Maa Ji Bhi Rana Hain
ماں جی بھی رانا ہیں

دو روز قبل انعام رانا کی والدہ یعنی ماں جی نے مجھے اور بیگم کو دعوت دی۔ ماں جی نے ڈیفنس کلب میں بکنگ کرائی، کہنے لگیں وہاں کھانا ودیا ہوتا ہے۔ عرض کی ماں جی گھر ہی کھا لیتے ہیں تو بولیں جج صاحب (انعام کے والد مرحوم) کی ممبرشپ کا فائدہ؟ ہم دونوں ڈنر پر پہنچ گئے۔ انعام ڈیفنس کلب کے اندر پارکنگ میں اِدھر اُدھر پریشان سا گھومتا ملا۔ میں نے دور سے دیکھ لیا اور سمجھا کہ شاید ہمیں تلاش کر رہا ہے، اسے آواز لگائی "خیر ہے؟ میں اِدھر ہوں"۔ بولا "او ماما میں ماں نوں لبھ ریا، او ہورے کتھے چلے گئے نیں"۔ ماں جی بھی رانا ہیں، زندہ دل خاتون ہیں۔ آپ کو ان سے بزرگوں والی فیلنگ نہیں آئے گی۔ دل سے ابھی بھی پچیس تیس سالہ ہیں۔ لندن میں انعام سے بور ہو کر پاکستان آتی ہیں اور یہاں ڈیڑھ دو ماہ اپنی ہم عمر سہیلیوں کو ملنے ملانے اور کھلانے گھومنے میں مصروف رہتی ہیں۔ ان کا فرمانا ہے کہ اس طرح انسان جوان رہتا ہے۔
میں نے رانا کو کہا "اِدھر ہی ہوں گی کوئی سہیلی مل گئی ہوگی"۔ بولا "آہو، ہو سکدا مگر میں کافی دیر توں لبھ ریا"۔ میں نے لبرٹی لیتے کہا "رانا اچھی بھلی زندہ دل اور خوش شکل ماں اے ساڈی۔ آپ ان کو تھوڑی سپیس دے دیا کریں"۔ رانے نے یہ سُن کر مجھ پر پھٹکار بھیجی اور اسی پھٹکار کے دوران ماں جی اچانک کہیں سے برآمد ہوگئیں اور رانے کے الفاظ سُن کر اسے بولیں "شرم کرو۔ اس کی بیوی ساتھ ہے تم لوگ ہر جگہ ایک جیسے ہی رہتے ہو"۔ انعام نے جواب دیا "امی میں تہانوں دس نئیں سکدا اے جو کہنا چاہ ریا سی"۔ ماں جی بھی رانا ہیں بولیں "مجھے یقین ہے اس نے جو کہا ہوگا ٹھیک کہا ہوگا"۔ بیگم اور انعام کا ہاسا نکل گیا۔ ہم نے سلام لی۔ بیگم کی ان سے پہلی ملاقات تھی۔ انہوں نے بیگم صاحبہ کو پیار دیا۔
ہم اپنی مقرر کردہ ٹیبل پر جا بیٹھے۔ باتیں ہوتی رہیں۔ ماں جی نے بیگم کو کہا "یہ تمہیں تنگ تو نہیں کرتا ناں؟ اس کی کوئی شکایت ہے تو مجھے بتاؤ۔ ویسے تو اچھا ہے"۔ بیگم صاحبہ شرماتے ہوئے بولیں "نہیں نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔ یہ اچھے ہیں"۔ ماں جی نے پھر کہا "فیر وی کڑئیے ڈرن دی کوئی لوڑ نہیں۔ تنگ کردا تے دس"۔ بیگم نے میری جانب ایسی نظروں سے دیکھا جیسے اجازت مانگ رہی ہو کہ بتائیں ان کو بتاؤں؟ میں نے بھی کہہ دیا ہاں ہاں جو شکایت ہو بتاؤ ناں۔ وہ پھر شرما گئی اور بولی "نہیں نہیں۔ ایسی کوئی بات نہیں"۔ انعام اور میں سگریٹ پینے کو وہاں سے اُٹھ کر باہر چلے گئے۔ واپس آ کر ڈنر کیا۔ کافی باتیں کیں اور رات بارہ بجے وہاں سے رخصت ہوئے۔
اگلی رات میں پھر انعام کے گھر گیا۔ ہر رات اس کے گھر ملاقات ہوتی ہے۔ یہ جب پاکستان آئے تو یہی روٹین ہوتی ہے۔ رات آٹھ سے صبح تین چار بجے تک ڈرائینگ روم میں بیٹھ کر سگریٹ نوشی اور اِدھر اُدھر کی ہانک بازی۔ ماں جی ڈرائینگ روم میں آئیں۔ بولیں "ویسے میں نے تمہاری بیگم کو بہت کریدا۔ وہ بہت اچھی لڑکی ہے۔ اس نے تمہاری تعریفیں ہی کی ہیں بس۔ تم شکر کرو ایسی فرماں بردار اور نیک سیرت بیوی ملی ہے۔ میں تو انعام کو بھی یہی کہتی ہوں کہ شکر کیا کرو تم دونوں کو اچھی بیویاں ملیں"۔ میں نے ہنس کے کہا "ماں جی ہم دونوں شکر کرتے ہیں۔ میں تو کبھی کبھی فرطِ جذبات میں شکرانے کے نفل بھی پڑھ لیتا ہوں"۔
انہوں نے پھر مطمئن ہو کر کہا ہاں ٹھیک ہے۔ تم دونوں کو واقعی شکرانے کے نفل پڑھنے چاہئیے۔ میں نے کہا ماں جی انعام کے نہ پڑھنے کی کوئی وجہ ہوگی۔ مجھے تو بیگم کبھی ناراض ہو کر کچھ کہہ بھی دے تو کم از کم مجھے سمجھ آ جاتی ہے لیکن انعام کو بھابھی پولش زبان میں کہتی ہوں گی جو یہ نہیں سمجھ پاتا اور شاید اسی سبب یہ شک میں رہتا ہے کہ لازماً کچھ ایسا کہا ہوگا جو مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ ماں جی کھِلکھِلا کے ہنس پڑیں اور بولیں "آہو انعام، او پولش وچ کدی کدی کج کہندی تے ہے۔ بس مینوں اے یقین اے کہ مینوں نئیں کہندی"۔
میں جب لندن گیا تو ظاہر ہے انعام کے گھر جانا تھا۔ رسمِ دنیا کے مطابق سب کے لیے تحائف لیے اور بھابھی کے متعلق بس اندازہ لگایا کہ خواتین کو پرفیومز پسند ہوتے ہیں ان کے واسطے ایک بہترین قسم کا لیڈیز پرفیوم بھی لے لوں۔ چونکہ پرفیومز کا مجھے خود شوق ہے اور میرے پاس ان کی کافی کولیکشن ہے یعنی میں پرفیومز کے متعلق کافی معلومات رکھتا ہوں۔ اس موضوع پر تین مفصل مضامین لکھ چکا ہوں۔ بس میں نے ایک بہترین پرفیوم لے لیا اور بھابھی کو گفٹ کر دیا۔ بھابھی نے کھولا، ایکدم انگریزی میں پہلا ری ایکشن آیا "اوہ واٹ آ سرپرائز۔ آپ کو کس نے بتایا تھا کہ یہ میرا پسندیدہ ترین پرفیوم ہے؟" پھر انعام کی طرف دیکھ کر بولیں "انعام، یہ وہی ہے جو ہماری شادی کے روز میں نے شادی والے سفید لباس پر لگایا تھا۔ تمہیں یاد ہے وہ خوشبو؟"۔ انعام چونک گیا اور بولا "یس یس، یاد ہے"۔ پھر بھابھی نے میرا بہت شکریہ ادا کیا اور بولیں "آپ کو میری پسند کا کس نے بتایا تھا؟"۔ انعام مرجھایا سا بیٹھا ہوا تھا۔ سچی بات تو یہ ہے میں نے بس اندازہ لگایا تھا۔
لیکن اس وقت میں نے سوچا انعام بھائی کی توقیر میں اضافہ کروا دینا چاہئیے آخر جیسے بھی ہیں بھائی تو ہیں۔ میں نے کہا "بھابھی مجھے بھلا کیسے آپ کی پسند کا معلوم ہوتا؟ انعام سے پوچھا تھا۔ یہ کہنے لگا کہ آپ کو یہ والا پسند ہے۔ آپ نے شادی کے ڈریس پر بھی یہی لگایا تھا اور ساتھ یہ بھی بولا کہ اس کی خوشبو آج تک میں نہیں بھُول پایا"۔ بھابھی کی آنکھیں خوشی سے پھیل گئیں۔ انعام کو پیار سے دیکھ کر بولیں "سچی انعام؟"۔ انعام بھائی جو مرجھائے سے بیٹھے تھے ایکدم سیدھے ہو کر بیٹھے اور بولے "اوہ یس، میں نے اسے کہا تھا"۔ پھر مجھے دیکھ کر بولے "شکریہ مہدی بھائی آپ نے بہت اچھا تحفہ دیا"۔ پھر وقفہ لے کر بولے "یو میڈ مائی ڈے (تم نے میرا دن بنا دیا)"۔ چونکہ بھابھی سامنے تھیں ان کے ہوتے انگریزی میں جواب نہیں دے سکتا تھا اور پنجابی ان کو سمجھ نہیں آتی اس لیے پنجابی میں انہیں کہا "نرا دن؟ مینوں لگ ریا میں تیری رات وی بنا دتی"۔ انعام کرسی سے اُٹھا اور بولا "چل باہر سگریٹ پینے چلیں"۔
باہر نکل کر ہم دونوں ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئے۔ ابھی ایک ماہ قبل ہی انعام کی شادی کی سالگرہ گزری ہے۔ اس دن مجھے کال کرکے بولا "اوئے بتا کونسا پرفیوم اچھا ہے؟ آج میری شادی کی سالگرہ ہے آفس سے گھر جاتے گفٹ لیتا جاؤں"۔ میں نے کہا انعام بھائی Kilian پرفیوم ہاؤس کا Angles Share آنکھیں بند کرکے لے لیں اور 250 ملی لیٹر والی لیجئے گا۔ بولا "سو ملی لیٹر والی کافی ہوگی۔ ڈھائی سو والی کیوں؟" عرض کی کہ بھائی ڈھائی سو ملی لیٹر والی پیکنگ میں خوشبو ذرا الگ سی ہے (حالانکہ ایسا کچھ نہیں ہوتا میں بس انعام کا چسکا لے رہا تھا)۔ انعام سن کے بولا "اچھا؟ یہ سائنس بھی ہوتی ہے؟" اور یقین کر گیا۔ اسے لگا کہ بخاری کہہ رہا ہے تو ٹھیک کہہ رہا ہوگا۔
گھنٹہ گزرا کہ مجھے پھر کال کرنے لگا۔ میں نے فون اٹھایا تو دوسری جانب سے انعام بھائی مجھے پنجابی زبان میں مغلظات بک رہے تھے۔ میرا ہاسا نکل گیا۔ کہہ رہا تھا "سالے، تیری فلاں کی ڈھینگ، پ چ جو پرفیوم تو بتا رہا اس کی سو ملی لیٹر والی بوتل 300 پاؤنڈز کی اور ڈھائی سو ملی لیٹر والی 740 پاؤنڈز کی ہے۔ پ چ میں نے تیرے کہنے پر بڑی والی بوتل پیک کرنے کا کہا۔ جب بل ادا کرنے کو کارڈ نکالا تو معلوم ہوا کہ قیمت تو بہت زیادہ ہے"۔ اس بات کے دوران وہ مجھے کافی نامناسب القابات سے نوازتے رہے۔ میں ہنستا رہا۔ پھر جب خوب برس چکے تو بولے "سالے، میں کینسل کرکے دکان سے شرمندہ سا ہو کر بہانہ بنا کر باہر نکل آیا ہوں۔ بیغیرت آدمی میں نے اس پر ہیپی اینورسری کا کارڈ بھی لگوا لیا تھا۔ اب مجھے صحیح صحیح بتا جو اتنی مہنگی نہ ہو اور کام بھی بن جائے۔ بلآخر ان کو "صحیح صحیح" والی بتائی۔ انہوں نے پھر Gucci Flora لے لی۔
وہ گھر گیا۔ اس نے گفٹ دیا۔ بھابھی کو پسند آیا۔ بھابھی کو اس نے بتایا کہ مہدی چونکہ پرفیومز کے بارے زیادہ جانتا ہے اس کی ریکومنڈیشن پر لی ہے۔ بھابھی بہت خوش تھیں۔ انہوں نے مجھے واٹس ایپ پر شکریہ کا میسج بھیجتے کہا کہ زبردست ریکومنڈیشن ہے۔ جیسے ہی میں نے میسج پڑھا نجانے میرے ذہن میں یہ سگنل کیوں آیا کہ بخاری یہ ان تمام مغلظات کا پے بیک ٹائم ہے جو انعام نے گھنٹہ پہلے تجھے نوازیں ہیں۔ پس، میں نے Angles Share کا معہ قیمت سکرین شاٹ لیا اور بھابھی کو بھیجتے ہوئے لکھا "بھابھی بہت شکریہ۔ پہلی ریکومنڈیشن تو یہ والی تھی لیکن انعام کہنے لگا کہ ابھی اتنی گنجائش نہیں بن رہی"۔ اس کے بعد بس دو نیلے ٹِک آئے، بھابھی کا جواب نہ آیا۔
کچھ دیر گزری ہوگی۔ واٹس ایپ پر رانا کی کال آنے لگی۔ میں نے نہیں اُٹھائی۔ وہ کالز پر کالز کرنے لگا۔ مجھے معلوم تھا کہ رانا میں اس وقت گیس بھری ہوئی ہے۔ چار پانچ کالز کے بعد آخر اس کا دو تین جملوں پر محیط میسج آیا جو یہاں اشاعت کے قابل نہیں۔ رانا ہمیشہ خوش رہے۔ کبھی کبھی مجھے محسوس ہوتا ہے کہ رانے سے قبل میں بس ایک اداس بلا تھا۔ انعام بھائی میری زندگی میں چوہا بن کے آئے۔ اب بہت مزہ آتا ہے۔

