Thursday, 07 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Javed Chaudhry
  3. Operation Bunyan Ul Marsoos (4)

Operation Bunyan Ul Marsoos (4)

آپریشن بنیان المرصوص (4)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ ہوئی، پہلگام مقبوضہ کشمیر کے ضلع اننت ناگ کا چھوٹا سا شہر ہے، یہ دو وجوہات سے دنیا میں مشہور ہے، پہلی وجہ امرناتھ یاترا ہے، پہلگام سے 45 کلومیٹر دور 17000 فٹ کی بلندی پر امرناتھ کی چوٹی ہے، اس پر ایک برفانی غار ہے جس میں برف کا بڑا تودا ہے، یہ آبشار کے جمنے سے پیدا ہوا، امرناتھ غار ہندوئوں کے لیے بہت مقدس ہے، ہندو روایات کے مطابق بھگوان شیو اپنے بیل پر اننت ناگ آیا، بیل وادی میں چھوڑا اور پیدل اس غار میں آگیا، شیو کے بیل کی وجہ سے وادی "بیل گائوں" بنی اورپھر بگڑ کر پہلگام بن گئی۔

امرناتھ مندر کا برف کا تودا شباہت میں مردانہ عضو سے ملتا ہے لہٰذا یہ شیولنگ کہلانے لگا، ہندو روایات کے مطابق یہ چاند کی مختلف تاریخوں میں چھوٹا اور بڑا ہوتا رہتا ہے، ہندو یاتری جولائی اور اگست میں شیولنگ کی زیارت کے لیے پہلگام آتے ہیں، اس زیارت کو امرناتھ یاترا کہا جاتا ہے اور اس میں عموماً اڑھائی سے ساڑھے چھ لاکھ یاتری ہوتے ہیں، علاقہ دشوار گزار ہے لہٰذا بے شمار یاتری راستے میں فوت ہو جاتے ہیں لیکن لوگ اس موت کو مقدس سمجھتے ہیں۔

پہلگام کی دوسری وجہ شہرت سیاحت ہے، شہر کے گرد درجن بھر ایسے مقامات اور چراہ گاہیں ہیں جہاں پورے بھارت سے لوگ تفریح کے لیے آتے ہیں، ان مقامات میں بسیران وادی بھی شامل ہے، یہ پہلگام سے سات کلومیٹر دور ہے تاہم سڑک نہ ہونے کی وجہ سے وہاں پہنچنے میں 45 منٹ لگ جاتے ہیں، علاقہ بہت خوب صورت ہے، چیڑھ کے گھنے جنگلوں کے درمیان خوب صورت چراہ گاہ ہے جس میں دن بھر گھوڑے اور بھیڑیں چرتی رہتی ہیں۔

22 اپریل 2025ء کو اس چراہ گاہ کے قریب موجود چیڑھ کے جنگل سے چار نوجوان نکلے، انہوں نے فوجی یونیفارم پہن رکھی تھی اور ان کے ہاتھوں میں امریکی ساختہ ایم فور رائفلیں تھیں، وہ چاروں سیاحوں کے پاس آئے، ان کے شناختی کارڈ چیک کیے اور انہیں گولیاں مارتے چلے گئے، 20 منٹ کی اس کارروائی میں 25 سیاحوں کو قتل کر دیا گیا جب کہ 17 کو زخمی کرکے میدان میں پھینک دیا گیا، نوجوان اس کے بعد جنگل میں غائب ہو گئے، بھارت اب تک انہیں تلاش نہیں کرپایا۔ بھارتی میڈیا نے اس واقعے کو "پہلگام اٹیکس" کا نام دیا۔

اس واقعے پر بھارت اور پاکستان کے دو مختلف "ورژن" ہیں، بھارت کے مطابق یہ پاکستان کا فوجی آپریشن تھا، یہ ورژن کی دلیل میں کہتے ہیں دہشت گردوں نے ایک ایسا مقام منتخب کیا جہاں سڑک اور موبائل فون سگنل نہیں تھے، قریب ترین فوجی کیمپ گھنٹے کے فاصلے پر تھا، فوج کا ہیلی پیڈ وہاں سے ایک گھنٹے کی فلائیٹ پر تھا، ہسپتال بھی دور تھے اور تھانہ بھی چناں چہ یہ سائیٹ فوجی آپریشن کے لیے آئیڈیل تھی، دوسرا یہ لوگ دن ڈیڑھ بجے آئے، 20 منٹ میں کارروائی کی اور جنگل کے ذریعے اندھیرا پھیلنے سے پہلے اپنے ٹھکانے پر پہنچ گئے، دہشت گرد جانتے تھے بھارتی فوج اور حکومت کو ایکٹو ہونے میں تین سے چار گھنٹے لگ جائیں گے چناں چہ یہ سسٹم کے ایکٹو ہونے سے پہلے اطمینان سے اپنے ٹھکانے پر پہنچ گئے اور انہوں نے فوجی وردیاں بھی پہن رکھی تھیں تاکہ یہ پولیس اور فوج سے بچ سکیں، یہ مکمل فوجی طریقہ کار تھا۔

تیسرا یہ واردات جعفر ایکسپریس جیسی تھی، اس میں بھی دہشت گردوں نے مسافروں کے نام پوچھ کر گولی ماری اور اس میں زیادہ تر فوج کے جوان شہید ہوئے، پہلگام میں بھی نام پوچھے گئے اور فوج اور خفیہ اداروں کے لوگوں کو نشانہ بنایا گیا، جعفر ایکسپریس میں بھی صرف مردوں کو قتل کیا گیا، کسی خاتون اور بچے کو شکار نہیں کیا گیا، پہلگام میں بھی صرف مردوں کو قتل کیا گیا، عورتوں اور بچوں پر حملہ نہیں کیا گیا، جعفر ایکسپریس میں بھی 25 لوگ شہید ہوئے تھے اور پہلگام میں بھی 25 لوگ ہی مارے گئے اور آخری نشانی دونوں واقعات میں وہ رائفلیں استعمال ہوئیں جو امریکا افغانستان میں چھوڑ گیا تھا چناں چہ بھارت کا خیال ہے را نے بی ایل اے کے ذریعے 11 مارچ 2025ء کو جعفر ایکسپریس کو اغواء کرایا اور آئی ایس آئی نے 22 اپریل کو پہلگام میں اس کا بدلہ لے لیا جس کے بعد پاکستان حالات کو 2004ء سے پیچھے لے گیا۔

جنرل پرویز مشرف سے پہلے را جب بھی پاکستان میں دہشت گردی کراتی تھی تو آئی ایس آئی چند دن میں بھارت میں اس کا بدلہ لے لیتی تھی، جنرل مشرف اور واجپائی نے 2004ء میں یہ سلسلہ بند کر دیا، وزیراعظم واجپائی نے جنرل مشرف سے وعدہ کیا را آئندہ پاکستان میں کوئی آپریشن نہیں کرے گی، بھارت نے اس کے بعد پاکستان میں موجود اپنے تمام جاسوس واپس بلا لیے اور سلیپر سیلز ختم کر دیے، جواب میں پاکستان نے بھی بھارت میں اپنی سرگرمیاں بند کر دیں لیکن جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد یہ معاہدہ ٹوٹ گیا اور پاکستان نے اب دوبارہ بدلہ لینا شروع کر دیا ہے وغیرہ وغیرہ۔

پاکستانی حکومت نے اس موقف سے اتفاق نہیں کیا، ہمارے مطابق پہلگام حملہ بھارت کا فالس فلیگ آپریشن تھا اور اس کا مطلب پاکستان پر حملہ تھا، یہ خدشہ حالات نے آگے چل کر درست ثابت کر دیا، ہم فرض کر لیتے ہیں بھارت کا موقف درست ہے اور پہلگام حملہ واقعی پاکستان نے کرایا تھا (میں یہ فرض کر رہا ہوں) اس سے ثابت ہوگا پاکستان بھارت سے کئی گنا زیادہ سمارٹ ہے، پاکستانی جوان بھارت میں داخل ہوتے ہیں، دو تین گھنٹے سفر کرکے پہلگام پہنچتے ہیں، 25 لوگوں کو قتل کرتے ہیں اور اطمینان سے دو تین سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے واپس آ جاتے ہیں اور بھارت کا کوئی ادارہ انہیں تلاش نہیں کر پاتا، کیا اس سے بھارتی نالائقی اور پاکستان کی سمارٹ نیس ثابت نہیں ہوتی؟

دوسرا اس سے پاکستان کی "ہارڈنیس" بھی ثابت ہوتی ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے 9 مئی 2023ء کے واقعات کے بعد فیصلہ کیا تھا "نومور سافٹ سٹیٹ" ہم ملک کے اندر اور باہر دونوں سائیڈز پر خود کو "ہارڈ سٹیٹ" ثابت کریں گے اور پاکستان نے یہ کیا، ریاست نے عمران خان سمیت 9 مئی کے کسی ذمہ دار شخص کو جیل سے باہر نہیں آنے دیا اور جو آئے وہ ریاست سے معافی مانگ کر آئے اور وہ اب انسان بن کر زندگی گزار رہے ہیں۔

دوسرا پاکستان کے بارے میں تصور تھا بھارت اس میں داخل ہو کر سو ڈیڑھ سو لوگ قتل کر جائے یا ایران میزائل داغ دے یا افغان جیلوں اور چھائونیوں پر حملے کر دیں تو پاکستان خاموش رہتا ہے، فیلڈ مارشل نے یہ پالیسی بدل دی جس کے بعد اگر جعفر ایکسپریس کا واقعہ پیش آیا، نومبر 2024ء میں پی ٹی آئی نے اسلام آباد پر حملہ کیا، 17جنوری کو بلوچستان میں ایران کی طرف سے میزائل داغے گئے، طالبان کے حملے ہوئے، ٹی ایل پی نے مریدکے میں احتجاج کیا، بھارت نے بہاولپور اور مریدکے پر حملہ کیا یا افغانستان سے پاکستانی پوسٹوں پر حملہ ہوا تو پاکستان نے بھرپور اور خوف ناک جواب دیا اور اس کا نتیجہ اندرونی اور بیرونی امن کی شکل میں نکلا، پاکستان کی عزت میں بھی اضافہ ہوا۔

ہم پہلگام واقعے کی طرف واپس آتے ہیں، 22 اپریل 2025ء کے بعد بھارت نے پاکستانی سرحدوں پر یلغار شروع کر دی، پاکستان بھی تیار ہوگیا، ہمارے جاسوسوں نے اطلاع دی بھارت بہاولپور میں مولانا مسعود اظہر کے مدرسے اور مریدکے میں حافظ سعید کے مرکز پر حملے کرے گا، یہ دونوں مراکز فوراً خالی کرا لیے گئے، افواج کو بھی ہائی الرٹ کر دیا گیا، ائیرفورس بہت پہلے سے ایکٹو تھی، ہمارا خیال تھا امریکا، سعودی عرب اور یو اے ای ہمیں سپورٹ کرے گا لیکن ڈونلڈ ٹرمپ، سعودی عرب اور یو اے ای کا جھکائو بھارت کی طرف تھا، یو اے ای اور سعودی عرب پاکستان کو جنگ سے ڈراتے بھی رہے جب کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے فاکس نیوز پر یہ تک کہہ دیا "بھاڑ میں جائیں پاک بھارت، جنگ ہمارا ایشو ہی نہیں"۔

بہرحال پاکستان اس وقت پوری دنیا میں اکیلا تھا، ملک کے اندر بھی پولرائزیشن تھی، پاکستان تحریک انصاف کے یوٹیوبرز نے تباہی پھیلا رکھی تھی، بھارت نے اس ماحول میں چھ اور سات مئی کی درمیانی رات پاکستان کے نو شہروں پر میزائل داغ دیے جس کے نتیجے میں بہاولپور، مریدکے، سیالکوٹ، کوٹلی، باغ اور مظفرآباد میں 30 لوگ شہید اور71 زخمی ہو گئے، یہ میزائل طیاروں کے ذریعے داغے گئے تھے، پاک ائیرفورس فوراً ہوا میں آئی اور اس کے بعد عرب اسرائیل جنگ کے بعد دنیا کی سب سے بڑی ڈاگ فائیٹ شروع ہوگئی، فضا میں 125 طیارے تھے، ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اس آپریشن کو خود لیڈ کر رہے تھے۔

پاکستان نے اس رات انڈیا کے سات طیارے گرا دیے، ان میں چار رافیل، ایس یو 30، مگ 29 اور میراج 2000 شامل تھے جب کہ اسرائیل ساختہ میزائل بردار ہیرون ڈرون بھی گرا دیا گیا، پاکستان نے ایک گھنٹے کے اندر دنیا میں پہلی بار چار رافیل طیارے گرا کر ریکارڈ قائم کر دیا جس کے بعد رافیل بنانے والی کمپنی داسوکے شیئرز کریش کر گئے اور جے 10 کی مارکیٹ ویلیو میں 18فیصد اضافہ ہوگیا، پاکستان کا حملہ اتنا خوف ناک تھا کہ بھارتی ائیرفورس گرائونڈ ہوگئی اور اپنے تمام طیارے سرحد سے تین سو کلومیٹر دور لے گئی اور تین دن تک ان کا کوئی جہاز فضا میں نہیں اڑا، اس سے بھارت کی پوری دنیا میں بے عزتی ہوگئی۔

پاک فضائیہ نے دنیا کے انتہائی محفوظ جہاز رافیل کیسے گرائے، ہم نے انہیں ہوا میں اڑنے پر مجبور کیسے کیا، بھارت کو بھوٹان کی سرحد سے رافیل طیارے پاکستانی سرحد پر شفٹ کرنے پر مجبور کیسے کیا گیا، رافیل طیاروں کو دھوکا کیسے دیا گیا اور ان کو شکار کیسے کیا گیا؟ یہ کہانی بھی کمال ہے، میں کسی دن اس پر بھی تفصیل سے لکھوں گا، ہم سردست مئی جنگ کی طرف آتے ہیں۔

سات مئی کی بے عزتی کے بعد بھارت نے سفارت کاری شروع کر دی، اس نے یو اے ای، سعودی عرب اور امریکا کے ذریعے پیغام دیا "آپ نے طیارے گرا کر بدلہ لے لیا ہے چناں چہ اب خاموش ہو جائیں" ہم نے یہ حکم ماننے سے انکار کر دیا۔ بھارت نے 9 اور 10 مئی کی رات پاکستان پر براہموس میزائلوں سے حملہ کر دیا، براہموس بھارت کا سب سے تیز اور بڑا میزائل ہے، پہلا حملہ راولپنڈی کے نور خان ائیربیس پر ہوا، یہ جی ایچ کیو کے نزدیک ہے اور پاکستان کے زیاہ تر اثاثے اس کے قرب و جوار میں ہیں۔

بھارت نے بنیادی طور پر اسی نیسٹپ (NASTP) پر حملہ کیا تھا جہاں سے انڈین ائیرفورس کے سسٹم کو ہیک کرکے اس کے طیارے گرائے گئے تھے، پی اے ایف کا کنٹرول سسٹم بھی نور خان ائیربیس پر تھا لیکن پاکستان نے یہ سات مئی کے بعد وہاں سے نکال لیا تھا، بہرحال پاکستان کے اینٹی میزائل سسٹم نے براہموس میزائلوں کو ہوا میں تباہ کر دیا جس سے خوف ناک دھماکے ہوئے اور پورا راولپنڈی اور اسلام آباد جاگ گیا لیکن پاک فضائیہ کے ہیکرز عوام کے جاگنے سے قبل براہموس میزائل ہیک کر چکے تھے اور انہیں انڈیا ہی میں گرا رہے تھے۔

آپ 9 مئی کی رات کو یاد کریں آپ کو سوشل میڈیا سے بھارت کے مختلف شہروں سے دھماکوں، میزائلوں اور ڈرونز پھٹنے کی خبریں ملی ہوں گی، یہ دھماکے ہمارے ہیکرز کا کمال تھا، انہوں نے بھارت کے ڈرونز اور میزائلوں کا رخ بھارت کی طرف موڑ دیا تھا، یہ دھماکے اس کا نتیجہ تھا، بھارت دنیا بھر میں پاکستانی حملوں کا شور کرتا رہا لیکن یہ ثابت نہیں کر سکا کیوں کہ پاکستان کی حدود سے کوئی میزائل یا ڈرون فائر نہیں ہواتھا، بھارت کے میزائل بھارت ہی میں گر رہے تھے لہٰذا اعتراض کیسے ہو سکتا تھا، بھارت کا ایک براہموس میزائل افغانستان بھی چلا گیا، کیسے گیا آپ ذہین ہیں، آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں۔

جنرل عاصم منیر اور ائیرچیف مارشل ظہیر احمد بابر دو دنوں سے جاگ رہے تھے، براہموس میزائلوں کے حملے کے بعد جنرل عاصم منیر نے نماز فجر کی امامت کرائی، طویل دعا کی اور حملے کا حکم دے دیا، پاکستان نے اس کے بعد انڈیا پر الفتح میزائلوں کی بارش کر دی، ہم نے تین دن کے میزائل ایک گھنٹے میں چلا دیے، 32 انڈین ائیر بیس اور بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز پاکستان کے نشانے پر تھے، انڈیا نے اپنے طیارے اڑانے کی کوشش کی لیکن ہمارے نوجوانوں نے ان کا کمیونی کیشن سسٹم ہیک کر لیا، پاکستان نے 500 کلومیٹر کی سپیڈ کا میزائل مار کر ایس 400 اینٹی بیلسٹک میزائل سسٹم کا ریڈار اڑا دیا اور پاکستانی ہیکرز نے بجلی کا ڈسٹری بیوشن سسٹم ہیک کرکے انڈیا کی 70 فیصد بجلی بند کر دی جس کے بعد پاکستانی طیارے اور ڈرون اڑے اور وہاں وہاں اپنا "پے لوڈ" گراتے چلے گئے جہاں انڈیا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا، بھارت ڈر گیا چناں چہ اس نے سیز فائر کے لیے امریکا، برطانیہ، سعودی عرب حتیٰ کہ چین تک سے رابطہ کر لیا۔

پاکستان نے دس مئی کی صبح انڈین ائیرفورس کا پورا سسٹم جام کر دیا، ہم نے بھارت کی 70 فیصد بجلی بند کر دی تھی اور ریڈار سسٹم منجمد کر دیا، اس جنگ میں انڈیا کے 26 ائیربیس تباہ ہو ئے۔۔

جاری ہے۔۔

بہ شُکریہ: جاوید چوہدری ڈاٹ کام

About Javed Chaudhry

Javed Chaudhry is a newspaper columnist in Pakistan. His series of columns have been published in six volumes in Urdu language. His most notable column ZERO POINT has great influence upon people of Pakistan especially Youth and Muslims of Pakistan. He writes for the Urdu newspaper Daily Express four time a week, covering topics ranging from social issues to politics.

Check Also

Guy Goma

By Mubashir Ali Zaidi