Ijtemai Munafiqat Ka Din
اجتماعی منافقت کا دن

یکم مئی اب مزدوروں کا دن کم اور اجتماعی منافقت کا دن زیادہ لگتا ہے۔ صبح سرکاری ٹی وی پر مزدور کے نام پیغام نشر ہوتے ہیں، دوپہر تک اکا دکا وزراء محنت کش طبقے کو سلام پیش کرتے ہیں اور شام کو وہی محنت کش اپنے موبائل پر دیہاڈی کا حساب لگانے کے بعد سوچ رہا ہوتا ہے کہ آج بچوں کو دودھ دلائے یا بجلی کا بل بھرے۔
یہ ایسا ملک ہے جہاں "ورکر" کا لفظ صرف تقریروں میں مستقل ہے باقی ہر جگہ کنٹریکٹ، ڈیلی ویجز اور آؤٹ سورسنگ کے سپرد۔ 80 فیصد ملازم شارٹ ٹرم کنٹریکٹ یا ڈیلی ویجز پر کام کر رہے ہیں۔ کیونکہ مستقل ملازمت دینے کا مطلب یہ ہے کہ تنخواہ و مراعات بھی ویج بورڈ ایوارڈ کے تحت دینا ہوں گی۔ اپائٹمنٹ لیٹر، پراویڈنٹ فنڈ، سوشل سیکورٹی، گریجویٹی، بونس وغیرہ وغیرہ کے زمانے لَد گئے۔ زبانی کلامی کام کر ورنہ چھٹی کر۔ لیبر کورٹس کی بوسیدہ عمارتوں کو مکڑی کا جالا کھا رہا ہے۔
پولیو مہم میں کام کرتی وہ لیڈی ورکر دیکھیے جو پانچ دن دھوپ میں گلی گلی پھرتی ہے، دروازے کھٹکھٹاتی ہے، گالیاں بھی سنتی ہے، شک بھی برداشت کرتی ہے اور آخر میں سات ہزار روپے پکڑا دیے جاتے ہیں۔ گویا ریاست کہہ رہی ہو "قوم کے بچوں کو بچانے کا شکریہ، اب اپنے بچوں کا بندوبست خود کرو"۔ ایک طرف اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کے رنگین بورڈ لگتے ہیں دوسری طرف وہ مزدود طبقہ ہے جن کی تنخواہ ایک متوسط خاندان کے ہفتہ وار راشن سے بھی کم ہے۔
اور پھر ہمارے نجی شعبے کا حال دیکھیے جہاں لیبر لا کا مطلب ہے کام کرو، آواز نہ نکالو اور اگر بیمار ہو گئے تو اگلا امیدوار تمہاری جگہ لینے کو دروازے پر موجود ہے۔ پچیس ہزار ہاتھ میں تھماؤ، سینتیس ہزار کے واؤچر پر انگوٹھا لگواؤ۔ مزدور کے حقوق پر اتنی تقاریر ہوتی ہیں کہ اگر الفاظ کو روٹی میں بدلا جا سکتا تو شاید ملک میں بھوک ختم ہو جاتی۔
سب سے دلچسپ کردار وہ سیٹھ ہے جو اپنے مینوفیکچرنگ یونٹ یا فیکٹری یا دفتر میں "ہم سب ایک فیملی ہیں" کا بورڈ لگاتا ہے مگر جونہی کوئی ملازم تنخواہ بڑھانے کی بات کرے تو فوراً اسے یاد دلا دیتا ہے کہ باہر بے روزگاروں کی قطار بہت لمبی ہے۔ یہ فیملی صرف اس وقت تک ہے جب تک ملازم اپنے حق کی بات نہ کرے اور خواتین؟ ان کے لیے روزگار اکثر ملازمت کم اور اعصاب کا امتحان زیادہ ہوتا ہے۔ تنخواہ کے بدلے "سمجھوتے" اور عزتِ نفس کی قیمت پر روزی۔ پھر یہی معاشرہ شام کو ٹی وی ٹاک شوز میں مشرقی اقدار اور اسلام میں خاتون کے حقوق پر لیکچر دیتا ہے۔
سیاسی جماعتوں کا حال اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے۔ اسی پاکستان میں کبھی چند سیاسی جماعتیں بھی مزدور اور کسان کے حقوق کا نعرہ لگاتی تھیں (پیپلز پارٹی تو اُبھری ہی روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے پر)۔ مگر آج کی قومی پولٹیکل گیم میں سے وہ آدھی آبادی باہر ہے کہ جس کی روزانہ آمدنی آٹھ سو روپے (تین ڈالرز) کے مساوی یا اس سے بھی کم ہے۔ اوکاڑہ ملٹری فارمز کے ڈیڑھ لاکھ کسان گذشتہ بیس برس سے زمینی ملکیت کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ کوئی نام نہاد ملک گیر قومی جماعت ان کسانوں کے ساتھ کندھا ملانا تو درکنار ان کو اپنے پلیٹ فارم پر مدعو کرنے کو بھی تیار نہیں۔ سوات میں ٹماٹر کے کھیتوں کے سابقہ مالکان کا بھی موجودہ مالکان (سوات چھاؤنی) سے ایسا ہی گلہ ہے۔
پاکستان کے آدھے مزدور تو یہ بھی نہیں جانتے کہ آج ان کا عالمی دن ہے۔ کارل مارکس نے کہا تھا "محنت کشوں کے پاس کھونے کے لیے سوائے بیڑیوں کے کچھ نہیں"۔ پر آج کے مزدور کے پاؤں میں تو بیڑی بھی نہیں کہ اسے ہی توڑ کے بیچ دے۔

