Koi Araha Hai
کوئی آ رہا ہے

بچپن کے دن کیا دن تھے۔ کسی مہمان نے گھر آنا ہوتا تو امی صفائی ستھرائی میں لگ جاتیں۔ مجھے بھی ساتھ لگا لیتیں۔ جیسے ہی خبر ملتی کہ "کوئی آ رہا ہے"، گھر میں ایسی ایمرجنسی نافذ ہو جاتی جیسے اقوامِ متحدہ نے قرارداد پاس کر دی ہو۔ امی کا پہلا وار بیڈ شیٹ پر ہوتا۔ وہ بیچاری جس نے مہینوں ہماری نیندوں کا بوجھ اٹھایا ہوتا، اچانک گندی قرار دے کر ہٹا دی جاتی۔ اس کی جگہ وہ "مہمانوں والی چادر" آتی جسے ہم صرف دیکھ سکتے تھے، استعمال کرنے کی اجازت ویسی ہی تھی جیسے قومی خزانے تک عام آدمی کی رسائی۔
پھر شروع ہوتا صفائی کا آپریشن۔ فرش پر ایسا تیزاب ڈالا جاتا کہ اگر غلطی سے کوئی چیونٹی بھی گزر جائے تو اس کی سات نسلیں سبق سیکھ لیں۔ واش روم ایسے رگڑے جاتے جیسے وہاں مہمان نہیں بلکہ سرجن آپریشن کرنے آ رہے ہوں۔ نئے چمچے، شیشے کے گلاس اور وہ مشہور زمانہ فروٹ والے ڈنر سیٹ الماری سے ایسے نکلتے جیسے کسی شاہی دعوت کا اہتمام ہو۔ سوال پوچھنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ اگر ہمت کرکے پوچھ لیتا "امی کون آ رہا ہے؟" تو جواب ملتا "تم بس کام کرو، زیادہ عقل نہ لڑاؤ۔ " جیسے مہمان کا نام خفیہ ایٹمی کوڈ ہو۔
اعلیٰ افسران بھی اسی کنفیوژن کا شکار ہیں جس کا ہم بچپن میں ہوتے تھے۔ کچھ دیر پہلے سُن گُن لینے کو اسلام آباد میں ایک اعلیٰ افسر سے بات کی تو اندازہ ہوا کہ سب کو بس تیاریوں کا حکم ہے۔ مہمانوں کا کسی کو علم نہیں۔ ایسا نقشہ دیکھ کر وللہ مجھے بچپن کے گھر کا ماحول یاد آ گیا۔ تیاری لگ گئی ہے۔ کون کون آتا ہے اور پھر برآمد کیا ہوتا ہے یہ تو آنے والا وقت بتائے گا۔ البتہ ہم سب پراُمید ہیں کہ اس بار غریدہ فاروقی کو انتظامات سے دور رکھا جائے گا۔ دوسری طرف یوٹیومرز نے بھی تازہ دم ہو کر مائک کیمرے کو ٹاکی شاکی پھیر لی ہے۔ ہم سب اس بابت بھی پراُمید ہیں کہ پاکستانی جھنڈوں کو اس بار اچھے سے استری کرکے لہرایا جائے گا البتہ یوٹیومرز کی تحقیقاتی حِس پر مجھے سو فیصد یقین ہے کہ وہ کوئی نہ کوئی داغ دھبہ ڈھونڈ ہی نکالیں گے۔
جاوید چوہدری صاحب نے تازہ ترین ویلاگ میں اطلاع دے دی ہے کہ ٹرمپ خود آ رہا ہے کیونکہ تیاریاں جس اعلیٰ پائے کی ہو رہی ہیں اس سے یہی ثابت ہوتا ہے۔ یہ منطق ویسی ہی ہے جیسے بچپن میں ہم اندازہ لگاتے تھے کہ اگر مٹھائی اچھی اور مہنگی دکان سے آئی ہے تو مہمان امیر ہوگا۔ جبکہ حسن ایوب کا کہنا ہے کہ جے ڈی وینس نہیں آ رہا اس سے ثابت ہوتا ہے ٹرمپ آئے گا۔ البتہ سید ذیشان عزیز نے ارشاد فرمایا ہے کہ ایرانی صدر مجتبیٰ خامنہ ای کے آنے کا زیرو چانس ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے یہ مذاکرات بھی پہلی بار کی طرح بری طرح ناکام ہو جائیں گے۔ لیکن رانا عظیم کی خبر کے مطابق اسرائیل کا اعلیٰ نمائندہ بھی بھیس بدل کر امریکی وفد کے ہمراہ شریک ہوگا۔
عوام وہ بچے ہیں جو ایک کونے میں کھڑے یہ سب دیکھ رہے ہیں۔ دل میں امید بھی ہے اور تجسس بھی۔ امید یہ کہ اس بار "مہمانوں والا ڈنر سیٹ" واقعی رنگ لائے گا اور تجسس یہ کہ اس سب سے خیر برآمد ہوتی ہے یا خدانخواستہ۔۔

