Kya Naye Talaba Computer Science Mein Dakhla Na Lein?
کیا نئے طلبہ کمپیوٹر سائنس میں داخلے نہ لیں؟

امریکا میں حالیہ برسوں میں بڑے اداروں سے ہزاروں افراد کی ملازمتیں ختم ہوئی ہیں اور یہ خیال عام ہوا ہے کہ اے آئی کے ظہور کے بعد زیادہ کمپیوٹر گریجویٹس کی ضرورت نہیں۔ اس خدشے پر یونیورسٹیوں میں کمپیوٹر کی ڈگریوں میں داخلے کم ہوگئے ہیں۔ لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ کمپیوٹنگ کی نوکریاں ختم نہیں ہورہیں، ان کی نوعیت بدل رہی ہے۔
یہ بات درست ہے کہ چیٹ جی پی ٹی، کلاڈ اور کو پائلٹ جیسے اے آئی ٹولز ایپس کے کوڈ لکھ سکتے ہیں اور ان سے فائدہ اٹھایا جارہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اے آئی وہ کام کرلیتی ہے جو پہلے جونیئر پروگرامرز کے سپرد ہوتے تھے۔ انتھروپک کے شریک بانی جیک کلارک کے مطابق کمپنی کے نئے کوڈ کا تقریباً نوے فیصد حصہ اے آئی کے ذریعے تیار ہورہا ہے۔ اس سے کمپنیوں کو کم تجربہ رکھنے والے پروگرامرز کی ضرورت نسبتاً کم محسوس ہونے لگی ہے۔
امریکا میں حالیہ اعداد و شمار نے بھی طلبہ کو پریشان کیا ہے۔ دی اٹلانٹک میگزین کے مطابق کمپیوٹر سائنس کے نئے گریجویٹس میں بیروزگاری کی شرح کئی دوسرے شعبوں سے زیادہ دیکھی جارہی ہے۔ اس خدشے پر انڈرگریجویٹ سطح پر داخلوں میں آٹھ فیصد اوور گریجویٹ سطح پر چودہ فیصد تک کمی ہوئی ہے۔
لیکن تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ مشی گن ٹیک کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق کمپیوٹنگ کی نوکریاں ختم نہیں ہورہیں بلکہ ان کی نوعیت بدل رہی ہے۔ اے آئی بنیادی اور دوہرائے جانے والے کاموں کو خودکار بناسکتی ہے، لیکن انسانی نگرانی، تخلیقی صلاحیت، مسئلہ حل کرنے کی اہلیت اور اخلاقی فیصلے اب بھی انسان کے ہاتھ میں ہیں۔ بنیادی اے آئی لٹریسی اب ہر کمپیوٹنگ پروفیشن کے لیے ضروری بن چکی ہے۔ یونیورسٹیوں، صنعتوں اور تحقیقی اداروں میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ جس قدر اے آئی ترقی کررہی ہے، اتنی ہی زیادہ ضرورت ان لوگوں کی ہوگی جو کمپیوٹر سسٹمز، الگورتھمز اور ٹیکنالوجی کی بنیادی سمجھ رکھتے ہوں گے۔
اے آئی کے پھیلاؤ نے کمپیوٹر سائنس کو صرف ٹیک کمپنیوں تک محدود نہیں رکھا۔ اب صحت، مالیات، دفاع، ماحولیات اور توانائی کے شعبوں میں بھی اے آئی ماہرین کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ ان میں ہائبرڈ یعنی ایسے شعبے شامل ہیں جہاں کمپیوٹنگ کسی دوسرے شعبے کے ساتھ مل جاتی ہے۔ مثال کے طور پر اے آئی ہیلتھ کئیر ٹیکنیشن، کلائمیٹ ڈیٹا سائنٹسٹ اور اسمارٹ گرڈ اے آئی انجینئر جیسے نئے پیشے سامنے آرہے ہیں۔ اے آئی ایتھکس، اے آئی گورننس، سائبر سیکورٹی، ہیومن کمپیوٹر انٹرایکشن اور ایکسپلین ایبل اے آئی جیسے نئے شعبے پیدا ہورہے ہیں۔
اسی لیے بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اے آئی دراصل کمپیوٹر سائنس کی اہمیت بڑھارہی ہے۔ اٹلانٹک کے مطابق جتنا زیادہ دنیا اے آئی پر انحصار کرے گی، اتنی ہی زیادہ ضرورت ان لوگوں کی ہوگی جو کمپیوٹر سسٹمز کو گہرائی سے سمجھتے ہوں۔ مڈ کرئیر اور سینئر انجینئرز کی طلب اب بھی زیادہ ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ یونیورسٹیاں اپنے نصاب کو کتنی تیزی سے بدل سکتی ہیں۔
اس بحث نے تعلیمی دنیا کو بھی تقسیم کیا ہے۔ بعض پروفیسرز طلبہ کو اے آئی ٹولز استعمال کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں، جبکہ کچھ اس کے برعکس دوبارہ ہاتھ سے کوڈ لکھنے کی تعلیم کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ بارڈ کالج کی پروفیسر ویلیری بار کے مطابق اگر طلبہ بنیادی پروگرامنگ اصول نہیں سیکھیں گے تو وہ اے آئی ٹولز کو مؤثر انداز میں استعمال نہیں کرسکیں گے۔ جیسے کیلکولیٹر استعمال کرنے سے پہلے ریاضی کے بنیادی اصول سیکھنا ضروری ہے، اسی طرح اے آئی سے فائدہ اٹھانے کے لیے پروگرامنگ کی بنیادی سمجھ ناگزیر ہے۔
معاشی اعتبار سے بھی یہ شعبہ بدستور پرکشش ہے۔ اے آئی انجینئرز، مشین لرننگ انجینئرز اور این ایل پی انجینئرز کی سالانہ آمدنی ایک لاکھ ڈالر سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔ بعض شعبوں میں تنخواہیں ڈیڑھ لاکھ ڈالر سالانہ سے بھی تجاوز کررہی ہیں۔
اس کے باوجود شاید سب سے اہم سوال یہ ہے کہ مستقبل کا کمپیوٹر سائنس دان کیسا ہوگا؟ اٹلانٹک کے مطابق آنے والے برسوں میں کمپیوٹر سائنس دو مختلف راستوں میں تقسیم ہوسکتی ہے۔ ایک طرف وہ ماہرین ہوں گے جو اے آئی ریسرچ، مشین لرننگ اور کمپیوٹیشن تھیوری میں مہارت رکھتے ہوں گے۔ دوسری طرف ایسے طلبہ ہوں گے جو اے آئی ٹولز کی مدد سے سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ سیکھیں گے، چاہے وہ روایتی پروگرامرز نہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ماہرین اب بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ کمپیوٹر سائنس پڑھنے کا شاید بہترین وقت یہی ہے۔

