Thursday, 30 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Mehdi Bukhari
  4. Na Shukri Qaum Aur Malik Riaz

Na Shukri Qaum Aur Malik Riaz

ناشکری قوم اور ملک ریاض

اس بات پر تو من جملہ قائدین اور ساری قوم کا اتفاق ہے کہ ملک ریاض عجز و انکساری، خداترسی اور رحمدلی کا مجسم پیکر ہے۔ مرشد کو ایکڑوں زمین مفت دیتا ہے۔ زرداری کو بحریہ ٹاؤن میں عظیم الشان قلعہ نما محل بنا کر دیا جو کہ میرے گھر سے محض دو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ نواز شریف کے ہونہار پُوت حسن نواز کا مشہور زمانہ فلیٹ مارکیٹ ویلیو سے دوگنی قیمت پر خرید لیتا ہے۔ جنرل باجوہ کو اسلام آباد کی کمرشل عمارت میں پورے کا پورا فلور ہی گفٹ کر دیتا ہے۔

گیلانی کو مہنگے تحائف دیتا ہے۔ بشریٰ بی بی کو اس کا بیٹا علی ثقلین ملک ہیرے گفٹ کرتا ہے۔ لندن میں ملک صاحب کے نو عدد اکاؤنٹس سے خزانہ برآمد ہوتا ہے جو غریب ملک کے عوام کی فلاح واسطے محفوظ رکھا گیا تھا۔ الغرض سول و عسکری قیادت کے واسطے اور ان کی بیگمات کے واسطے ملک ریاض کی خدمات لازوال ہیں۔ ملک ریاض ہی تو ساری سیاسی و عسکری اشرافیہ کی دھوتی ہے وگرنہ تو اشرافیہ الف ننگی ہے۔

آپ شاید جانتے ہیں یا نہیں جانتے؟ ملک ریاض کی اس ملک کے ہر چھوٹے بڑے سیاسی قائد کے لیے ہی خدمات نہیں بلکہ بحریہ دسترخوان کی صورت وہ روزانہ ہزار ہا ہزار غرباء میں دو وقت کا مفت کھانا بھی تقسیم کرتے ہیں اور صرف یہی نہیں۔ ملک ریاض نے بحریہ ٹاؤنز میں فوج سے رئیٹائرڈ افراد کو ملازمت کے وسیع مواقع فراہم کرتے ہوئے بیروزگاری کا سدباب کرنے کی ہرممکن کوشش کی ہے۔ نہیں یقین تو پاکستان بھر میں پھیلے بحریہ کے سیکورٹی و ایڈمن سٹاف کو دیکھ لیجئیے۔

اور بدلے میں کیا ملا؟ اس ناشکری قوم نے بدلے میں ملک ریاض کا نام لینے پر پابندی لگا دی۔ اسے "پراپرٹی ٹائیکون" اور " اہم کاروباری شخصیت" جیسے ناموں سے پکارا جانے لگا۔ میڈیائی ٹاک شوز میں اس کا نام آتے ہی بیپ لگ جاتی تھی۔ ملک ریاض پر کچھ حاسدین طرح طرح کے سنگین الزامات لگاتے رہے مگر کسی مائی کے لعل کو یہ جرات نہ ہو پائی کہ عدالت کا در کھٹکھٹاتا۔ پھر یہ ناشکری قوم 190 ملین پاؤنڈ کیس میں ملک صاحب پر اعتراضات اُٹھاتی رہی۔ حد ہے اور اب تو حد ہی مُک گئی اس فرشتہ صفت انسان کے ریڈ وارنٹ جاری کیے گئے اور آج انٹرپول نے اسے بیٹے سمیت گرفتار کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ آخر یہ قوم کب سدھرے گی؟

ماضی قریب تک جس شخص کو عدلیہ، نیب، قومی سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین اور ننانوے فیصد میڈیا مالکان کی جانب سے کلین چٹ ملی ہوئی تھی کم از کم اس کا پیچھا تو چھوڑ دیں۔ آپ کا کیا خیال ہے؟ اگر ملک ریاض صاحب کے اثاثوں کی منی ٹریل ثابت نہ ہوتی، اگر وہ ملک کو معاشی نقصان پہنچا رہے ہوتے، اگر انہیں بیرونی قوتوں کا آشیرباد ہوتا اور اگر وہ قانون کے دائرے سے باہر رہتے ہوئے کاروبار کر رہے ہوتے تو کیا اپنے سوا ہر کسی کو کرپٹ کہنے والے عمران خان صاحب خاموش رہتے؟ کچھ تو عقل کو ہاتھ ماریں۔

یہ بات ہمیں گھر سے درس گاہ تک متواتر ازبر کرائی جاتی ہے کہ ہر معاملے کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ ایک منفی اور دوسرا مثبت پہلو۔ ہمیں منفی سے زیادہ مثبت پہلو کو دیکھنا اور اجاگر کرنا چاہیے۔ جیسے گلاس پانی سے آدھا بھرا ہوا ہے اور آدھا خالی ہے تو ہمیں یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ گلاس آدھا خالی ہے بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ گلاس آدھا بھرا ہوا ہے۔ اس طرح سوچنے سے انسان میں مثبت تبدیلی پیدا ہوتی ہے اور مایوسی قریب نہیں پھٹکتی۔

کہتے ہیں اوپر والا ہاتھ دینے والے کا اور نیچے والا ہاتھ لینے والے کا ہوتا ہے۔ ملک ریاض نے بس اس سماج کو دیا ہی دیا ہے۔ کسی سے کچھ لیا نہیں ہے۔ اگر یہ قوم شکرگزار ہوتی تو اس کا دیوہیکل مجسمہ بنا کر دارلحکومت کے ڈی چوک میں لگاتی مگر افسوس، اس ناشکری قوم کا کچھ نہیں ہو سکتا۔ بس کوئی بحث نہیں..

Check Also

Aman Ke Liye Akhri Sifarti Koshish

By Sohail Bashir Manj