Saturday, 07 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Aleen Sherazi
  4. Har Daur Mein Khamenei Zaroori Hai

Har Daur Mein Khamenei Zaroori Hai

ہر دور میں خامنہ ائی ضروری ہے

یکم مارچ 2026 کا سورج اپنی دھیمی کرنوں کے ساتھ افق پر طلوع ہورہا تھا، ہلکی روشنی عالم کو جلا بخش کررہی تھی کہ افتاد میں ایسی خبر کی منادی ہوئی کہ عالمِ اسلام وقت کا سفر طے کرتے ہوئے چودہ سو سال پیچھے چلاگیا۔ ولیِٔ خدا کی شہادت کی خبر نے مومنین کے سینوں میں سِن 40 ہجری 19 رمضان المبارک کی اُس سفاک صبح کا درد تازہ کردیا، جب شہر کوفہ کی گلیوں میں ہاتفِ غیبی کی ندا بلند ہوئی تھی کہ: "اے لوگوں آج ہدایت کے سارے مینار منہدم ہو گئے، آج علی ابنِ طالبؑ شہید کر دیے گئے"۔

رہبرِ معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمٰی سید علی حسینی خامنہ ائی کی زمانے کے بدکار طاغوت کے ہاتھوں اپنے اہل و عیال حتیٰ کہ چودہ ماہ کی معصوم نواسی کے ساتھ مظلومانہ شہادت کی خبر نے روئے زمین پر بسنے والے ہر باضمیر فرد کے گھر صفِ ماتم بچھا دیا۔ آج تک جوان کی موت سے بوڑھوں کی کمر ٹوٹتی دیکھی ہے، یہ کیسا چھیاسی سالہ بوڑھا تھا کہ جس نے جوانوں کی کمر توڑ دی ہے۔

رہبر کے پاک خون نے چودہ سو سال بعد ایک مرتبہ پھر کربلا بپا کردی جسکی تاثیر یہ ہوئی کہ آج اپنا کیا اور پرایا کیا، سنی کیا اور شیعہ کیا، مسلمان کیا اور ہندوں کیا، ہر شخص "ھیھات منا الذلہ" کا نعرا بلند کرتا ہوا سکوت توڑ کر گھروں سے نکل آیا ہے۔ اِس شہادت کا اتنا اثر ہوا کہ خود امریکہ میں ہی اپنی حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے پھوٹ رہے ہیں۔ کارگل سے لے کر کشمیر تک مائیں، بہنیں، بیٹیاں نوحہ کُناں ہوتے ہوئے گھروں سے نکل آئی ہیں۔ ہر پاکستانی کا جگر چھلنی اور آنکھ اشکبار ہے۔ یہ تو ہوگیا تصویر کا ایک رخ، اب آئیے دوسرا رخ بھی دیکھتے ہیں۔

ایک بنیادی سوال کہ، "کیا خود امریکہ میں جب یہ مظاہرے ہورہے ہیں، ٹرمپ حکومت نے کتنے ایک مظاہرین کو کچلا ہے؟" جی نہیں، وہاں مظاہرے کرنے والے ایسے کچلے نہیں جاتے کیونکہ یہ رواج تو صرف پاکستان میں ہے۔ یہاں امریکی قونصل خانے کے باہر احتجاج کرنے کے گناہ میں اس ملک کے جوانوں کے سروں میں گولیاں ماری گئی۔ ایک طرف اعلان ہوا کہ، ہم تو مظاہرین کو افطار تک کروا رہے ہیں اور دوسری طرف اندھا دُندھ شیلنگ اور گولیاں چلنا شروع ہوگئی۔

پوری دنیا میں لوگ مظاہرے کر رہے لیکن یہ مناظر آپ کو کہیں نہیں ملے گے جہاں پر ریاست اپنے ہی جوانوں کے سروں میں گولیاں مار رہی ہے اور ریاست کو یہ کرنا بھی چاہیے تھا کیونکہ جس حکومت نے بچوں کا گوشت کھانے والے اور ایران و غزہ کو کمسنوں کی مقتل گاہ بنانے والے بےغیرت ڈونلڈ ٹرمپ کو "امن کے نوبل انعام" کیلئے نامزد کر رکھا ہو وہاں بھلا قوم کی کیا جرأت ہے کہ غیرت دکھائے۔

میرے الفاظ شاید آپ کو سخت ضرور لگیں لیکن غور کریں گے تو ٹھیک ضرور لگیں گے۔ اس پاک خون کی طاقت نے ہماری قوم کے سوئے ہوئے ضمیر تو ضرور جگا دیے ہیں لیکن ان تخت پر قابض یزیدیوں نے اس پاک ملک کی ہوا کو کوفہ کی طرف تعفن زدہ بنا دیا ہے۔ جہاں قوم نہیں بلکہ ایک ہجوم رہتا ہے، انسان نہیں زندہ لاشیں رہتی ہیں۔ جنہیں شاہ کی طرف سے صرف ادھر رہنے کی اجازت ہے، سر اٹھانے کی نہیں۔ اس ظلم پر بھی کچھ لوگوں نے بیانیہ بنایا کہ، کیونکہ مظاہرین املاکِ پاکستان کو نقصان پہنچا رہے تھے اس لیے مارے گئے۔

پہلا سوال تو یہ بنتا ہے کہ ہمارے ملک میں ہر دفعہ گرفتار کرنے کی بجائے تشدد اور گولی کا راستہ ہی کیوں اپنایا جاتا ہے؟ جب کہ دوسری بات کہ یہ محض ایک الزام ہی تھا جو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک بیان میں ہوا ہوگیا ایک شیعہ عالمِ دین نے لاہور میں ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کی موجودگی میں بتایا کہ، "ہم لوگ پرامن احتجاج کررہے ہیں، جب کہ مظاہرین میں سے پندرہ افغانیوں کو پکڑا گیا ہے جو بارود اور خود کش جیکٹس پہنے ہوئے تھے۔ یہی لوگ 9 مئی کی طرز پر پھر سے سانحہ بپا کرنا چاہتے ہیں"۔ اسکے بعد بھی وزیر داخلہ محسن نقوی صاحب نے مظاہرین کو گولیاں مروانے کا سلسلہ کیوں نہیں رکوایا؟ یا پھر یہ کہ رینجرز اور پولیس وغیرہ پر کوئی قانون یا حکومتی حکم لاگوں ہی نہیں ہوتا؟

کیا امریکی باشندے اور قونصل خانے پاکستان کو اپنے شہریوں سے بھی زیادہ عزیز ہیں؟ کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ کبھی امریکہ پاکستان کیلئے اپنے جوانوں کو سروں میں گولیاں مروائے گا؟ جو امریکہ گلف میں اپنے اتحادیوں کو ایران کے میزائلوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر بھاگ گیا، کیا وہ صرف نوبل انعام دینے پر ہمارے چاپلوس اور رذیل حکمرانوں کو خدا کے قہر اور پاکستان کے غیرت مند عوام سے بچا لے گا؟

رہی بات جنگ کی تو اس بات سے ہار اور جیت کا اندازہ لگا لیں کہ آیت اللہ خامنہ ائی نے 9کروڑ ایرانیوں کو چھوڑ کر بنکر میں جانے سے انکار کرتے ہوئے سینہ تان کر شہادت کو گلے لگایا اور ثابت کردیا کہ، "میری رگوں میں علی المرتضیٰ و فاطمتُہ الزہرا سلام اللہ علیہا کا خون ہے۔ ہم مر سکتے ہیں، جھک نہیں سکتے" اور دوسری طرف ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں بیٹھ کر یہودی جادوگروں سے خود کو دم پڑھوا رہا ہے۔ درحقیقت ایران سے امریکہ و اسرائیل کی جنگ بنتی ہی نہیں تھی۔ وہ لوگ گلیوں میں شہادت ڈھونڈ رہے ہیں اور یہ بزدل بنکروں میں بھاگ رہے ہیں۔ وہ موت و شہادت کے مجنوں ہیں جنہیں ماں نے لوریوں میں مالکِ اشتر کے قصے سنائے ہیں اور یہ مرحب وانتر کی اولادیں ہیں۔

اگر یہ جنگ صرف قوتِ بازوں پر لڑنے والی ہوتی تو ایران اب تک ماضی کا قصہ بن گیا ہوتا لیکن کوئی اور طاقت ہے جو فارس کو گرنے نہیں دیتی، جس نے گردنوں سے خنجروں کو کند کر دیا ہے اور شاید اب یہی طاقت پاکستانی جوانوں کو پاکستان کے بے غیرت اشرافیہ کے سامنے کھڑے ہونے کا حوصلہ دے گی کیوں کہ اب پاکستان شیعہ سنی تقسیم والا پاکستان نہیں رہا بلکہ اب ہر جوان حسین کا شیدائی اور خامنہ ائی کا سپاہی بن چکا ہے۔

امریکا شیطانِ بزرگ اب مزید اپنی نجاست اس پاک زمین پر نہیں تھوک سکے گا کیونکہ یہ پاکستان ہے، پاکیزگی کی سر زمین!

حیدر کے مریدوں اور حسین کے شیدائیوں کا مسکن!

یہ درس کربلا کا ہے
کہ خوف بس خدا کا ہے!

Check Also

Taleem Akhir Hai Kya?

By Amer Abbas