Hamri Ghazal He Tasavur Tumhara
ہماری غزل ہے تصور تمہارا

لاکھوں کروڑوں درود و سلام آپ سرکار ﷺ کی ذاتِ اقدس پر۔
تصور ایک حقیقت ہے کوئی بھی عمل کرنے سے پہلے خیال عطا ہوتا ہے اور اِس خیال کے تحت ہی عمل وجود میں آتا ہے۔ کہتے ہیں کہ پہلا خیال اللہ تبارک و تعالی کی طرف سے ہوتا ہے، کیونکہ خیال ہی وہ آپریٹنگ سسٹم ہے جس سے قدرت مخلوقات کو عملی اقدامات کی طرف رجوع کرواتی ہے۔
یہ سوچ کہ خیال قدرت کا عطا کردہ ہے یا نہیں بزرگوں نے اِس کا طریقہ یہ بتایا ہے کہ اگر تو خیال خیر کی طرف سفر کرنے میں مددگار ہے تو پھر وہ مالک کائنات کی طرف سے ہے اور اگر وہ شر کی طرف مائل کرتا ہے تو پھر وہ نفس کی طرف سے ہے۔ اِس بات کا خصوصی خیال رہے کہ اپنے خیال کو پاک اور پاکیزہ رکھا جائے۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب خیال کسی آفاقی خیال کے تحت ہو جائے یعنی کہ محبوب کی طرف خیال کی رغبت ہو جائے۔
اگر ایسا مقام نصیب ہو جائے تو پھر اِس کے بعد جو بھی خیالات ہیں اِس بڑے خیال کے تابع ہی ہوں گے اور خیر ہی خیر ہے، کچھ لوگ پوچھتے ہیں جی یہ خیال کیسے عطا ہوگا تو اس کے لیے کچھ کام اپنے باطن پر کرنا پڑے گا دنیا سے رغبت کم کرنی پڑے گی، جو اللہ تبارک و تعالی کے ارشادات ہیں، احکامات ہیں ان کی طرف سفر شروع کرنا پڑے گا۔
کہنے میں یہ کام ذرا مشکل لگتا ہے لیکن اتنا مشکل کام نہیں ہے، پہلے درجے میں ذہنی طور پر یہ باتیں قبول کرنا ضروری ہیں، ذہن سے دنیا کو نکالنے کی ضرورت ہے۔ پھر آہستہ آہستہ چھوٹے چھوٹے قدموں کے ساتھ اُس منزل کی طرف سفر شروع ہو جاتا ہے جس کے لیے ہمیں پیدا فرمایا گیا ہے۔
میں بہت بار لکھ چکا ہوں اور عرض بھی کر چکا ہوں کہ دولت سے محبت کم کرنی پڑے گی، وجود کی لذت شریعت کے تابع کرنی پڑے گی، معاف کر دیں معافی مانگ لیں یہ وہ بنیادی اقدامات ہیں جو کہ آفاقی خیال عطا ہونے میں مددگار ہیں۔
سب سے پہلے ذہن یہ بات قبول کرتا ہے اور ذہنی طور پر یہ معاملات چھوٹ جاتے ہیں، پھر اللہ تبارک و تعالی توفیق دیں تو انسان سوچتا ہے کہ کیوں نہ اِس سوچ کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ محبوب کا خیال عطا ہونے کے بعد مشاہدات کا عمل شروع ہوتا ہے۔ محبوب ہی محب کو کنٹرول کرتا ہے۔ سرکار سلطان باہوؒ فرماتے ہیں کہ مرشد کا خیال عطا ہو جائے تو انسان مرشد جیسا ہی ہو جاتا ہے۔ تصوف میں یہ بات عام ہے کہ مرشد کا رنگ چڑھ جاتا ہے۔
رانجھا رانجھا کرتے ہوئے ہیر خود رانجھا ہو جاتی ہے۔ تو سارے معجزات سارے مشاہدات محبوب کے دم سے ہیں۔
انہی محبتوں کا فیض ہے کہ یہ سفر شروع ہوتا ہے اور موت کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔ کیونکہ لامحدود کا مشاہدہ لامحدود ہے یہ سفر ہی سفر ہے۔
محب کو محبوب کے پیغامات آتے ہیں کیونکہ محبت نام ہی رابطے کا ہے یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ آپ کو محبت عطا ہو چکی ہو اور آپ کا رابطہ محبوب سے نہ ہو اسی لیے سرکار ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا صحابہ کرام سے کہ قرنِ قبیلے سے ایک شخص ہوگا جس کا نام اویس ہوگا آپ لوگ اُن سے دعا کروانا سرکار ﷺ کی ملاقات حضرت اویس قرنیؒ سے نہیں تھی، لیکن محبت یہ فاصلے عبور کر لیتی ہے آپ نے یہ بھی فرمایا تھا حضرت اویس قرنیؒ بیماری سے شفا پائیں گے اور بیماری کے باعث اُن کی پشت پر ایک سکے کے برابر نشان رہ جائے گا۔
تو عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ محبت آپ کو کیا سے کیا بنا جاتی ہے۔ دعا کریں کہ محبتیں عطا ہو جائیں اور محبوب کا سفر نصیب ہو انتظار نصیب ہو، دنیا میں انتظار ہے اور موت کے بعد دیدار ہے، انتظار والے ہی دیدار والے ہیں اور راز یہ ہے کہ محبوب خود بھی انتظار میں شامل ہوتا ہے، انتظار حصہ ہے محبوب کا-
اُن لوگوں کو بہت مبارک جن کو انتظار نصیب ہو چکا۔ تڑپ نصیب ہو چکی۔ اللہ پاک آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔

