Mexico: Tehzeeb, Barood Aur Drug Mafias Ki Sarzameen
میکسیکو: تہذیب، بارود اور ڈرگ مافیاز کی سرزمین

دنیا کے نقشے پر کچھ ملک ایسے ہوتے ہیں جو صرف جغرافیہ نہیں ہوتے، وہ ایک مکمل کہانی ہوتے ہیں۔ ایسی کہانی جس میں تہذیب بھی ہوتی ہے، خون بھی، انقلاب بھی، غربت بھی، دولت بھی اور خوف بھی۔ میکسیکو بھی ایسا ہی ملک ہے۔
یہ وہ سرزمین ہے جہاں ہزاروں سال پہلے عظیم تہذیبیں آباد تھیں، جہاں ہسپانوی فاتحین سونا لوٹنے آئے، جہاں انقلاب برپا ہوئے، جہاں امریکہ نے زمینیں چھینیں اور جہاں آج بھی حکومت سے زیادہ خوف بعض اوقات ڈرگ کارٹلز کا ہوتا ہے۔
آپ اگر آج میکسیکو جائیں تو وہاں آپ کو دو الگ دنیائیں نظر آئیں گی۔ ایک دنیا سیاحوں کی ہے۔ خوبصورت ساحل، قدیم اہرام، موسیقی، فٹبال، خوش مزاج لوگ، رنگ برنگی ثقافت اور تاریخی عمارتیں اور دوسری دنیا وہ ہے جس کے پیچھے بارود کی بو ہے۔ اغوا، منشیات، مسلح گینگز، خفیہ سرنگیں، خون آلود سڑکیں اور وہ ڈرگ لارڈز جن کے نام سے پورا پورا شہر کانپ جاتا ہے۔
میکسیکو دنیا کے قدیم ترین خطوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں انسانی آبادیاں ہزاروں سال پہلے موجود تھیں۔ پھر یہاں اولمک، مایا اور ایزٹیک جیسی عظیم تہذیبیں پیدا ہوئیں۔ مایا تہذیب نے فلکیات، ریاضی اور تعمیرات میں حیران کن ترقی کی۔ ان کے بنائے ہوئے اہرام آج بھی دنیا کو حیران کرتے ہیں۔ پھر ایزٹیک سلطنت ابھری جس کا دارالحکومت ٹینوچٹٹلان تھا، وہی شہر جو آج میکسیکو سٹی کہلاتا ہے۔
پندرھویں صدی میں یورپ سے ہسپانوی فاتحین یہاں پہنچے۔ 1519ء میں ہسپانوی جرنیل ہرنان کورٹیس میکسیکو آیا۔ اس کے ساتھ چند سو سپاہی تھے لیکن ان کے پاس بارود، گھوڑے اور جدید ہتھیار تھے۔ انہوں نے مقامی قبائل کی دشمنیوں سے فائدہ اٹھایا اور آخرکار عظیم ایزٹیک سلطنت کو شکست دے دی۔ یوں میکسیکو تقریباً تین سو سال تک ہسپانوی سلطنت کے قبضے میں رہا۔ اس دوران یہاں کے سونے، چاندی اور وسائل کو بے رحمی سے یورپ منتقل کیا گیا۔
1821ء میں میکسیکو نے اسپین سے آزادی حاصل کی۔ لیکن آزادی کے بعد بھی سکون نہ آیا۔ بغاوتیں، خانہ جنگیاں اور فوجی حکومتیں شروع ہوگئیں۔ پھر ایک وقت ایسا آیا جب امریکہ اور میکسیکو کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔
1846ء سے 1848ء تک ہونے والی اس جنگ میں میکسیکو کو بدترین شکست ہوئی اور اسے اپنی تقریباً آدھی زمین امریکہ کے حوالے کرنا پڑی۔ آج کے امریکی علاقے ٹیکساس، کیلیفورنیا، نیواڈا، یوٹا، ایریزونا اور نیو میکسیکو کبھی میکسیکو کا حصہ تھے۔
آج بھی امریکہ اور میکسیکو کا بارڈر دنیا کے سب سے مشہور بارڈرز میں شمار ہوتا ہے۔ تقریباً 3,145 کلومیٹر لمبی یہ سرحد صرف دو ملکوں کو جدا نہیں کرتی بلکہ دو الگ معاشی دنیاؤں کو بھی تقسیم کرتی ہے۔ ایک طرف دنیا کی سب سے بڑی معیشت امریکہ اور دوسری طرف غربت، بے روزگاری اور جرائم سے لڑتا ہوا میکسیکو۔
ہر سال لاکھوں میکسیکن بہتر زندگی کی تلاش میں امریکہ جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی بارڈر بعد میں دنیا کی سب سے بڑی ڈرگ اسمگلنگ لائن بھی بن گیا۔
میکسیکو کے ڈرگ کارٹلز نے اس سرحد کو سونے کی کان بنا دیا۔ جنوبی امریکہ سے آنے والی کوکین، ہیروئن، فینٹانائل اور دیگر منشیات میکسیکو پہنچتیں اور پھر خفیہ راستوں، سرنگوں، ٹرکوں اور کشتیوں کے ذریعے امریکہ منتقل کی جاتیں۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ ڈرگ ہوتی کیا ہے؟ ڈرگ یا منشیات وہ کیمیکل یا پودوں سے حاصل ہونے والی اشیاء ہیں جو انسانی دماغ اور جسم پر اثر ڈالتی ہیں۔ مثلاً ہیروئن پوست سے بنتی ہے، کوکین کوکا نامی پودے سے تیار ہوتی ہے جبکہ فینٹانائل ایک مصنوعی کیمیکل ڈرگ ہے جو لیبارٹریوں میں تیار کی جاتی ہے۔
آج دنیا میں سب سے خطرناک ڈرگ فینٹانائل سمجھی جاتی ہے کیونکہ اس کی معمولی مقدار بھی انسان کو مار سکتی ہے۔ میکسیکو خود کوکین زیادہ پیدا نہیں کرتا کیونکہ کوکا کے پودے زیادہ تر کولمبیا، پیرو اور بولیویا میں اگتے ہیں۔ لیکن میکسیکو دنیا کا سب سے بڑا "ٹرانزٹ حب" بن چکا ہے۔ یعنی ڈرگز یہاں سے گزر کر امریکہ پہنچتی ہیں۔
اس کے علاوہ میکسیکو میں میتھ ایمفیٹامین اور فینٹانائل جیسی مصنوعی منشیات کی خفیہ فیکٹریاں بھی موجود ہیں۔ جنگلات، پہاڑوں اور دور دراز دیہات میں لیبارٹریاں بنائی جاتی ہیں جہاں سینکڑوں لوگ اس کام میں لگے ہوتے ہیں اور پھر یہاں جنم لیتے ہیں "ڈرگ کارٹلز"۔
کارٹل دراصل ایک منظم مجرمانہ نیٹ ورک ہوتا ہے۔ ان کے پاس اپنی فوج، جدید اسلحہ، خفیہ ایجنسیاں، مخبر، سیاست دان، پولیس افسران اور اربوں ڈالر ہوتے ہیں۔ میکسیکو میں سینالوا کارٹل، جالسکو نیو جنریشن کارٹل، لاس زیٹاس اور گلف کارٹل جیسے خطرناک گروہ موجود رہے ہیں۔ ان کارٹلز کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ بعض علاقوں میں لوگ پولیس سے زیادہ کارٹل کے احکامات مانتے ہیں۔
کئی شہروں میں کارٹل اپنے چیک پوسٹ بنا لیتے ہیں۔ وہ ٹیکس وصول کرتے ہیں، کاروبار کنٹرول کرتے ہیں، حتیٰ کہ بعض جگہوں پر وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ شہر میں کون زندہ رہے گا اور کون نہیں۔
دنیا کا بدنام ترین ڈرگ لارڈ خواکین "ایل چاپو" گزمین بھی میکسیکو ہی سے تھا۔ اس شخص نے غربت سے اٹھ کر اربوں ڈالر کی سلطنت قائم کی۔ اس کے کارٹل کی اتنی طاقت تھی کہ وہ ہوائی جہازوں، آبدوزوں اور خفیہ سرنگوں کے ذریعے ڈرگز امریکہ پہنچاتا تھا۔
ایک وقت ایسا آیا کہ فوربز میگزین نے اسے دنیا کے طاقتور ترین افراد کی فہرست میں شامل کر لیا۔ 2015ء میں ایل چاپو جیل سے فرار ہوا تو پوری دنیا حیران رہ گئی۔ اس نے جیل کے نیچے تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر لمبی سرنگ بنوا رکھی تھی۔ موٹر سائیکل پٹری پر رکھی گئی، سرنگ کے ذریعے وہ غائب ہوگیا اور میکسیکو کی حکومت مذاق بن کر رہ گئی۔
میکسیکو میں ڈرگ کارٹلز صرف اسمگلنگ نہیں کرتے، وہ سیاست پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ انتخابات میں امیدواروں کو دھمکیاں دی جاتی ہیں، جج قتل کیے جاتے ہیں، صحافی اغوا ہوتے ہیں اور پولیس افسر خرید لیے جاتے ہیں۔ بعض علاقوں میں اگر کوئی میئر کارٹل کے خلاف کھڑا ہو جائے تو وہ چند دن سے زیادہ زندہ نہیں رہتا۔
کئی مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ کارٹلز نے پورے شہروں کو یرغمال بنا لیا۔ 2019ء میں جب میکسیکو کی فوج نے ایل چاپو کے بیٹے اوویڈیو گزمین لوپیز کو گرفتار کیا تو سینالوا کارٹل کے سینکڑوں مسلح افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ انہوں نے فوجی گاڑیوں پر حملے کیے، شہر میں آگ لگا دی، راستے بند کر دیے اور حکومت کو مجبور کر دیا کہ گرفتار ملزم کو چھوڑ دے۔ سوچیں، ایک ایسا ملک جہاں ریاست کو مسلح مجرموں کے سامنے جھکنا پڑ جائے۔
بعض اوقات لوگ سوال کرتے ہیں کہ آخر میکسیکو کی حکومت ان کارٹلز کو ختم کیوں نہیں کر دیتی؟ اس کی وجہ صرف اسلحہ نہیں بلکہ پیسہ ہے۔ ڈرگ انڈسٹری اربوں ڈالر کماتی ہے۔ یہ پیسہ سیاست دانوں، پولیس، فوج اور کاروباری شخصیات تک پہنچتا ہے۔ جہاں غربت ہو، بے روزگاری ہو اور نوجوانوں کے پاس مواقع نہ ہوں وہاں کارٹلز آسانی سے نئی فوج بھرتی کر لیتے ہیں۔
لیکن میکسیکو صرف جرائم کا نام نہیں۔ یہ لاطینی امریکہ کی بڑی معیشتوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں گاڑیاں بنتی ہیں، تیل نکلتا ہے، زراعت ہوتی ہے، سیاحت سے اربوں ڈالر آتے ہیں اور امریکہ کے ساتھ تجارت اس کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ دنیا کی کئی بڑی کمپنیاں اپنی فیکٹریاں میکسیکو میں قائم کر چکی ہیں کیونکہ وہاں مزدوری نسبتاً سستی ہے۔
میکسیکو کی ثقافت بھی انتہائی طاقتور ہے۔ وہاں کی موسیقی، کھانے، تہوار اور فلمیں پوری دنیا میں مشہور ہیں۔ میکسیکن لوگ زندہ دل سمجھے جاتے ہیں۔ وہ غربت میں بھی جشن منا لیتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اتنی خونریزی اور جرائم کے باوجود یہ ملک اب بھی کھڑا ہے۔ لیکن اگر آپ میکسیکو کی کہانی کو ایک جملے میں سمجھنا چاہتے ہیں تو یوں سمجھ لیجیے: یہ ایک ایسا ملک ہے جو صدیوں سے دو جنگیں لڑ رہا ہے۔ ایک جنگ غربت کے خلاف اور دوسری جنگ منشیات کے ان بادشاہوں کے خلاف جنہوں نے دولت کو بندوق کے ساتھ ملا کر ریاست کے اندر ریاست بنا لی۔
دنیا بدل رہی ہے، ٹیکنالوجی بدل رہی ہے، حکومتیں بدل رہی ہیں لیکن میکسیکو آج بھی اس سوال سے لڑ رہا ہے کہ آخر طاقتور کون ہے؟ حکومت، یا ڈرگ کارٹل؟ اور شاید یہی سوال میکسیکو کی اصل کہانی ہے۔

