Saturday, 02 May 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mubashir Ali Zaidi
  4. Aap Kitna Mehanga Tail Khareed Sakte Hain?

Aap Kitna Mehanga Tail Khareed Sakte Hain?

آپ کتنا مہنگا تیل خرید سکتے ہیں؟

ایران جنگ کی وجہ سے مشرق وسطی سے دنیا کو تیل کی فراہمی شدید متاثر ہوئی لیکن ماہرین حیران تھے کہ تیل کی قیمتیں ایک حد سے اوپر کیوں نہیں گئیں۔ دراصل مارکیٹ اس امید پر قائم رہی کہ جنگ جلد ختم اور سپلائی بحال ہوجائے گی۔ لیکن یہ امید پوری نہ ہوسکی۔ آبنائے ہرمز بند رہی تو فائننشل ٹائمز کے مطابق چند ہفتوں میں تیل کے اسٹریٹیجک ذخائر ختم ہوجائیں گے۔ اکانومسٹ میگزین کے تجزیہ کاروں کو خدشہ ہے کہ تیل کی قیمت بڑھتے بڑھتے 400 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

آبنائے ہرمز سے تیل کی 20 فیصد عالمی تجارت ہوتی ہے۔ ہنگامی حالات کی وجہ سے گزشتہ دو ماہ میں وہاں سے چند ایک ہی آئل ٹینکرز روانہ ہوسکے ہیں۔ اس دوران دنیا بھر میں حکومتوں کے اسٹریٹیجک ذخائر، سمندر میں موجود تیل اور ریفائنریوں کی حکمت عملی نے مل کر ایک عارضی توازن پیدا کیا۔ اسی لیے تیل کی عالمی قیمت 90 سے 120 ڈالر بیرل کے درمیان اوپر نیچے ہوتی رہی۔

فائننشل ٹائمز کے مطابق اب وہ وقت آن پہنچا ہے جب دستیاب تیل کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہوجائیں گے اور قیمتیں اچانک تیزی سے اوپر جانے لگیں گی۔ یہ کوئی دور کا خدشہ نہیں بلکہ جون کے آغاز تک یہ سلسلہ شروع ہوجائے گا۔

اکانومسٹ کے پوڈکاسٹ میں ماہرین کے ایک پینل نے اس بارے میں گفتگو کی کہ تیل کی قیمتیں کہاں تک جاسکتی ہیں۔ تجزیہ کاروں نے کہا کہ اب تک مارکیٹ ایک عجیب سی خوش فہمی میں مبتلا تھی کہ جنگ جلد ختم ہوجائے گی، راستے کھل جائیں گے اور سب کچھ معمول پر آ جائے گا۔ لیکن اب یہ خوش فہمی ٹوٹ رہی ہے۔ تیل کی قیمتیں تیزی سے اوپر جارہی ہیں۔ اس کی وجہ صرف سپلائی میں کمی نہیں بلکہ اس حقیقت کا ادراک ہے کہ یہ بحران جلد ختم نہیں ہوگا۔ جب امریکی صدر کہتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کی بندش مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تو مارکیٹ کے لیے اشارہ ہوتا ہے کہ وقت بدل چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق جب ذخائر ختم ہونے لگتے ہیں تو مارکیٹ کے پاس صرف ایک راستہ بچتا ہے، قیمتیں اتنی بڑھا دی جائیں کہ لوگ کم استعمال کریں۔ خدشہ ہے کہ تیل کا نرخ 167 سے 400 ڈالرفی بیرل تک پہنچ سکتا ہے جو بہت سے ملکوں کے لیے ناقابل برداشت ہوگا۔ یہ اضافہ صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا۔ ٹرانسپورٹ، خوراک، صنعت، حتیٰ کہ روزگار تک اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ فائننشل ٹائمز کے مطابق اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو صنعتیں بند ہونے لگیں گی اور معیشتیں سکڑ سکتی ہیں۔ دنیا کے کچھ حصوں میں اس کے آثار پہلے ہی ظاہر ہوچکے ہیں۔

ایشیا کے کئی ممالک نے ایندھن کی کھپت کم کرنا شروع کردی ہے۔ کچھ جگہوں پر فیکٹریاں بند ہورہی ہیں، کہیں پروازیں کم کی جارہی ہیں اور کہیں حکومتیں لوگوں کی روزمرہ سرگرمیوں کو محدود کررہی ہیں۔ یہ صورتحال خاص طور پر غریب ممالک کے لیے خطرناک ہے۔ ان کے پاس نہ تو بڑے ذخائر ہیں اور نہ مہنگی توانائی خریدنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ وہاں بحران جلد اور زیادہ شدت سے محسوس ہوتا ہے۔

اکانومسٹ کے ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کل کھل جائے تو بھی سب کچھ فوراً معمول پر نہیں آئے گا۔ تیل کے کنوؤں کو دوبارہ چلانا اور ریفائنریوں کو پوری صلاحیت پر لانا ارو ترسیل بحال کرنا، یہ سب ہفتوں نہیں بلکہ مہینوں کا وقت لیتا ہے۔

Check Also

Aslahe Ki Daur Ka Pait Kabhi Nahi Bhare Ga

By Wusat Ullah Khan