Sunday, 26 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Abid Mehmood Azaam
  4. Opposition, Media Aur Reham Dil Hukumat

Opposition, Media Aur Reham Dil Hukumat

اپوزیشن، میڈیا اور "رحمدل" حکومت

حکومت نے ایک بار پھر رات کے اندھیرے میں عوام پر "پٹرول بم" گرا دیا اور قیمت میں فی لیٹر 27 روپے کا ہوشربا اضافہ کر دیا، جس کے بعد پٹرول کی قیمت 394 روپے فی لیٹر تک جا پہنچی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ صبح سے مختلف نیوز چینلز کی ویڈیوز گردش کر رہی ہیں جن میں بتایا جارہا کہ "پٹرول کی قیمتوں میں کمی، عوام میں خوشی کی لہر"۔ میں حیران ہوا کہ راتوں رات ہونے والے بڑے اضافے کے بعد صبح سویرے یہ کمی کیسے ہوگئی؟ مگر تفصیلات دیکھیں تو معلوم ہوا کہ حکومت نے مٹی کے تیل کی قیمت میں کمی کی ہے، جبکہ عوام پر گرائے گئے اصل پٹرول بم پر کوئی بات ہی نہیں کر رہا۔

​پٹرول کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی عام آدمی کی کمر توڑ دیتا ہے، مگر یہاں حکومت کو ذرا سا بہانہ چاہیے ہوتا ہے کہ قیمتوں کو آسمان تک پہنچا دے۔ اگرچہ جنگی حالات کے باعث دنیا بھر میں پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوئی ہیں، لیکن پاکستان اس فہرست میں سرفہرست دکھائی دیتا ہے۔ یہاں حکومت کا واحد مقصد عوام کی جیبوں سے پیسہ نکلوانا رہ گیا ہے۔ ایک طرف یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ "دل پر پتھر رکھ کر" قیمتیں بڑھائی گئی ہیں تو دوسری طرف عوام کے ٹیکسوں پر اشرافیہ کی عیاشیاں بدستور جاری ہیں۔

​میڈیا کا کردار بھی افسوسناک حد تک بدل چکا ہے۔ عوام کی آواز بننے کی بجائے میڈیا حکومت کا نمائندہ بنا ہوا ہے۔ میڈیا کا بنیادی فرض پسے ہوئے طبقات کا ساتھ دینا تھا، جو اب کہیں نظر نہیں آتا۔ ​مزید افسوس کی بات کہ اپوزیشن کا وجود بھی اب محض برائے نام رہ گیا ہے۔ ایک مضبوط اپوزیشن کا جو کردار ہونا چاہیے، وہ مفقود ہے۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں عوامی نمائندگی کرنے والے ادارے ہی احتجاج اور مزاحمت کی قیادت کرتے ہیں، مگر یہاں تو مذمت کی ایک رمق بھی سنائی نہیں دیتی۔

ایسا لگتا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنے مفادات اور قیادت کو بچانے تک محدود ہو چکی ہیں اور عوام کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔ اسی خاموشی نے حکومت کو کھلی چھوٹ دے دی ہے، کیونکہ عوام مہنگائی کے بوجھ تلے اتنے دب چکے ہیں کہ احتجاج کی سکت بھی نہیں رہی۔ ​یوں محسوس ہوتا ہے جیسے حکومت، اپوزیشن، میڈیا اور اشرافیہ نے گٹھ جوڑ کر لیا ہو کہ غریب اور متوسط طبقے کو دیوار سے لگا دینا ہے۔ اگر ان کی پالیسی کا مقصد غریب کو ختم کرنا ہے تو پھر سو، دو سو روپے کے اضافے کے بجائے براہِ راست عوام کی رہی سہی سانسیں ہی چھین لینی چاہئیں۔

حکومت گوبر، سورج کی شعاعوں، پانی اور زندگی کی ہر اس سہولت پر ٹیکس لگا چکی ہے جو ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اب شاید صرف "زندگی ٹیکس" اور "سانس لینے پر ٹیکس" لگانا ہی باقی رہ گیا ہے، تاکہ اشرافیہ مزید آسودہ زندگی گزار سکے۔ شاید حکومت اپنی "رحم دلی" کی وجہ سے یہ فیصلہ یکدم نہیں کر رہی اور عوام کو آہستہ آہستہ مہنگائی کی سولی پر چڑھا رہی ہے، ورنہ وہ چاہتی تو ایک ہی دن میں قیمتوں میں کئی ہزار روپے اضافہ کرکے یہ قصہ ہی تمام کر دیتی۔

Check Also

Eman Shakhsiyat Par Aitmad Ka Naam

By Aamir Mehmood