Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Aftab Alam
  4. Darakht: Umeed, Muhabbat Aur Aane Walay Ka Ki Khamosh Dua

Darakht: Umeed, Muhabbat Aur Aane Walay Ka Ki Khamosh Dua

درخت: امید، محبت اور آنے والے کل کی خاموش دعا

درخت لگانے میں ایک گہری انسانی فطرت کی خوبصورتی پوشیدہ ہے۔ شاید اس لیے کہ درخت ہمیں اُس صبر کا درس دیتا ہے جسے جدید زندگی کہیں پیچھے چھوڑ چکی ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جو فوری نتائج، فوری خوشیوں اور عارضی لذتوں کے پیچھے بھاگتی ہے، مگر درخت ان میں سے کسی چیز کا تقاضا نہیں کرتا۔ وہ آہستہ، خاموشی اور وفاداری کے ساتھ بڑھتا ہے، آسمان کی طرف پھیلتے ہوئے اپنی جڑیں زمین میں گہرائی تک مضبوط کرتا جاتا ہے۔ درخت لگانا دراصل آنے والے کل پر یقین رکھنے کا نام ہے، بغیر اس پر اپنا حق جتائے۔

ایک پرانی کہاوت ہے کہ زندگی کا اصل مطلب اُس وقت شروع ہوتا ہے جب انسان ایسا درخت لگاتا ہے جس کے سائے میں شاید وہ خود کبھی نہ بیٹھ سکے۔ ان الفاظ میں ایک خاموش دانائی پوشیدہ ہے۔ درخت اُن چند تحفوں میں سے ایک ہے جو ہم مکمل طور پر مستقبل کے لیے تخلیق کرتے ہیں۔ جو شخص اسے لگاتا ہے، شاید کبھی اس کی شاخوں کو مکمل طور پر پھیلتے نہ دیکھ سکے، شاید کبھی اُن پرندوں کی آواز نہ سن سکے جو ایک دن اس میں گھونسلے بنائیں گے، شاید کسی گرم دوپہر میں اس کے ٹھنڈے سائے تلے آرام نہ کر سکے اور پھر بھی، وہ اسے لگا دیتا ہے۔ یہی محبت کی خالص ترین شکل ہے، امید کا ایک ایسا عمل جو انجان لوگوں اور آنے والی نسلوں کے نام کیا جاتا ہے۔

درخت زمین کی سبز رنگ میں لکھی ہوئی شاعری ہیں۔

وہ شہروں کی سختی کو نرم کرتے ہیں اور شور بھری گلیوں کو سکون عطا کرتے ہیں۔ وہ ہوا کے ساتھ جھومتے ہوئے ہمیں ثابت قدمی اور وقار کے سبق سکھاتے ہیں۔ اُن کی جڑیں مٹی کو اس طرح تھامے رکھتی ہیں جیسے دنیا کو بکھرنے سے بچا رہی ہوں، جبکہ اُن کی شاخیں دعاؤں کی مانند اوپر اٹھتی ہیں۔ ہر موسم میں درخت ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ تبدیلی فطرت کا حصہ ہے: وہ بے خوف ہو کر کھلتے ہیں، بغیر مزاحمت کے اپنے پتے گرا دیتے ہیں اور سردیوں کو اس یقین کے ساتھ برداشت کرتے ہیں کہ بہار ضرور واپس آئے گی۔

ایک درخت صرف ایک جگہ کھڑا نہیں رہتا۔ وہ فضا میں زندگی گھولتا ہے، سورج کی روشنی جذب کرتا ہے، تھکے ہوئے مسافروں کو پناہ دیتا ہے اور بے شمار مخلوقات کا گھر بن جاتا ہے۔ پرندے اس کی شاخوں پر گاتے ہیں، بچے اس کے تنے پر چڑھتے ہیں، محبت کرنے والے اس کی چھال پر اپنی یادیں کندہ کرتے ہیں اور تھکی ہوئی روحیں اس کے نیچے بیٹھ کر سکون تلاش کرتی ہیں۔ درخت بہت کم مانگتے ہیں، مگر اپنی پوری زندگی دوسروں کو دیتے رہتے ہیں۔

اپنے ہاتھ مٹی میں ڈال کر ایک زندہ چیز لگانے میں ایک عجیب سی شفا بھی پوشیدہ ہے۔ اُس لمحے ہمیں یاد آتا ہے کہ ہم فطرت سے الگ نہیں بلکہ اسی کا حصہ ہیں۔ ہمیں احساس ہوتا ہے کہ زندگی کو صرف اس بات سے نہیں ناپا جا سکتا کہ ہم دنیا سے کیا لیتے ہیں، بلکہ اس سے بھی کہ ہم اپنے پیچھے کیا چھوڑ جاتے ہیں۔ ایک درخت تسلسل کی علامت بن جاتا ہے، اس بات کا ثبوت کہ محبت اور خیال کے چھوٹے چھوٹے عمل بھی ہماری زندگی سے کہیں زیادہ دیر تک زندہ رہ سکتے ہیں۔

کچھ لوگ اپنے پیاروں کی یاد میں درخت لگاتے ہیں اور شاید اس سے زیادہ خوبصورت یادگار کوئی نہیں۔ پتھر کے مجسمے وقت کے ساتھ گھس جاتے ہیں اور نام مٹ جاتے ہیں، مگر ایک زندہ درخت بڑھتا رہتا ہے۔ ہر بہار وہ دوبارہ کھلتا ہے، اپنے پتوں اور روشنی میں یادوں کو زندہ رکھتے ہوئے۔ غم کے مدھم پڑ جانے کے بہت بعد بھی، وہ درخت باقی رہتا ہے، زندہ، سانس لیتا ہوا، ابدیت کی طرف بڑھتا ہوا۔

ذرا تصور کریں اگر ہر شخص صرف ایک درخت بھی منافع یا تعریف کے لیے نہیں، بلکہ صرف زندہ ہونے کے شکرانے کے طور پر لگا دے۔ پورے محلے بدل جائیں گے۔ شہر زیادہ آسانی سے سانس لیں گے۔ بچوں کو گرمی کی بجائے سایہ دار گلیاں ملیں گی، خاموشی کی بجائے پرندوں کی آوازیں سنائی دیں گی اور سب سے بڑھ کر، شاید انسانیت خود بھی زیادہ نرم دل ہو جائے، کیونکہ درخت لگانا دراصل ایمان کا عمل ہے، اس یقین کا کہ مستقبل اہم ہے۔

درخت لگانے کا بہترین وقت شاید کئی سال پہلے تھا۔ مگر دوسرا بہترین وقت آج ہے۔

ایک درخت اُس شخص کے لیے لگائیں جس سے آپ محبت کرتے ہیں۔ ایک درخت زمین کے لیے لگائیں۔ ایک درخت اُس اجنبی کے لیے لگائیں جس سے آپ کبھی نہیں ملیں گے۔ ایک درخت اس خاموش وعدے کے طور پر لگائیں کہ خوبصورتی آپ کے بعد بھی باقی رہنی چاہیے اور برسوں بعد، جب اُس کی شاخیں ہوا میں جھوم رہی ہوں گی اور کوئی اُن کے سائے میں سکون پا رہا ہوگا، تو آپ کا ایک حصہ اب بھی وہاں موجود ہوگا، خاموشی سے اُس سائے میں زندہ۔

Check Also

Tasheeri Mizaj Aur Aik Mukhlisana Guzarish

By Abid Mehmood Azaam