Saturday, 25 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shahid Mehmood
  4. America, Iran Aur Pakistan

America, Iran Aur Pakistan

امریکہ، ایران اور پاکستان

اسلام آباد کے ماحول میں آج کل ایک عجیب سی بے چینی ہے جو مارگلہ کی پہاڑیوں سے نکل کر پورے شہر کو لپیٹ میں لے چکی ہے۔ اسلام آباد میں سپر پاور امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت کا ایک دور ہو چکا ہے اور دوسرے دور کے لئے بھی کوششیں جاری ہیں۔ امریکی جہاز کچھ سازو سامان لے کر نور ائر بیس پر اتر چکے ہیں اور امید کی جارہی تھی کہ منگل کے دن اسلام آباد میں ایک بڑی بیٹھک سجے گی جس میں امریکہ اور ایران کے درمیان معاملات طے ہو جائیں گے لیکن آخری لمحات میں یہ مذاکرات کھٹائی کا شکار ہو گئے۔

ایران آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لئے رضامند ہوا ہی تھا کہ اب امریکہ نے ایرانی جہازوں کی ناکہ بندی کرکے معاملات کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ یہ جنگ اب ہتھیاروں سے نکل کر چند لوگوں کی ضد پر پھنس چکی ہے۔ ایران کا مطالبہ ہے کہ ہم آبنائے ہرمز کو اس وقت تک نہیں چھوڑ سکتے جب تک امریکہ ایران کے جہازوں کی ناکہ بندی ختم نہیں کردیتا ہے۔ جو جنگ ایران کی ایٹمی صلاحیت ختم کرکے اسرائیل کے تحفظ کے لئے شروع ہوئی تھی وہ اب بحری راستوں پر کنٹرول کی جنگ بن چکی ہے۔

امریکہ ایک طرف تو مذاکرات کے لئے بے چین دکھائی دیتا ہے لیکن ساتھ ہی صدر ٹرمپ آئے روز کوئی نئی بات کرکے ماحول کو کشیدہ بنا دیتے ہیں اور ٹرمپ کی روز روز کے بدلتے ہوئے بیانات سے ایران پریشان دکھائی دیتا ہے اور ایران تو بارہا یہ کہہ چکا ہے کہ اسے امریکہ اور بالخصوص ٹرمپ پر بالکل بھی بھروسہ نہیں ہے کیونکہ پہلے بھی دو بار امریکہ نے مذاکرات کی میز پر بات چیت کے دوران ہی ایران پر حملہ کیا تھا۔ اب بھی ایران کو خطرہ ہے کہ کسی بھی وقت مذاکرات کے دوران صدر ٹرمپ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے بعد دوبارہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے۔

عراق کی مثال سب کے سامنے ہے جب امریکہ نے تسلی کرلی تھی کہ عراق کے پاس کوئی کیمیائی ہتھیار نہیں ہیں تو پھر امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ عراق پر چڑھ دوڑا تھا اور عراقی تیل کے بڑے ذخائر پر قبضہ جمالیا تھا۔ اگر غور کیا جائے تو یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ امریکہ ایران کی یورینیم کے حصول کے بعد ایران کو کسی طور پر نہیں چھوڑے گا بلکہ پوری طاقت کے ساتھ ایران پر حملہ کر دے گا۔ دوسرے لفظوں میں ایران کے پاس یورینیم کی موجودگی اصل میں ایران پر کسی بڑے حملے کی راہ میں رکاوٹ ہے اور ایران کسی طور پر بھی اپنی یورینیم امریکہ کے حوالے کرنے کو تیار نہیں ہوگا۔ ایران چاہتا ہے کہ کوئی ٹھوس گارنٹی دے تو وہ مذاکرات کا حصہ بننے کو تیار ہے جبکہ امریکہ اور ٹرمپ کی گارنٹی دینا یہاں کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔

امریکہ ایک سپر پاور ہے اور کسی بھی سپر پاور کی کوئی اخلاقیات نہیں ہوتی ہے بلکہ اسے ہر صورت اپنی رٹ کو قائم کرنا ہوتا ہے۔ امریکہ اصل میں یہ سمجھتا ہے کہ مشرق وسطیٰ سمیت بلوچستان اور دنیا کے تمام ممالک میں دفن قدرت کے خزانے اس کی ملکیت ہیں اور وہ جب چاہے کسی بھی ملک پر حملہ کرکے وہاں کے وسائل پر قبضہ جمانے کا حق رکھتا ہے۔ اگر کوئی ملک امریکہ کے سامنے مزاحمت کرتا ہے تو پھر امریکہ کبھی دہشت گردی اور کبھی جوہری صلاحیت کو روکنے کے بہانوں سے اپنے اتحادیوں کے ساتھ اس ملک کے وسائل پر قابض ہو جاتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ایران کے ایٹمی پروگرام کا امریکہ کو براہ راست کوئی خطرہ نہیں ہے اور ایران نے کبھی بھی کسی ملک پر قبضہ جمانے کی کوشش بھی نہیں کی ہے تو پھر امریکہ کو اس ملک کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہئیے۔۔

ایران کا یہ مضبوط موقف ہے کہ اس کی ساری دفاعی قوت اسرائیل کی جارحیت پسندانہ سوچ کے خلاف ہے اور حقیقت میں خطرہ اسرائیل کو ایران سے ہرگز نہیں ہے بلکہ اسرائیل اپنے گریٹر اسرائیل کے پلان کے تحت پورے خطے کے لئے خطرہ بنا ہوا ہے۔ ایسی صورت میں ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ امریکہ سمیت دنیا کی ساری طاقتیں مل کر اسرائیل کی ایٹمی صلاحیت کو ختم کرتیں جبکہ امریکہ کا ایران کو غیر مسلح کرنا حقیقت میں اسرائیل کی پشت پناہی کرنا ہے تاکہ اسرائیل آرام کے ساتھ اپنے ایجنڈے پر عمل پیرا ہو سکے۔

میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ کی پالیسی کسی طور پر بھی بنیادی اصولوں کے مطابق نہیں ہے اور اسی پالیسی نے آج امریکہ کو دنیا میں تنہائی کا شکار کردیا ہے اور دنیا میں ایک اور مزاحمتی سپر پاور کی کمی محسوس کی جارہی ہے جو امریکہ کے بے لگام فیصلوں کے سامنے کھڑی ہو سکے۔ امریکہ کے یورپی اور نیٹو کے اتحادی بھی یہی کہتے ہیں کہ امریکہ ایک اسرائیل کی خواہشات کی خاطر پوری دنیا کو جنگ میں دھکیلنا چاہتا ہے جو سراسر نامناسب طرز عمل ہے جس کی وجہ سے پہلی بار یورپ، کینیڈا اور نیٹو ممالک نے امریکہ کے ساتھ کھڑا ہونے سے انکار کیا ہے۔ یہی نہیں مشرق وسطیٰ میں بھی اکثر ممالک نے ایران کے حملوں کے باوجود صبر کا مظاہرہ کیا ہے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ امریکہ کی ایران کے خلاف جارحیت غیر مناسب عمل ہے اور چونکہ ان کی سرزمین ایران کے خلاف جارحیت میں استعمال ہورہی تھی اس لئے وہ خود کو اس گناہ بے لذت کا حصہ سمجھتے تھے اور اس طرح اسرائیل کی وہ سازش بھی ناکام ہوگئی جس کے ذریعہ وہ پورے خطہ کو آگ میں جھونک کر لبنان، شام اور فلسطین کو ہڑپ کرنا چاہتا تھا۔

یہاں میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ ایران کا طرز عمل بھی بہت مناسب نہیں ہے اور شاید مرکزی قیادت کی شہادت کے بعد ایرانی پالیسی ساز یا تو جذبات میں گھر چکے ہیں اور یا پھر ان کے پاس قیادت کی سوجھ بوجھ کی شدید کمی ہے۔ ورنہ ایسے موقع پر جب ساری دنیا ایران کے موقف کے ساتھ کھڑی تھی تو آبنائے ہرمز کو بند کرکے پوری دنیا کو پیغام دینا کہ ہم تمہاری نسلوں کو بھوک سے مار دیں گے کوئی مناسب حکمت عملی نہیں تھی بلکہ اس موقع پر اگر ایران اعلان کرتا کہ ہم پوری دنیا کی سلامتی کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیں اسرائیل کے جہازوں کے علاؤہ باقی کسی ملک کے جہازوں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے بلکہ وہ آگے بڑھ کر دنیا کے تجارتی بیڑوں کو تحفظ دیتا تو یقین جانئیے آج ایران ایک بہت بہتر پوزیشن میں کھڑا ہوتا۔

ایسی صورت میں اگر امریکہ ایران کے بحری بیڑوں کی ناکہ بندی کرتا تو بھی دنیا اس کے ساتھ کھڑی ہوتی لیکن آج جو حکمت عملی ایران نے دنیا کو ڈبونے کے لئے استعمال کی تھی وہی اس کے خلاف ناکہ بندی کی صورت میں استعمال ہورہی ہے اور اس ناکہ بندی پر دنیا ایران کے ساتھ نہیں کھڑی ہے۔ دوسری بڑی غلطی ایران نے پاکستان کی ثالثی نہ مان کر کی ہے جس کے بعد اب پاکستان کو خطہ میں کوئی نہ کوئی پوزیشن لینا پڑے گی اور امکان یہی ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ کے دیگر مسلم ممالک کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ اگر ایرانی وفد اسلام آباد پہنچ جاتا اور مدلل طریقے سے اپنے مطالبات سامنے رکھتا اور دنیا کو باور کرواتا کہ وہ امریکی جارحیت کے باوجود دنیا کے امن کی خاطر بات چیت کرنے کو تیار ہے اور مزید یہ کہ ایران کی سالمیت کو امریکہ سے جو خطرات درپیش ہیں ان پر دنیا ایران کاساتھ دے تو یقین جانئیے بدلتے حالات میں اکثر ممالک ایران کے موقف کی تائید کرتے۔ لیکن ایرانی قیادت کی ہٹ دھرمی ایران کے لئے خطرہ بن چکی ہے۔

اب اگر امریکہ مسلسل ایران کی ناکہ بندی جاری رکھتا ہے تو ایران کے پاس اس کا کوئی حل موجود نہیں ہے سوائے اس کے کہ وہ مسلم ممالک پر حملے کرکے انھیں بھی کمزور کردے اور آخر میں اسرائیل کے ایجنڈے کو مضبوط کرے۔ ایسا کرنے سے ایران پوری دنیا میں تنہائی کا شکار ہو جائے گا اور دنیا ایران کو امن کے لئے خطرہ سمجھنے لگے گی۔ زندگی میں معاملات حکمت سے ہی چلائے جاتے ہیں اور ساری دنیا کو چھوڑ کر تنہا کوئی ملک کچھ نہیں کر سکتا ہے۔

ایران نے اگر ماضی میں ایٹمی تجربات نہ کرکے فاش غلطی کی ہے تو اب بے فائیدہ کی یورینیم کو رکھ کر بھی کیا کر سکتا ہے کیونکہ یہی یورینیم اب ایران کی سالمیت کے لئے خطرہ بن چکی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب بھی وقت ہے ایران کو پاکستان کی بات مان لینی چاہئیے اور چین و روس کو بھی اس معاملہ میں شامل کرکے دنیا میں توسیع تر امن کے لئے نکات طے کرکے دنیا کو ایٹمی تباہی سے بچانا چاہئیے اور یہی وقت نزاکت کی ضرورت ہے۔

Check Also

Kitab Tehzebon Ki Maa: Tareekh e Tabari Ka Ilmi Chiragh (8)

By Asif Masood