Saturday, 02 May 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Azhar Hussain Azmi
  4. Chutti Ke Bahane Hazar

Chutti Ke Bahane Hazar

چھٹی کے بہانے ہزار

بڑی بوڑھیوں سے سنتے چلے آرہے ہیں کہ موت کو تو آنے کا بہانہ چاھیئے۔ چھٹی کے بہانے بازوں سے ملا تو اس بات کا سولہ آنے یقین ہوگیا۔ ایسے ایسے بہانے کے موت خود نہ آنے کے بہانے ڈھونڈتے اور کہہ اٹھے: ایسی موت سے تو موت آجانا ہی بہتر ہے۔ مگر اللہ بچائے چھٹی کے لئے جتنے منہ اتنے بہانے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ سب سے محکم بہانہ کسی قریب ترین عزیز کی اچانک موت یے جو رات کے کسی پہر یا عین آفس کے لئے نکلتے وقت ہوتی ہے۔ اس بہانے میں کتنے زندوں اور مردوں کو ان کے بغیر بتائے کئی بار مار دیا جاتا ہے۔ غالب الہامی شاعر تھا۔ انہی چھٹی کے بہانے بازوں کے لئے کہہ گیا۔

مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا

ویسے اس میں برائی بھی کیا ہے۔ اپنے ہی اپنوں کے کام آتے ہیں۔ اب دیکھئے مرے کو مارا تو اس میں کیا گناہ کیا۔ ہاں زندہ کو مارا تو جس کو مارا اس کے حساب میں کسی کے کام آنا تو لکھ ہی دیا گیا۔

اپنے لئے تو سب ہی مرتے ہیں اس جہاں میں
ہے فوتگی کا مقصد اوروں کے کام آنا

یہ بہانے باز اس طرح انتقال کی خبر دیتے ہیں جیسے میت کے سرھانے کھڑے ہوں اور میت ان سے کہہ رہی ہو کہ اگر میرے مرنے کی خبر اپنے دفتر والوں کو نہ دی تو یہ مرنا مرنے میں شمار نہ ہوگا۔ آواز میں درد و کرب کے سیاہ بادل امڈ امڈ آتے ہیں۔ کلیجہ منہ کو اور منہ موبائل کو آرہا ہوتا ہے۔ کبھی کبھی تو آنسوؤں کی رم جھم آواز میں بھی سنائی دیتی یے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ سب گھر کے بستر پر ہی ہو رہا ہوتا ہے جہاں صاحب غم سے نڈھال، گرم گرم چائے ہاتھ میں لیے قبر سے ذرا کم ہی نیم دراز ہوتے ہیں۔ بس نہیں چلتا کہ اپنے بستر ہر لیٹے لیٹے مزے والے کے ساتھ سپرد خاک ہو جائیں۔ لیکن بات یہی ہے مرنے والوں کے ساتھ کوئی مرتا تھوڑی ہے۔ ویسے بھی وقت بہت بڑا مرہم ہے اور ایسی اموات کا مرہم تو بندے کا زخم جدائی اگلی صبح آفس جانے تک مندمل کر دیتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ یہ بہانے باز اپنی ایک دن کی چھٹی کے لئے کس کس کو ابدی نیند سلانے کے درپے ہوتے ہیں۔ بے قبری اور بے خبری کی اس موت کے لئے کس قریبی عزیز کو چنتے ہیں۔ دفتر والوں کو نماز جنازہ اور تدفین کی جگہ اتنی دور بتائی جاتی ہے کہ آنے والے کو خود موت پڑ جائے۔

آپ نے شاید غور نہ کیا ہو مگر انتہائی معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ میں نے بہانیاتی اموات میں سب سے زیادہ نانی، دادی، خالہ اور پھوپھی کو مرتے دیکھا ہے۔ بندہ بلا کھٹکے ان کے نام لے دیتا ہے۔ غور کریں کہ ایسے موقع ہر ننھیال میں نانی، خالہ اور ددھیال میں دادی، پھوپھی ہی کیوں داغ مفارقت دیتی ہیں۔ وجہ بہت سادہ سی ہے کہ ددھیال میں جن کی بلا کھٹکے برائیاں کی جاتی ہیں، کوسنے دیئے جاتے ہیں وہ نانی اور خالہ ہوتی ہیں۔ ننھیال میں دادی اور پھوپھی کو یہ اعزاز حاصل ہوتا ہے۔ اس لئے چھٹی لینے والا ددھیال اور ننھیال سے ان ہی خواتین کو قبر سپردگی کا اہل و حقدار سمجھتا ہے۔

میں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں بڑے سے بڑے (چند ایک کو چھوڑ کر) ایماندار اور کوئی بازی نہ کھیلنے والوں کو اس طرح کی بہانے بازیوں میں نہایت قبرمندی کے ساتھ ملوث پایا ہے۔ چھٹی کے بہانوں میں دادا، نانا، چچا اور ماموں کو بہت کم مرتے سنا گیا ہے۔ مرد ملازمین خواتین کی موت کو زیادہ اثر پذیر اور یقین و تدفین آمیز پاتے ہیں۔ خواتین ملازمین کے بہانے میرے علم میں نہیں لیکن مجھے اندازہ ہے کہ وہ دل کے کیا ارمان نکالتی ہوں گی۔

ایک مرتبہ اپنے ایک عادی بہانہ باز دوست سے قریبی عزیزوں کی موت کی ارزانی و آسانی کا پوچھا تو بولے: جو سب سے زیادہ عزیز ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے وہی ذہن میں آتے ہیں۔ میں نے کہا: کسی اپنے کو مارنے ہر کوئی شرمندگی نہیں ہوتی۔

ہاتھ لہرا کر کہنے لگا: ایسے کوئی نہیں مرتا۔ پانچ چھ مرتبہ نانی اور خالہ کو مار چکا ہوں مگر خیر سے بھلی چنگی ہیں۔ دادی پر ذرا کم ہاتھ رکھتا ہوں کیونکہ ان کا خون ہلکا ہے۔ جھوٹ بھی سچ بنکر لگتا ہے۔ پھوپھی اکلوتی ہیں اس لئے انہیں اوریجنل وجہ کے لئے سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔

میں نے پوچھا: کبھی ایسا ہوا کہ دفتر کسی کی فوتگی یا طبعیت خرابی کی خبر مرحومہ یا مریضہ نے خود سن لی ہو۔ کانوں کو ہاتھ لگا کر بولے: دفتر فون کرکے دادی کو رات بھر کی طبیعت خرابی کے بعد اسپتال لے جانے کی خبر دے رہا تھا کہ چپکے سے پیچھے آکر کھڑی ہوگئیں۔ میں نے کال ختم کی تو دادی کی پاٹ آواز کانوں سے ٹکرائی: ایمبولینس منگواو گئے یا پیدل ہی چلوں؟ میں نے گھبراہٹ میں پیچھے مڑ کر دیکھا تو دادی اماں کو اور بھی " قہربان" پایا: ایک بات بتاو۔ تمھارے پیدا ہونے کی دعائیں، منتیں ہم مانگیں اور خالہ نانی تمھاری پیدائش پر سب سے آخر میں سوجھا منہ لے کر اسپتال آئیں اور تم ہو کہ ہمیں سب سے پہلے اسپتال لے جا رہے ہو۔ میری تو گھگھی بندھ گی: دادی اماں آپ کی جان کی قسم آج وعدہ کرتا ہوں دفتر والوں کو کبھی آپ کی جھوٹی اور چھوٹی خبر نہ دوں گا۔ ڈاکٹر کی طرف سے سرٹیفیکٹ ملنے کے بعد بھی آدھے ایک گھنٹے to be on safe side انتظار کروں گا۔ آپ کہیں گی تو بات بھی کرا دوں گا آپ کی۔ دادی سچ مچ رونے لگیں: اے بھیا، ہم اس وقت بات کرنے کے قابل ہی کہاں یوں گے۔ چپکے پڑے ہوں گے۔ دادی کو بڑی مشکل سے خاموش کرایا اور طے کر لیا کہ کنفرمیشن سے پہلے نو اناوسمنٹ۔

چھٹی کے لئے بہانے بازی میں ڈاکٹریٹ کرنے والے دوست نے ٹپس دیتے ہوئے بتایا: پہلی کوشش کریں کہ ایسے رشتےداروں کو مارا جائے جو رشتے کے لحاظ سے آپ کے حصے میں آئے ہی نہ ہوں۔ مثلاََ اگر کوئی تایا، پھوپھی، خالہ، ماموں ہیں ہی نہیں تو جتنے چاھیں پیدا کریں اور ماریں۔ دوسری ترجیح یہ رکھیں کہ مرے کو ہی ماریں۔ زندوں کو ماریں تو خیال رکھیں کہ وہ آپ کے ساتھ نہ رہتے ہوں۔ ایسی تمام اموات جو آپ کی ایک چھٹی کے ضمن میں واقع ہوئی ہیں۔ ان کا ریکارڈ رکھیں۔ بہتر ہے ایک ڈائری ترتیب دے لیں کہ جس میں کس کو کب مارا ہے اور وجہ موت درج ہو کیونکہ یہ اموات ملک الموت کے پاس آن ریکارڈ نہیں۔ ان کا حساب کتاب آخر میں آپ سے "موت کے ہول سیلر" کے طور پر لیا جائے گا۔

یہ چھٹی کرنے والے اگلے دن دفتر جا کر لوگوں سے تعزیت وصول کرتے ہیں۔ موت کا آنکھوں دیکھا حال دکھے دل کے ساتھ بتاتے ہیں اور یہ تاثر دیتے ہیں کہ مرحومہ بہت اذیت اور جاں کنی کے عالم تھیں۔ اچھا ہوا اللہ تعالی نے ان کی مٹی عزیز کر لی۔ مرحومہ کے وہ وہ محاسن بیان کئے جاتے ہیں۔ اگر وہ سن لیں تو کہیں: اچھا تو میں یہ ہوں۔ شاعر بے ساختہ پکار اٹھے۔

خدا رکھے بہت سی خوبیاں ہیں مرنے والے میں

دفتر میں کچھ درد دل رکھنے والے تو مرحومہ کے لئے با آواز بلند فاتحہ بھی پڑھ دیتے ہیں جس میں سب سے ہلکی آمین انہی بہانہ باز غم گسار کی نکلتی ہے۔

شام ہوتے ہوتے بہانہ باز موت کو بھول چکا ہوتا ہے۔ کل کا غم زندگی کے ہنگاموں میں گم ہو جاتا ہے۔ کوئی دفتر کا فرد دیر سے تعزیت کے لئے آئے تو بھول بھی جاتا ہے کہ کس کو مارا تھا۔ وہ تو تعزیت کرنے والا خود بتاتا ہے کہ آپ کی زندگی سے کون ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نکل گیا اور باقی کے نکلنے کا انحصار آپ کی اگلی چھٹی پر ہے۔

About Azhar Hussain Azmi

Azhar Azmi is associated with advertising by profession. Azhar Azmi, who has a vast experience, has produced several popular TV campaigns. In the 90s, he used to write in newspapers on politics and other topics. Dramas for TV channels have also been written by him. For the last 7 years, he is very popular among readers for his humorous articles on social media. In this regard, Azhar Azmi's first book is being published soon.

Check Also

Behan Bhai

By Ayesha Batool