Tuesday, 28 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Zafar Syed
  4. Jab Madam Noor Jahan Ne Fitrat Ko Shikast De Kar Fan Ki Laj Rakh Li

Jab Madam Noor Jahan Ne Fitrat Ko Shikast De Kar Fan Ki Laj Rakh Li

جب میڈم نور جہاں نے فطرت کو شکست دے کر فن کی لاج رکھ لی

فطرت اور فن کی کشتی کروائی جائے تو کون جیتے گا؟ آپ کہیں گے کہ فطرت کا پلہ بھاری ہے مگر ایک موقع ایسا آیا جب میڈیم نور جہاں کے فن نے ان کی فطرت کو پچھاڑ کر رکھ دیا۔ کہانی کچھ یوں ہے کہ ملکۂ ترنم نے اگر کسی سے سچی مچی محبت کی تو وہ اداکار اعجاز درانی تھے۔ دونوں کی شادی 1959 میں ہوئی اور میڈم نے خود کو اپنے سے نو برس چھوٹے اعجاز پر نچھاور کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اعجاز کو ایسے رکھتی تھیں جیسے ہتھیلی کا چھالا۔ ان کے کپڑے استری کرتیں، میچنگ جرابیں اپنے ہاتھ سے پہناتیں، ان کی پسند کے کھانے بناتیں۔ بلکہ بیٹی حنا کے مطابق وہ اعجاز کے سامنے سولہ سال کی لڑکی بن جاتی تھیں۔

جیسا کہ کہانیوں میں ہوتا ہے، دو چار سال تو ہنسی خوشی میں گزرے، اس کے بعد اعجاز نے ادھر ادھر آنکھ لڑانی شروع کر دی اور آخر یہ آنکھ جا کر ٹھہری نئی اداکارہ پروین پر، جنہیں شباب کیرانوی نے فردوس کا فلمی نام دیا تھا اور جن کے ساتھ اعجاز کئی فلموں میں کام کر چکے تھے اور جو میڈم سے 19 سال چھوٹی تھیں۔ میڈم کو بھنک ملی تو انہوں اعجاز سے کہا کہ پینو لمبو سے دور رہو، (دراز قد پروین کا حقارت والا نام) مگر اعجاز تو اسی سرو قد پر مرتے تھے، ان کے عشق کے بھوت پر ایسے طعنوں کی لاتوں کا کیا اثر ہوتا۔

مگر بڑی دبدھا یہ تھی کہ فردوس شادی شدہ تھیں اس لیے اعجاز کی دال نہیں گلتی تھی۔ پھر اس دال کو تڑکا یوں لگا بلکہ یوں کہیے کہ بلی کے بھاگوں چھینکا پھوٹا کہ فردوس کے پرانے شوہرِ بےنامدار 1967 کو زندگی کی شطرنج ہار کر اعجاز کے لیے بساط صاف کر گئے۔

جلد ہی اعجاز نے ہیر رانجھا، بنانے کا منصوبہ بنا لیا۔ ہیر(وئن) کے لیے قدرتی انتخاب پنجابی مٹیار کی منھ بولتی تصویر لمبی تڑنگی پینو لمبو ٹھہریں۔ بلکہ اعجاز تو کیا، اگر وارث شاہ بھی دیکھتے تو کہتے اگر فردوس بر روئے زمیں است۔۔ میرا مطلب ہے، اگر تو ہیر بر روئے زمیں است۔۔ ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است!

لیکن فردوس کے انتخاب کے پیچھے اعجاز کے فنی ہی نہیں، کچھ قلبی کمالات بھی روبہ عمل تھے اور نتیجہ یہ نکلا کہ فلمبندی کے دوران دونوں کے لاڈ پیار کی پینگ کے لارے آسمان کی خبر لانے لگے، عشق کی ونجھلی کی مٹھڑی تان سٹوڈیو سے نکل کر لاہور بھر میں پھیلتے پھیلتے میڈم کے کانوں تک جا پہنچی۔

آپ سوچیے، میڈم جیسی دبنگ، ہٹیلی عورت، جن کے دبدبے کے سامنے نخریلے پروڈیوسر تھرتھر کانپتے تھے، ان کی انا کو کیسی چکناچور چوٹ پہنچی ہوگی۔ لیکن کیا کر سکتی تھیں، انہوں نے وہی کیا جو ان کے بس میں تھا، ایک دھمکی: میں فردوس کے لیے کوئی گیت نہیں گاؤں گی۔۔

عام طور پر یہ دھمکی لاہور کی فلمی سٹوڈیوز میں آندھیاں چلا دیتی تھی کیوں کہ میڈم کی آواز فلم کی کامیابی کی علامت و ضمانت ہوا کرتی تھی۔

ہیر رانجھا، کی موسیقی خواجہ خورشید انور ترتیب دے رہے تھے اور خود پر سے یہ داغ مٹانے کے لیے تن من سے جٹے تھے کہ پنجابی ہونے کے باوجود انہوں نے 1941 کی کڑمائی، کے بعد سے کبھی کسی پنجابی فلم کے لیے موسیقی نہیں دی تھی اور ان پر انگلی اٹھائی جاتی تھی کہ ان کی دھنوں میں پنجابی بو باس نہیں ہے۔ گیت احمد راہی لکھ رہے تھے جن کے بولوں میں صدیوں کی لوک دانش کی بو باس تو کیا، مٹھاس بولتی تھی۔ بس کمی تھی تو میڈم کی آواز کی۔ آخر فردوس کے گیتوں کے لیے مالا کو چنا گیا اور انہوں نے ریہرسل بھی شروع کر دی (کہا جاتا ہے کہ مالا نے میڈم سے احتیاطاً اجازت بھی لے لی تھی تاکہ بعد میں میڈم کے غیظ سے بچ سکیں)۔

اب معلوم نہیں کسی نے میڈم کو جا کر گیتوں کی دھن سنا دی یا پھر میڈم کے زیرک دماغ نے خود ہی اندازہ لگا لیا کہ ان گیتوں سے محروم ہونا فردوس سے زیادہ خود ان کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ جس دن ایورنیو سٹوڈیو میں ہیر رانجھا کے پہلے گیت کی ریکارڈنگ شروع ہونے لگی، خورشید انور، سازندے، مالا، ریکارڈنگ عملہ سب تیار تھے کہ اچانک سٹوڈیو کا دروازہ کھلا اور میڈم کی دبنگ انٹری ہوئی۔ سب کی اوپر کی سانسیں اور دھڑکنیں بند رہ گئیں کہ میڈم جانے کیا غدر مچائیں۔ لیکن میڈم نے بلند آواز سے کہا، خواجہ صاحب، ہیر رانجھا کے گانے میں گا رہی ہوں۔۔

میڈم نے ہیر رانجھا کے گیت گائے اور اتنے ڈوب کر گائے کہ فلم کو امر کر دیا، خود تو ویسے بھی امر تھیں۔

یہ میڈم کی زندگی کی سب سے بڑی ہار اور سب سے بڑی جیت تھی۔

میڈم کے دل کو بڑی گہری چوٹ لگی تھی۔ ہتھیلی کے چھالے نے ان کا دل لہولہان کر دیا تھا، فردوس کے سوکناپے نے ان کے تن بدن میں آگ لگا دی تھی، مگر میڈم عورت بعد میں اور فنکارہ پہلے تھیں، انہوں نے محسوس کر لیا تھا کہ ان کے بغیر ہیر رانجھا اور ہیر رانجھا، کے گیتوں بغیر وہ ادھوری ہیں، اس لیے انہوں نے پتہ مار کر اپنی فطرت کو شکست دی اور اپنی انا کو فن کی دیوی کے قدموں پر قربان کر دیا۔

Check Also

Jab Madam Noor Jahan Ne Fitrat Ko Shikast De Kar Fan Ki Laj Rakh Li

By Zafar Syed