Sunday, 26 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Tayyab Ilyas
  4. Zindagi Ke 12 Asool

Zindagi Ke 12 Asool

زندگی کے 12 اصول

ایک لکڑی کا پتلا تھا، جس کی ناک ہر جھوٹ پر ذرا اور لمبی ہو جاتی تھی۔ بچپن میں ہم اس کہانی کو مزے لیکر پڑھتے تھے، جیسے یہ صرف بچوں کو بہلانے کے لیے لکھی گئی ہو، مگر عمر کے ساتھ معلوم ہوا کہ پینوکیو دراصل ہم سب کے اندر رہتا ہے۔ ہم سب کے اندر ایک کچا سا وجود ہوتا ہے جو انسان بننا چاہتا ہے، مگر راستے میں میلے لگے ہوتے ہیں، تماشے، لالچ، جھوٹ، سستی، خود ترسی اور وہ سب نرم نرم گڑھے جن میں آدمی راہ چلتے دھنس جاتا ہے۔ اپنی زندگی میں ہم کیسے گڑھوں کو پاٹ سکتے چلیں ان کے لئے دس سبق یا اصول سیکھتے ہیں۔

پہلا سبق یہ ہے کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ۔ خود اعتمادی کی چادر اوڑ لو۔ ڈر ایک فطری عمل ہے مگر آپ کو کمزور نظر نہیں آنا۔ دنیا میں درجہ بندیاں صرف انسانوں میں نہیں، جانوروں میں بھی ہیں۔ مرغیوں کے ڈربے کا عمومی مشاہدہ ہے کہ جو جھکی ہوئی گردن کے ساتھ رہتی ہیں، وہ چونچیں زیادہ کھاتی ہیں اور جو اعتماد کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں، ان کے جسم میں ایسا کیمکل پیدا ہوتا ہے جسے سائنس سیروٹونن کہتی ہے۔ مطلب سادہ ہے، آپ کا اعتماد کے ساتھ بیٹھنا ہی آدھی فتح ہے۔ جو آپ کی باڈی لینگوئج کو پر اعتماد کرکے حاصل کر سکتے ہیں۔

دوسرا اصول کہتا ہے اپنے ساتھ وہی سلوک کرو جو تم کسی عزیز بیمار یا کم زور انسان کے ساتھ کرتے ہو۔ ہم دوسروں کے لیے دوا بھی وقت پر رکھتے ہیں، دعا بھی، مگر اپنے زخموں پر کپڑا تک نہیں باندھتے۔ انسان کو خود اپنا نگہبان بننا بھی سیکھنا چاہیے۔ جب تک آپ اپنا خیال نہیں رکھتے دوسروں سے کیسے امید رکھ سکتے ہیں کہ وہ آپ کی مدد کو آئیے گے۔

تیسری بات، ان لوگوں سے بچیں جو آپ کو اندھیرے میں لے جاتے ہیں۔ آپ مشاہدہ کریں بعض اوقات آپ کاا قریبی عزیز یا دوست ہی آپ کی ایسی عادت کا باعث بنتا ہے جو آپ کو زندگی میں زاتی یا عمومی حثیت میں نقصان پہنچا رہی ہو ان سے فوراََ کنارہ کشی اختیار کرلیں۔ آپ کے اردگرد بہت ساری مثالیں موجود ہونگی بہت قیمتی لوگ اپنے دوستوں کی وجہ سے زندگی کی ڈھلان پر قدم بہ قدم نیچے اترتے گئے۔ بعض رفاقتیں دوستی نہیں ہوتیں، آہستہ آہستہ قبر کی طرف لے جانے والی پگڈنڈیاں ہوتی ہیں۔

چوتھا اصول آپ کو بڑی ٹینشنوں سے نجات دے دے گا اپنے آج کا موازنہ کسی اور کے آج سے نہیں، اپنے کل سے کریں۔ محلے، دفتر، خاندان، سوشل دنیا، ہر جگہ مقابلہ ہے، مگر اصل جنگ آدمی کی اپنی پچھلی حالت سے ہوتی ہے۔ اگر آج آپ اپنے کل سے بہتر ہیں تو آپ ہارے نہیں۔ بلکہ جیت رہے ہیں۔

پانچواں اصول والدین کے نام ہے۔ بچوں کو بے لگام آزادی دینا محبت نہیں، غفلت ہے۔ جس بچے کو حد نہ دی جائے، وہ پہلے گھر کا سکون کھاتا ہے، پھر اپنی ہی زندگی خراب کرتا ہے۔ تربیت میں نرمی کے ساتھ دیوار بھی چاہیے، ورنہ باغ کے پودے بکریاں کھا جاتی ہیں۔

چھٹا اصول کہتا ہے دنیا کو کوسنے سے پہلے اپنا کمرہ درست کرو، اپنی ذمہ داری اٹھاؤ۔ برائی صرف ایوانوں میں نہیں، انسان کے اندر بھی پنپتی ہے۔ آدمی جب اپنی بددیانتی سے نظریں چرا کر نظام کو برا کہتا ہے تو یہ آدھا سچ ہوتا ہے۔

ساتواں اصول فوری لذت کو ٹھکرا کر معنی خیز زندگی اختیار کرنا ہے۔ بندر کے ہاتھ میں گلاب کا پھول ہو تو وہ اس کی خوشبو نہیں سونگھتا، اسے نوچ دیتا ہے۔ ہم بھی اکثر یہی کرتے ہیں، لمبے سکون کے بدلے چھوٹی لذت خرید لیتے ہیں اور پھر ساری عمر قسطیں بھرتے رہتے ہیں۔

آٹھواں اصول کہتا ہے جھوٹ بولنا بند کریں، کم از کم ایسا جھوٹ تو ہرگز نہیں جو آپ کو خود اپنے ہی سامنے گرا دے۔ سائیں نطشے نے لکھا تھا آدمی کا سب سے بڑا زوال یہ نہیں کہ لوگ اس پر اعتبار چھوڑ دیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ خود اپنی بات پر یقین نہ کر سکے۔

نواں سبق سقراط کی طرف لے جاتا ہے، اس طرح گفتگو کریں جیسے سامنے والا کچھ ایسا جانتا ہو جو آپ نہیں جانتے۔ سننا، اصل میں، عقل کی عبادت ہے۔ ہم میں سے اکثر جواب دینے کے لیے سنتے ہیں، سمجھنے کے لیے نہیں۔

دسواں اصول زبان کے بارے میں ہے۔ بات واضح کریں۔ دھندلے لفظ اکثر دھندلے ارادوں کے بچے ہوتے ہیں۔ گھر ٹوٹتے بھی اکثر کسی بڑے سانحے سے نہیں، ان ادھورے جملوں سے پھیلنے والے کوڑاکرکٹ سے ہیں، جس کووقت پر صاف نہ کیا جائے۔

آخر میں بات اتنی سی ہے کہ یہ دس اصول کسی واعظ کی چھڑی نہیں، ایک تھکے ہوئے آدمی کے ہاتھ کا سہارا ہیں۔ زندگی کوئی سیدھی سڑک نہیں، گاوں کی پرانی گلی ہے، کہیں اینٹ اکھڑی ہوئی، کہیں پانی کھڑا، کہیں اچانک روشنی۔ اس راستے پر وہی بچتا ہے جو جھوٹ کم بولے، ذمہ داری زیادہ لے، قدموں میں لغزش کم ہو اور خوشی کے چھوٹے چراغ بجھنے نہ دے۔

Check Also

Nathu Khairon Ke Tabsare

By Rauf Klasra