ایران آج پھر ڈٹ گیا

کل تک جس ایران امریکہ بریک تھرو پر ہم بڑے خوش ہو رہے تھے وہ عارضی نکلا۔ پھر پھڈا ہوگیا ہے۔ بتایا جارہا ہے ایران اور امریکہ میں ابھی بھی نیوکلیر ایشو پر مسائل موجود ہیں اور مزاکرات جمود کا شکار ہیں۔ ابھی بہت کچھ سیٹل ہونا باقی ہے۔
خیر یہ حق تو اس ایرانی قوم کو ہے کہ وہ فیصلہ کرے اس نے کون سا روٹ لینا ہے یا فیصلہ کرنا ہے۔ اگرچہ ان کے فیصلوں کا اثر پوری دنیا پر پڑ رہا ہے اور پڑے گا۔
امریکہ سے ہمارے سینئر صحافی دوست انور اقبال اکثر ہمارے پروگرامز میں کہتے ہیں پاکستان میں گھر چائے پیتے ہوئے ایران کی بہادری اور مزاحمت کی تعریف کرنا آسان ہے لیکن جن عام لوگوں پر گزر رہی ہوتی ہے وہ بہتر جانتے ہیں۔
آپ کی قیادت کا ملکوں کو برباد اور بچانے میں بڑا رول ہوتا ہے۔ صرف دو مثالیں دوں گا۔
جنگ عظیم دوم میں جاپان نے پرل ہاربر پر حملے کا فیصلہ کیا۔ کابینہ کے کچھ ارکان خلاف تھے کہ اس سے امریکہ براہ راست جاپان کے ساتھ جنگ میں آجائے گا۔ نقصان ہوگا۔
دوسرے حملے کے حمایتی ارکان نے ان چند وزراء کو بزدل اور وطن دشمن قرار دیا۔
فرمایا ہم سمورائی جنگجو جاپانیوں کی بہادری کی ہزاروں سال کی تاریخ ہے۔ امریکہ کی کیا تاریخ ہے دو ڈھائی سو سال۔ یہ کیا بیچتے ہیں۔ (یہی اب ایران کہہ رہا ہے کہ ہماری پانچ دس ہزار سال پرانی بہادری کی تاریخ ہے، امریکہ کو قائم ہوئے تو ابھی دو ڈھائی سو ہوئے ہیں)۔
خیر جاپانی بادشاہ کو بھی وزیراعظم نے راضی کر لیا۔ پرل ہاربر پر حملہ ہوا۔ تین ہزار امریکن مارے گئے جواباََ انہوں نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم مارے۔ امریکہ نے کہا سرنڈر کریں ورنہ تیسرا ماریں گے۔
ابھی دو لاکھ جاپانی فوج لڑ رہی تھی۔
بادشاہ کو احساس ہوا کہ اس نے ایک پرل ہاربر فیصلے سے کتنی بڑی بربادی کرا لی تھی۔ اسے کچھ وزیروں نے منع بھی کیا تھا لیکن وہ منع کرنے والے غدار اور بزدل قرار پائے۔ ابھی بھی بادشاہ کو کہا گیا دو لاکھ جاپانی لڑے گا۔ بادشاہ نے ریڈیو پر سرنڈر کا اعلان کیا کہ بس کافی ہوگیا۔
اپنی سرخ رنگ کی بادشاہ کے لیے مخصوص شاہی گاڑی نکال کر امریکن سفارت خانے جنرل ڈگلس سے ملنے پہنچ گیا کہ اب مزید اپنے ملک اور لوگوں کو کیسے تباہی سے بچانا ہے۔ وہ کہتے ہیں Rest is history.
اس طرح دو ہزار ایک میں نیویارک میں حملوں بعد اسامہ نے دعوی کیا یہ اس نے کرایا تھا۔ امریکہ نے کہا وہ ہمارے حوالے کر دیں ہم افغانستان پر حملہ نہیں کریں گے۔
افغان نے کہا ہماری پشتون ولی اجازت نہیں دیتی کہ مہمان کو گھر سے نکال دے۔ حملہ ہوا لاکھوں مارے گئے، دربدر ہوئے اور ملا عمر خود موٹر سائیکل پر نکل گئے، عورتیں بچے پاکستان کیمپوں میں رہے اور ابھی بھی جو حالت ہے وہ سامنے ہے۔ امریکن بیس سال تک بعد وہیں موجود رہے۔ ہم یہاں خوش رہے کہ افغان لڑ رہے ہیں۔
جب سب کچھ کر لیا تو مرضی سے دوبارہ انہیں کابل بٹھا گئے کہ پس ماندگی وہیں سے شروع کرو جہاں سے چھوڑ گئے تھے۔ طالبان نے بھی وہیں سے شروع کیا اور اب امریکہ کی بجائے پاکستان نے وہاں بمباری کی ہے اور اب کچھ عرصے سے سکون ہے۔
کسی نے مہمان سے نہ پوچھا کہ تمہارے پیچھے عالمی پولیس (امریکہ) کیوں لگا ہوا ہے۔ تم ہمارے ملک بیٹھ کر دوسرے ملکوں کے شہریوں کو کیوں مرواتے ہو جس کی وجہ سے وہ معصوم افغانوں کو مارنے آرہے ہیں۔ پشتون ولی بھاری پڑھ گئی جس کی قیمت لاکھوں افغانوں نے دی اور اب تک دے بھی رہے ہیں۔
اب ایران بھی اس صورت حال میں ہے کہ وہ مزاکرات سے جو مل رہا ہے وہ ابھی بھی سمجھتا ہے وہ زیادہ لے سکتا ہے۔
پوری دنیا اسے مظلوم سمجھ رہی ہے کہ اس پر حملہ ہوا ہے، معصوم ایرانی لقمہ اجل بنے، لہذا اب وہ اپنے اربوں ڈالرز واپس لے، عالمی پابندیاں ہٹوائے، ایک نارمل ملک بن کر تجارت کرے اور ہمارے جیسوں کو کبھی اپنے ملک دعوت دے جنہیں ایران دیکھنے کا بڑا شوق ہے۔۔
یا پھر نیوکلیر پر وہی سٹانس رکھے جو ملا عمر نے اسامہ پر رکھ لیا تھا۔ یہ طے ہے ایران کو دنیا نیوکلیر آپشن نہیں رکھنے دے گی چاہے یہ بات ہمیں پسند ہے یا نہیں۔۔
ایرانی قیادت کو جاپان کے بادشاہ کی طرح کچھ فیصلے اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کرنے ہوں گے اور مجھے لگ رہا ہے کہ بعض دفعہ انسانی انا ہماری سمجھ بوجھ پر حاوی ہوجاتی ہے۔ ایران کے لیے اچھا موقع ہے کہ وہ پاکستان کی مدد سے امریکہ سے ڈیل کرکے ماضی کو دفن کرکے آگے بڑے۔۔ لیکن بدلتی صورت حال میں یہ ہوتا مجھے لگ نہیں رہا۔
جاپان، افغانستان اور اب ایران میں ایک ہی مشترکہ نام ہے اور وہ ہے امریکہ۔ ضروری نہیں ہوتا اپنا یا ملک کا نقصان کرا کے کڑوا سبق سیکھا جائے۔ سیانے لوگ دوسروں سے بھی سبق سیکھتے ہیں اور خود وہ خطرناک تجربہ کرنے پر نہیں تل جاتے کہ نہیں ہم سنبھال لیں گے۔
ابھی خبر آرہی ہے کہ ایران نے آبنائے ہرموز پھر بند کر دی ہے۔ بہادری اچھی چیز ہے لیکن کسی مرحلے پر خود رک جانا بھی سمجھداری کہلاتی ہے ورنہ بہادری سے بربادی میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔

