Tuesday, 26 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Ammar Riaz Chohan
  4. Eentain Nahi, Balkay Kitabein

Eentain Nahi, Balkay Kitabein

اینٹیں نہیں، بلکہ کتابیں

آخر کیا وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں معصوم بچے، جن کے ہاتھوں میں کتابیں ہونی چاہیں تھیں، اینٹیں اٹھانے اور کام کرنے پر مجبور ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ ایک بچہ جس کی عمر ابھی 13سے 14 سال کے لگ بھگ ہی ہے، وہ اپنی ماں کی ممتا چھوڑ کر کوسوں دور مزدوی کرنے پر مجبور ہے؟ یہ سوالات صرف ایک فرد کے نہیں بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والے سوالات ہیں۔ اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو ہمیں ہر گلی، ہر بازار اور ہر چوک پر ایسے بچے نظر آئیں گے، جو اپنی عمر سے کہیں زیادہ بوجھ اٹھائے ہوئے ہوں گے۔

جہاں غربت بچوں سے کام کروانے پر مجبور کرتی ہے تو وہیں ایسی اور بھی بہت سی وجوہات ہیں، جو اس مسئلے کی نزکت میں مزید اضافہ کردیتی ہیں۔ جن میں بے روزگاری، تعلیم کی کمی، بڑھتی ہوئی آبادی اور سستی مزدوری شامل ہے۔ بین الاقوامی ادارہ محنت (ILO)کی ایک رپوٹ کے مطابق دنیا بھر میں تقربیاً 16 کروڑ کے لگ بھگ بچے اپنا بچپن قربان کرنے پر مجبور ہیں۔ جبکہ پاکستان میں یہ تعداد ایک کروڑ سے بھی تجاوز کرچکی ہے۔ یہ المیہ ہماری معاشرتی بے حسی اور اخلاقی زوال کی دردناک تصویر بن چکا ہے۔ معصوم بچوں سے مشقت لینا در حقیقت انسانیت، انصاف اور معاشرتی اقدار کی شکست کے مترادف ہے۔

حکومت پاکستان بھی اس مسئلے کے حل کے لیے اقدامات کرتی آرہی ہے اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 11(3) کے تحت بچوں سے جبری مشقت لینے کو ممنوع قرار دیتا ہےاور آرٹیکل A-25 کے مطابق بھی 5 سے 16 سال کی عمر کے بچوں کے لیے تعلیم لازمی قرار دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایسی بہت سی تنظیمیں ہیں، جو اس مسئلے کے حل کے لیے اقدامات کررہی ہیں۔ اگرچہ دنیا بھر میں بچوں سے مشقت کے خاتمے کے لیے مختلف اقدامات کیے جارہے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدامات کافی ہیں؟ جواب آتا ہے بدقسمتی سے، تمام تر کوششوں اور اِن قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے یہ مسئلہ آج بھی جوں کا توں ہے۔ المیہ تو یہ کہ جب بھی اس طرح کا کوئی مسئلہ ہوتا ہے تو اس کے حل کے لیے حکومت پر انحصار کرلیا جاتا ہےاور خود سے یہ کہے کر بَری ذمہ ہوجایا جاتا ہے کہ بھلا ہم کیا کرسکتے ہیں؟

اگر ہم واقعی اس مسئلے کا حل چاہتے ہیں تو ہمیں صرف حکومت پر انحصار کرنے کے بجائے خود اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے اور معاشرے میں اس مسئلے کی نزکت کو سمجھتے ہوئے احساس کا شعور پیدا کرنے اور تعلیم کو فروغ دینے کے لیے بھی عملی اقدامات کرنے چاہیں۔ تاکہ آنے والی نسل کے ہاتھوں میں اینٹیں نہیں، بلکہ کتابیں ہوں۔

جب تک ہم بطور ذمہ دار شہری معاشرے کے بچوں کو مزدور کے بجائے طالب علم نہیں سمجھیں گے، تب تک ترقی کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔ جتنا ہم اپنے بچوں کی تعلیم، ان کی تربیت اور زندگیوں کے بارے میں محتاط اور ہوشیار ہوتے ہیں، اتنا ہی معاشرے میں موجود بچوں کے بارے میں محتاط اور ہوشیار ہونا ہوگا۔ ایک مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کا خواب اس وقت پورا ہوگا، جب معاشرے میں موجود بچے محفوظ، تعلیم یافتہ اور باوقار زندگی گزار سکیں گے۔

Check Also

Ibn e Khaldoon: Tareekh, Tehzeeb Aur Insani Urooj o Zawal Ka Nabbaz

By Asif Masood