Thursday, 07 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Rauf Klasra
  3. Do Qisam Ke Log

Do Qisam Ke Log

دو قسم کے لوگ

آج سعید بکس جانا ہوا تو ایک عجیب منظر دیکھا۔ میں بیٹھا کچھ بکس دیکھ رہا تھا کہ ایک خاتون کی کاونٹر سے آواز آئی کہ میں نے آپ کو دو ہزار روپے کی ادائیگی کرنی ہے۔

کاونٹر پر کھڑا نوجوان پختون اختر کچھ حیران ہوا کہ کس چیز کی؟

وہ خاتون جن کی عمر شاید پینتس چھتس ہوگی کہنے لگی ایک سال پہلے میں نے یہاں سے کچھ بکس لی تھیں۔ میں پشاور سے ہوں۔ واپس جاتے وقت راستے میں چیک کیا تو مجھے پتہ چلا کہ باقی کتابوں کی قیمت تو ادا کر دی تھی لیکن ایک کتاب اس بل میں شامل نہ تھی۔ میں نے سوچا تھا کہ جب چکر لگے گا تو وہ میں پیسے دوں گی۔

کہنے لگیں وہ اب حج پر جارہی پیں اور نہیں چاہتیں اپنے پیچھے کچھ ایسا قرض چھوڑ جائیں۔ کتاب کا نام Power of Now تھا۔

اختر نے کتاب ڈھونڈ کر اس کی قیمت نکالی تو تین ہزار روپے بنی۔ وہ کہنے لگیں اس وقت اس پر دو ہزار لکھی تھی۔

احمد سعید نے اپنے کیبن سے اختر کو اشارہ کیا کہ دو ہزار ہی لے لو۔

اس خاتون نے دو ہزار کی ادائیگی کی اور مطمئن ہو کر چلی گئی۔

احمد سعید بتانے لگے جب ان کے والد سعید صاحب کی وفات ہوئی تو بہت سارے نوجوان لڑکے اور کچھ لوگ ان سے تعزیت کرنے آئے۔

گلے لگے اور جاتے وقت وہ ایک لفافہ ان کی جیب میں ڈال جاتے۔ انہیں اس وقت تو اندازہ نہ ہوا کہ ان لفافوں میں کیا تھا کہ بہت رش تھا اور وہ سمجھے شاید وہ سب تعریت کرنے آئے تھے۔ بعد میں ان لفافوں کو کھولا تو پیسوں کے ساتھ الگ الگ ایک تحریری نوٹ تھا کہ ہم نے کبھی اسٹوڈنٹ لائف میں سعید بکس سے بکس چرائی تھیں۔ اب ہم کماتے ہیں تو ضمیر پر دبائو بڑھا جب ان کی وفات کا سنا۔ ہم اس کتاب کے پیسے چھوڑ کر جارہے پیں جو چرائی تھیں۔

احمد سعید کہنے لگا رئوف صاحب جو لوگ لٹریچر پڑھتے پیں ان میں دوسروں سے ہٹ کر کچھ الگ اور خاص ہوتا ہے۔

مجھے اپنے دوست شعیب بٹھل کی بات یاد آئی کہ دنیا میں دو قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ ایک وہ جنہوں نے ادب پڑھا/کتابیں پڑھ رکھی ہیں اور دوسرے وہ جنہوں نے نہیں پڑھیں۔ تیسرے کوئی نہیں ہوتے۔

احمد سعید جن کرداروں کی کہانیاں سنا رہے تھے جو ان کے باپ کی وفات پر لفافے ان کے جیب میں چھوڑ گئے تھے یا پشاور کی وہ نوجوان خاتون جو حج پر جانے سے پہلے چند سال پہلے کی کتاب کا بل چکانے آئی تھی، وہ سب اس دنیا کی پہلی قسم سے تعلق رکھتے تھے۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.

Check Also

One Constitution Corruption Case Taleemi Zawal Ka Nuqta e Kamal

By Abdul Hannan Raja