Tuesday, 16 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Mushtaq Ur Rahman Zahid
  4. Muharram Ul Haram Aur Shahadat e Farooq e Azam

Muharram Ul Haram Aur Shahadat e Farooq e Azam

محرم الحرام اور شہادتِ فاروقِ اعظمؓ

اسلامی سال کا آغاز محرم الحرام سے ہوتا ہے۔ نئے ہجری سال کی شروعات، مسلمانوں کے لیے خود احتسابی، تجدیدِ عہد اور تاریخِ اسلام کے سنہری ابواب سے سبق حاصل کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ محرم الحرام ان چار مہینوں میں شامل ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے خصوصی حرمت اور عظمت عطا فرمائی ہے۔ قرآنِ مجید میں ان مہینوں کا ذکر احترام کے ساتھ کیا گیا ہے اور مسلمانوں کو ان کی حرمت برقرار رکھنے کی تلقین کی گئی ہے۔

محرم الحرام کی آمد کے ساتھ ہی اسلامی تاریخ کے کئی اہم واقعات ذہنوں میں تازہ ہو جاتے ہیں۔ یہ مہینہ ہمیں ان عظیم شخصیات کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے اپنے کردار، قربانی، ایثار اور عدل سے انسانیت کے لیے ایسے نقوش چھوڑے جو قیامت تک مٹ نہیں سکتے۔ انہی عظیم ہستیوں میں خلیفۂ دوم، امیرالمؤمنین حضرت عمر بن خطابؓ کا نام نمایاں ہے جن کی زندگی قیادت، انصاف، تقویٰ اور خدمتِ خلق کا ایک روشن مینار ہے۔

یکم محرم الحرام حضرت عمر فاروقؓ کی شہادت کی یاد دلاتا ہے۔ اگرچہ آپؓ پر قاتلانہ حملہ ذوالحج کے آخری ایام میں ہوا اور چند روز بعد آپؓ نے جامِ شہادت نوش فرمایا، لیکن اسلامی سال کا آغاز ہوتے ہی امت مسلمہ اس عظیم رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے جس نے اپنے دورِ خلافت میں دنیا کو حکمرانی کا ایک ایسا ماڈل دیا جس کی مثال آج بھی پیش کی جاتی ہے۔

حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت اسلام کی تاریخ کا ایک ایسا روشن باب ہے جس کے بغیر اسلامی تہذیب و تمدن کی تاریخ ادھوری محسوس ہوتی ہے۔ آپؓ کا قبولِ اسلام خود ایک تاریخی واقعہ تھا۔ وہ شخصیت جو ابتدا میں اسلام کی سخت مخالفت کرتی تھی، جب نورِ ہدایت سے منور ہوئی تو اسلام کی سب سے بڑی قوت بن گئی۔ آپؓ کے اسلام قبول کرنے سے مسلمانوں کو نئی طاقت، حوصلہ اور اعتماد حاصل ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے آپؓ کو "فاروق" کا لقب عطا فرمایا، یعنی حق اور باطل میں فرق کرنے والا۔

حضرت عمر فاروقؓ کی خلافت اسلامی تاریخ کا سنہری دور تصور کی جاتی ہے۔ آپؓ نے تقریباً دس برس تک امت مسلمہ کی قیادت کی اور اس مختصر عرصے میں ایسے کارہائے نمایاں انجام دیے جن کے اثرات صدیوں تک محسوس کیے جاتے رہے۔ آپؓ کے دور میں اسلامی ریاست کی سرحدیں جزیرۂ عرب سے نکل کر عراق، شام، مصر، فلسطین اور ایران کے وسیع علاقوں تک پھیل گئیں۔ لیکن آپؓ کی اصل عظمت فتوحات میں نہیں بلکہ ان اصولوں میں تھی جو آپؓ نے حکمرانی اور ریاستی نظم و نسق کے لیے متعین کیے۔

حضرت عمرؓ کا عدل دنیا بھر میں ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ آپؓ نے کبھی طاقتور اور کمزور کے درمیان فرق روا نہیں رکھا۔ آپؓ کے نزدیک قانون سب کے لیے برابر تھا۔ ایک عام شہری بھی اگر کوئی شکایت لے کر آتا تو اسے وہی توجہ ملتی جو کسی گورنر یا فوجی کمانڈر کو حاصل تھی۔ آپؓ کا مشہور قول ہے کہ "اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوک سے مر گیا تو عمر سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا"۔

یہ الفاظ ایک حکمران کے جذبات نہیں بلکہ اس احساسِ جوابدہی کی عکاسی کرتے ہیں جو آپؓ کے دل میں ہر وقت موجود رہتا تھا۔ آپؓ کی سادگی بھی اپنی مثال آپ تھی۔ ایک ایسی سلطنت کے حکمران ہونے کے باوجود جس کی حدود ہزاروں میل تک پھیل چکی تھیں، آپؓ کا طرزِ زندگی نہایت سادہ تھا۔ آپؓ کے لباس پر پیوند لگے ہوتے، کھانے میں سادگی اختیار کرتے اور عوام کے درمیان عام آدمی کی طرح زندگی گزارتے تھے۔ دنیا کی تاریخ میں بہت کم حکمران ایسے گزرے ہیں جنہوں نے اقتدار کی بلندیوں پر پہنچ کر بھی عاجزی اور انکساری کو اپنا شعار بنایا ہو۔

حضرت عمر فاروقؓ نے ریاستی نظام کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔ بیت المال کا منظم نظام، عدالتی ڈھانچے کی تشکیل، مردم شماری، پولیس کا قیام، نہری نظام، عوامی فلاح کے منصوبے اور سرکاری اداروں کی نگرانی جیسے بے شمار اقدامات آپؓ کے دورِ خلافت کے نمایاں کارنامے ہیں۔ آپؓ نے حکمرانوں اور گورنروں کے احتساب کا ایسا نظام متعارف کروایا جس کی مثال آج کے ترقی یافتہ ممالک بھی دینے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ حضرت عمرؓ صرف فاتح یا حکمران نہیں بلکہ ایک عظیم انسان بھی تھے۔ راتوں کو مدینہ کی گلیوں میں گشت کرنا، غریب خاندانوں کے گھروں تک راشن پہنچانا، بیواؤں اور یتیموں کے مسائل سننا اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا آپؓ کا معمول تھا۔

تاریخ میں ایک واقعہ مشہور ہے کہ ایک رات آپؓ نے ایک خیمے میں بچوں کے رونے کی آواز سنی۔ معلوم ہوا کہ ماں بچوں کو بہلانے کے لیے خالی ہانڈی میں پانی گرم کر رہی ہے کیونکہ گھر میں کھانے کو کچھ نہیں۔ حضرت عمرؓ فوراً بیت المال گئے، اپنے کندھوں پر آٹے کی بوری اٹھائی اور خود اس خاندان تک پہنچائی۔ یہ واقعہ صرف ایک حکمران کی ہمدردی نہیں بلکہ ایک ایسی قیادت کی مثال ہے جو عوام کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھتی تھی۔

محرم الحرام ہمیں صرف تاریخ یاد کرنے کے لیے نہیں بلکہ تاریخ سے سبق حاصل کرنے کے لیے بھی دعوت دیتا ہے۔ آج مسلم دنیا جن مسائل سے دوچار ہے، ان میں بدعنوانی، ناانصافی، فرقہ واریت، عدم برداشت اور قیادت کا بحران نمایاں ہیں۔ اگر ہم حضرت عمر فاروقؓ کی سیرت کا مطالعہ کریں تو ان مسائل کا حل واضح طور پر نظر آتا ہے۔ آپؓ نے ثابت کیا کہ انصاف کے بغیر ریاست مضبوط نہیں ہو سکتی، دیانت داری کے بغیر حکمرانی کامیاب نہیں ہو سکتی اور عوامی خدمت کے بغیر اقتدار بے معنی ہے۔

محرم الحرام کا مہینہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے جبکہ کردار اور اعمال ہمیشہ باقی رہتے ہیں۔ حضرت عمر فاروقؓ آج ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کا عدل، ان کی دیانت، ان کی سادگی اور ان کی خدا ترسی آج بھی زندہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چودہ صدیاں گزر جانے کے باوجود دنیا بھر میں ان کا نام احترام سے لیا جاتا ہے۔

نئے ہجری سال کے آغاز پر ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں حضرت عمر فاروقؓ کی سیرت کو مشعلِ راہ بنائیں گے۔ ہم انصاف کو فروغ دیں گے، دیانت داری کو اپنا شعار بنائیں گے، کمزوروں اور ضرورت مندوں کے حقوق کا خیال رکھیں گے اور اپنے ہر عمل میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور جوابدہی کو مقدم رکھیں گے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک مضبوط معاشرے، کامیاب ریاست اور باوقار امت کی تشکیل کی ضمانت بن سکتا ہے۔

محرم الحرام کی فضائیں آج بھی ہمیں پکار رہی ہیں کہ تاریخ کے عظیم کرداروں کویاد کیا جائے بلکہ ان کے افکار اور تعلیمات کو عملی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔ حضرت عمر فاروقؓ کی شہادت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حق، عدل اور دیانت کی راہ پر چلنے والے لوگ اگرچہ دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، لیکن ان کی روشنی صدیوں تک انسانیت کے راستوں کو منور کرتی رہتی ہے۔ یہی روشنی آج بھی امت مسلمہ کو درپیش اندھیروں سے نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہے، بشرطیکہ ہم اسے اپنانے کا عزم کر لیں۔

Check Also

Ambar Bail Ki Uljhi Bailen (4)

By Zafar Syed