Iran Jang Ki Qeemat Puri Dunya Ne Ada Ki
ایران جنگ کی قیمت پوری دنیا نے ادا کی

ایران جنگ میں ہزاروں ہلاکتیں ہوئیں، فریقین کا سیکڑوں ارب ڈالر کا براہ راست نقصان ہوا جبکہ اس کی قیمت پوری دنیا نے ادا کی۔ امن معاہدہ ہونے کے باوجود اس کے اثرات شاید برسوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے، عالمی تجارت میں رکاوٹ، مہنگائی میں تیزی اور سرمایہ کاری میں کمی نے اسے عالمی اقتصادی بحران میں تبدیل کردیا۔
گارڈین کے مطابق دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو اس جنگ کے اثرات سے مکمل طور پر محفوظ رہا ہو۔ کہیں پٹرول مہنگا ہوا، کہیں خوراک کی قیمتیں بڑھیں، کہیں فضائی سفر متاثر ہوا اور کہیں سرمایہ کاری رک گئی۔ ماہرین کے مطابق جنگ کی سب سے بڑی قیمت وہ غیر یقینی صورتحال ہے جس نے عالمی معیشت کو متاثر کیا۔ امریکی فیڈرل ریزرو کے ماہرین داریو کالدارا اور میٹیو ایاکوویلو کے جیوپولیٹیکل رسک انڈیکس کے مطابق یہ جنگ عالمی بے یقینی کو 2022 میں یوکرین پر روسی حملے اور 2003 کی عراق جنگ کے مساوی سطح تک لے گئی۔
جنگ کی سب سے بھاری قیمت ایران نے ادا کی۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حملوں میں 3300 سے زیادہ افراد ہلاک اور 30 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے۔ بیس اسکول مکمل طور پر تباہ ہوگئے جبکہ 240 طبی مراکز اور اسپتالوں کو نقصان پہنچا۔ پل، سڑکیں، پانی اور بجلی کے نظام متاثر ہوئے۔ پانچ عالمی ثقافتی ورثے کے مقامات اور 54 عجائب گھر بھی حملوں کی زد میں آئے۔ جنگ کے پہلے ہی دن پرائمری اسکول کے 120 بچے مارے گئے، جو اس تنازعے کا سب سے المناک واقعہ تھا۔
ایران کی معیشت کو بھی شدید دھچکا پہنچا۔ امریکی ناکابندی اور جنگی حالات کے باعث ایران کو تقریباً 14 ارب ڈالر ماہانہ نقصان پہنچ رہا تھا۔ تیل کی برآمدات متاثر ہوئیں، بندرگاہوں کی سرگرمیاں محدود ہوئیں اور بیرونی سرمایہ کاری تقریباً رک گئی۔ نیویارک پوسٹ کے مطابق ایران کی تعمیر نو کے لیے خلیجی ممالک کی جانب سے 300 ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری پر غور کیا جارہا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ سرمایہ کاری ایران کو انفرااسٹرکچر کی بحالی اور معیشت کی تعمیر نو میں مدد دے سکتی ہے، لیکن اس کا انحصار مستقبل کے سیاسی معاہدوں پر ہوگا۔
اسرائیل نے جنگ کے دوران لبنان میں حزب اللہ کے خلاف دوسرا محاذ کھولا، جس نے تباہی کے دائرے کو مزید وسیع کردیا۔ لبنانی حکام کے مطابق اسرائیلی حملوں میں 3700 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جبکہ تقریباً 10 لاکھ افراد کو اپنے گھر چھوڑنا پڑے۔ یہ تعداد لبنان کی کل آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ تھی۔ عراق میں بھی 100 سے زیادہ افراد مارے گئے۔
اسرائیل کو بھی جنگ کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی جہاں ایرانی حملوں سے کم از کم 50 افراد ہلاک ہوئے۔ اگرچہ اس نے ایرانی جوہری اور فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا، لیکن ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں نے اسرائیل کو مسلسل دفاعی حالت میں رکھا۔ جدید میزائل شکن نظاموں کو فعال رکھنے، فضائی دفاع کو مضبوط بنانے اور فوجی کارروائیوں کے اخراجات نے اسرائیلی بجٹ پر بڑا دباؤ ڈالا۔ اس کے علاوہ کاروباری سرگرمیوں، سیاحت اور سرمایہ کاری پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے۔
خلیجی عرب ممالک بھی اس جنگ سے محفوظ نہ رہ سکے۔ متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت اور عمان کو ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ان حملوں میں متعدد شہری ہلاکتیں ہوئیں جبکہ ہوٹلوں، ہوائی اڈوں اور تیل و گیس کی اہم تنصیبات کو نقصان پہنچا۔ اگرچہ ان ممالک میں تباہی ایران یا لبنان جیسی نہیں تھی، لیکن انھیں دفاعی تیاریوں، فضائی دفاعی نظام اور توانائی کے انفرااسٹرکچر کے تحفظ پر اربوں ڈالر خرچ کرنا پڑے۔
مالی اعتبار سے امریکا بھی اس جنگ کا بڑا بوجھ اٹھا رہا ہے۔ ایک سینئر پینٹاگون عہدیدار کے مطابق مئی 2026 تک جنگ کی لاگت 29 ارب ڈالر تھی۔ اقوام متحدہ کے ایک سینئر عہدیدار نے اندازہ لگایا کہ جنگی کارروائیوں پر روزانہ تقریباً دو ارب ڈالر خرچ ہو رہے تھے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتوں میں اضافے، تجارت میں رکاوٹوں اور سرمایہ کاری میں کمی جیسے بالواسطہ اثرات شامل کیے جائیں تو مجموعی لاگت اس سے کہیں زیادہ ہوگی۔ گولڈمین سیکس کے مطابق جنگ کے نتیجے میں امریکی اقتصادی نمو میں تقریباً نصف فیصد کمی آسکتی ہے، یونیورسٹی آف مشی گن کے ماہر جسٹن وولفرز کے مطابق ایک عام امریکی خاندان کو ہزاروں بلکہ بعض صورتوں میں دسیوں ہزار ڈالر تک کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑسکتا ہے۔
اس جنگ کا سب سے بڑا معاشی اثر آبنائے ہرمز کی بندش کی صورت میں سامنے آیا۔ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل اس آبی گزرگاہ سے ہوتی ہے۔ عالمی بینک کے مطابق آبنائے کی بندش سے برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت 94 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 36 فیصد زیادہ تھی۔ کھاد کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں خوراک مہنگی ہونے لگی اور غریب ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے اسے عالمی تیل کی فراہمی میں تاریخ کی سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک قرار دیا۔ جیٹ فیول کی قیمتیں دوگنی ہوگئیں، ہزاروں پروازیں منسوخ ہوئیں اور کم از کم ایک امریکی فضائی کمپنی دیوالیہ ہوگئی۔ 800 سے زیادہ تجارتی جہاز اور تقریباً 20 ہزار ملاح آبنائے ہرمز کے مغرب میں پھنس گئے۔ ایشیا کے کئی ممالک میں ایندھن کی راشن بندی شروع ہوئی جبکہ بعض علاقوں میں گیس کی قلت کے باعث کاروبار بند ہونے لگے۔
اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ اس جنگ کے نتیجے میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے جاسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی بینک نے متاثرہ ترقی پذیر ممالک کی مدد کے لیے 60 ارب ڈالر مختص کرنے کا اعلان کیا ہے اور ضرورت پڑنے پر اس امداد کو 100 ارب ڈالر تک بڑھانے کی بات کی ہے۔
اب جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان ابتدائی معاہدہ طے پاچکا ہے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی تیاری ہورہی ہے، تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی ضرور آئی ہے، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ جنگ کے اثرات فوری طور پر ختم نہیں ہوں گے۔ تباہ شدہ انفرااسٹرکچر کی تعمیر، تجارتی اعتماد کی بحالی، مہنگائی پر قابو اور سرمایہ کاری کی واپسی میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ اس جنگ نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ اب کوئی بھی بڑا تنازع صرف اس خطے تک محدود نہیں رہتا جہاں وہ شروع ہوتا ہے۔ اس کی قیمت آخرکار پوری دنیا ادا کرتی ہے۔

