Molana Ashraf Ali Thanvi Aur Feminism
مولانا اشرف علی تھانوی اور فیمنزم

مجھے اکثر حیرت ہوتی تھی کہ قبلہ عبد الماجد دریابادی جیسا اپنے وقت کا ملحد زماں، جان ملٹن، شیکسپئر، کوپر نیکس کا شیدائی، انگریزی لٹریچر کو گھول کر پینے والا، لکھنو کی ایلیٹ کلاس میں اٹھک بیٹھک کرنے والا بھلا کیسے اتر پردیش کے دور افتادہ قصبے تھانہ بھون کے مولوی اشرف علی تھانوی کے آگے دو زانو ہو کے بیٹھ گیا۔۔
کہاں دیوبند کے ملاں اور کہاں علی گڑھ کا مسٹر دونوں کا کیا جوڑ۔۔ الحاد کی ننگی تلوار پر ایسی کیا گزری کی وہ تھانہ بھون کی میان میں نیام ہوگئی۔۔ اس کی سمجھ تب آئی جب بہشتی زیور کو تفصیل سے پڑھا۔۔
کتاب کا ایک پہلو یہ ہے کہ جس پر گرفت کی جاتی ہے۔۔ قبلہ تھانوی نے عورت کو ایک مکمل گھریلو جانور بنا کے رکھ دیا ہے۔۔ اسے شوہر کی زر خرید لونڈی بنانے کے مکمل نسخہ جات موجود ہیں۔۔ کیسے عورت کے ذمے ہے کہ وہ شوہر کے خدمت گزاری میں اتنا پست ہو جائے کہ اس کی اپنی تشخیص بھی فنا ہو جائے۔۔
یہاں تک قبلہ تھانوی صاحب نے تو عورت کو خاوند کی قوت باء میں اضافے کے لیے کشتے اور معجون تک تیار کرنے کی ریسپی بھی بہشتی زیور میں لکھ دی۔۔
ایک وقت تھا بہشتی زیور اتنی مقبول کتاب تھی اسے شادی بیاہ کے موقع پر خواتین کے جہیز میں دیا جاتا اور دوسری طرف یہ مکتبہ دیوبند کی متنازعہ ترین کتابوں میں بھی شامل ہوتی ہے۔۔ بہشتی زیور کو اگر اس دور کے برصغیر میں رائج پدر سری نظام کے تناظر میں دیکھا جائے تو بہشتی زیور کا ایک نیا رخ دیکھنے کو ملے گا۔۔
میری برادری کے روشن خیالوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ کسی شخصیت یا کتاب کا تجزیہ اسے اس زمانے کے حالات سے کاٹ کر آج کے جدید زمانے کے ساتھ تقابل کرکے کرتے ہیں۔۔ اس سے جو نتائج نکلتے ہیں وہ اکثر تعصب پر مبنی ہوتے ہیں۔۔
آج سے سو سال پہلے کا ہندوستان خاص کر اتر پردیش میں پدر سری نظام کیسا تھا اور اس میں عورت کی جو حیثیت تھی اس کا ایک عدد نقشہ جوش ملیح آبادی کی کتاب یادوں کی برات میں درج ایک عدد واقعے سے لگا لیں۔۔
جوش لکھتے ہیں۔۔ " ایک دفعہ شادی کی محفل میں چھت سے کسی خاتون نے مردانے میں جھانکا تو محفل میں شریکِ ایک صاحب نے وہیں سے بندوق سیدھی کی اور عورت کو فائر کر دیا۔۔ صاحب خانہ نے اس سے پوچھا یہ تم نے کیا کیا تو گولی مارنے والے نے کہا تمھاری عورت گھر سے باہر جھانک رہی تھی۔۔
صاحب خانہ نے اس کا سیہ ٹھونک کر کہا بلکل ٹھیک کیا تم نے اور پھر گھر میں جاکر اس عورت کو لاش کو گھسیٹتے ہوئے باہر لائے اور کہا۔۔
خدا نے میری عزت رکھ لی۔۔ دیکھ لو یہ میری بیوی نہیں بلکہ میری ملازمہ ہے۔۔ "
ایسا پدر سری سماج جس میں عورت کی حیثیت تیتر بٹیر سے کم نہیں تھی کیا اس دور میں ایک مولوی سے یہ توقع رکھنا کہ وہ بہشتی زیور میں ایف سیکس سیکٹر میں عورت مارچ کی تبلیغ کرتا بعید از قیاس ہے۔۔
بہشتی زیور بعض کے ہاں اتنی ناپسندیدہ ہے کہ نام سامنے آتے ہی زبان و قلم کا ایکسلیریٹر بے قابو ہو جاتا ہے۔۔ ہمارے ایک بزرگ بھی اسی قبیل سے ہیں۔۔ خاصے سلفی المزاج ہیں۔۔ نظریات میں جگہ جگہ لبرلزم کے پیوند لگے ہیں۔۔ تھانوی صاحب کے سخت ناقد ہیں۔۔ ہم شراراتا بہشتی زیور کا ذکر کرتے ہیں تو یکدم بپھر جاتے ہیں۔۔ خاص کر بہشتی زیور کی اس روایت کے خوب لتے لیتے ہیں جس میں انھوں نے بنات الامہ کو شوہروں کے لیئے کشتے اور معجون تیار کرنے کے نسخے بتائے ہیں۔۔ کہتے ہیں یہ حکیم الامت سے زیادہ یونانی دواخانے کے حکیم لگتے ہیں۔۔
اب ان کو کیسے سمجھاؤں۔۔ حکیم صاحب کی بالغ نظری پر۔۔ اب تو حکیم صاحب ان سمیت بہت ساروں کی چھیڑ بن چکے ہیں۔۔ چھیڑ سے ایک لطیفہ سنیے
عرفان جاوید نے اپنی کتاب دروازے میں واقعہ لکھا۔۔
مفتی محمود ایک دفعہ چند دیگر سیاست دانوں کے ساتھ قید تھے، سیاسی قیدیوں نے وقت گزاری کے لیے ایک دوسرے کے طرح بے طرح نام رکھے ہوئے تھے جس سے ایک دوسرے کو چھیڑتے۔۔
ایک دفعہ مفتی محمود نے کہا۔ "بھئی یہ سب جعلی نام ہیں تم لوگ اتنا چڑاتے کیوں ہو، نظر انداز کر دیا کرو۔۔
اگلے روز ایک قید نے مفتی صاحب کی بیرک میں آکر کہا۔
"مفتی صاحب ذرا سوئی دھاگہ عنایت کر دیجئے گآ"
مفتی جی نے شائستگی سے کہا میرے پاس سوئی دھاگے کا کیا کام۔۔ پھر دوسرے، تیسرے، چوتھے قیدی نے مفتی صاحب سے سوئی دھاگہ مانگا یہاں تک کہ گیارھواں قیدی جب بیرک میں داخل ہوا تو مفتی صاحب اسے دیکھ کر تپ گئے اور پھنکارتے ہوئے کہا۔۔
"تمھیں بھی سوئی دھاگہ چاہیے ہوگا، کیوں بے اپنی کسی عزیزہ کے اعضاء کی "سلائی" کروانی ہے" (اعضاء کا نام بوجہ شائستگی سنسر کر رہا ہوں)۔۔
اتنے میں ساتھ کی بیرک سے فلک شگاف قہقے پھوٹے اور مولانا چھیڑ کی افادیت کو سمجھ گئے۔۔

