچتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ بابا دراصل جانوروں کے پردے میں انسانوں کی نفسیات بیان کر رہے تھے۔

بابا مصری واقعی اپنے جانوروں کی نفسیات کے ماہر تھے۔ وہ جانتے تھے کون سا جانور کیسا مزاج رکھتا ہے، کون ضدی ہے، کون فرمانبردار، کون حساس اور کون کم ظرف۔ انہیں اپنے جانوروں کی پسند ناپسند، عادات اور ضروریات تک کا علم تھا۔ وہ ان سے صرف حکم کے انداز میں بات نہیں کرتے تھے بلکہ باقاعدہ مکالمہ کرتے تھے۔ آخری عمر میں جب ان کی بینائی تقریباً ختم ہو چکی تھی تب بھی ان کی بصیرت سلامت تھی۔ وہ لمبی سوٹی ہاتھ میں لیتے، کھوتی پر سوار ہوتے اور اپنے ریوڑ کو لے کر کھیتوں کی طرف روانہ ہو جاتے۔ انہیں راستے یاد تھے، جھاڑیاں یاد تھیں، چراگاہیں یاد تھیں اور اپنے جانوروں کی آوازیں بھی۔ وہ ان سے اپنی مخصوص بولی میں باتیں کرتے رہتے۔ کبھی سوال کرتے، کبھی جواب دیتے، کبھی انہیں ڈانٹتے اور کبھی پیار سے پکارتے۔ ان کے اور ان کے جانوروں کے درمیان ایک ایسا رشتہ قائم تھا جسے شاید جدید دنیا کبھی سمجھ ہی نہ سکے۔ آج جب انسان انسان سے بات کرنے سے گھبراتا ہے، بابا اپنے جانوروں سے مکالمہ کرتے تھے۔ ان کی دنیا میں خاموشی بھی بولتی تھی، مٹی بھی سانس لیتی تھی اور جانور بھی احساس رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے آس پاس رہنے والے بچوں کو بھی جانوروں سے محبت، زمین سے تعلق اور محنت سے عشق سیکھنے کو ملا۔

انہوں نے ایک طویل عمر پائی۔ ہمیں ڈانٹا بھی، سمجھایا بھی، محبت بھی دی اور زندگی کی بے شمار کہانیاں بھی سنائیں۔ پھر ایک رات خاموشی سے آئی اور ہمارے بابا ہمیں چھوڑ کر اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئے۔ زندگی کے کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود دل کے کسی کونے میں قائم رہتے ہیں۔ بابا کے انتقال کے وقت میں گھر سے دور تھا اور ان کے جنازے میں شریک نہ ہو سکا۔ یہ حسرت آج بھی دل میں موجود ہے۔ انسان عجیب مسافر ہے، کبھی کسی اجنبی کے جنازے میں شریک ہو جاتا ہے اور کبھی اپنے کسی بہت پیارے کے آخری دیدار سے محروم رہ جاتا ہے۔ شاید اسی لیے اللہ تعالیٰ نے نمازِ جنازہ کو فرضِ کفایہ رکھا کہ کچھ لوگ ادا کر لیں تو سب کی طرف سے ہو جائے۔ بعد میں جب گاؤں گیا تو بابا کی قبر پر حاضر ہوا، دعا کی، ان سے غیر حاضری کی معافی مانگی اور دیر تک خاموش کھڑا رہا۔

آج بھی جب کبھی گاؤں جانا ہوتا ہے تو ان کی مرقد پر ضرور حاضر ہوتا ہوں۔ فاتحہ پڑھتا ہوں، ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کرتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ بعض لوگ مر کر بھی ختم نہیں ہوتے۔ وہ اپنے لہجے، اپنی محبت، اپنی شفقت، اپنے کھیتوں، اپنی مٹی اور اپنی دعاؤں میں زندہ رہتے ہیں۔ بابا مصری بھی انہی لوگوں میں سے ایک تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور انہیں اپنی خاص رحمت اور خاص مقام عطا فرمائے۔

Check Also

Peoples Party Ki Dikhai Pani Ke Mumkina Qaziye Ki Jhalak

By Nusrat Javed