Sunday, 26 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mehmooda Tania Awan
  4. Taqreeb Bayaad e Iqbal

Taqreeb Bayaad e Iqbal

تقریب بیاد اقبال

موجودہ دور میں اقبالیات کی اہمیت محض ادبی یا نصابی حد تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ ایک فکری، روحانی اور عملی رہنمائی کا سرچشمہ بن چکی ہے خاص طور پر اس زمانے میں جہاں نوجوان فکری انتشار، شناخت کے بحران اور مقصدِ حیات کی گمشدگی کا شکار ہیں۔

اگر ہم علامہ محمد اقبال کے افکار کو گہرائی سے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ محض شاعر نہیں بلکہ ایک مفکر، مصلح اور انسان ساز تھے۔ ان کی تعلیمات آج کے دور میں کئی حوالوں سے نہایت اہم ہیں۔

آج کا انسان، خاص طور پر نوجوان، اپنی پہچان کھو بیٹھا ہے۔ مغربی تہذیب کی اندھی تقلید میں وہ اپنی اصل سے دور ہو رہا ہے۔ اقبال کا تصورِ خودی انسان کو اپنی قدر پہچاننے، خود اعتمادی پیدا کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی دعوت دیتا ہے۔

مادیت materialism آجکا دور جہاں کامیابی کو صرف دولت اور شہرت سے جوڑا جاتا ہے۔ اقبال اس سوچ کو چیلنج کرتے ہیں اور انسان کو ایک اعلیٰ مقصد، یعنی روحانی بلندی اور خدمتِ انسانیت، کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔

اقبال نے مسلمانوں کو ان کی کھوئی ہوئی عظمت یاد دلائی اور انہیں اتحاد، خودی اور عمل کا درس دیا۔ موجودہ دور میں جب امت انتشار کا شکار ہے، اقبال کا پیغام مزید اہم ہو جاتا ہے۔ اقبال نے خاص طور پر نوجوانوں کو مخاطب کیا ہے۔ وہ انہیں شاہین سے تشبیہ دیتے ہیں، بلند پرواز اور خوددار۔ آج جب نوجوان بے مقصدیت، ڈپریشن اور سستی کا شکار ہیں، اقبالیات انہیں عمل، جدوجہد اور امید کا سبق دیتی ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ علامہ محمد اقبال ایک ایسی ہمہ گیر شخصیت ہیں جن پر بے شمار تحریریں رقم ہو چکی ہیں اور جن کی فکرکے فروغ کے لیے لاتعداد فورمز اور محفلیں منعقد ہوتی رہی ہیں۔ الحمرا کے وسیع و باوقار ہال میں ایک ایسی فکری محفل سجی جہاں نوجوان طلبہ کی کثیر تعداد کے ساتھ ممتاز اساتذہ، اقبالیات کے نامور اسکالرز اور دیگر نمایاں شخصیات شریک ہوئیں۔ یہ اجتماع دراصل فکرِ اقبال کی روشنی میں ایک نئے جہان کی جستجو کا عکاس تھا۔

اس تقریب کے چشم براہ تھے چیئرمین علامہ اقبال کونسل جناب ذوالفقار احمد چیمہ اور نظامت تھی سید تنویر عباس تابش دیگر مہمان خصوصی میں شامل تھے ایرانی کونسل جنرل مہران مواحد، ڈاکڑ اقرار احمد خان، پرنسپل کنیرڈ کالج ڈاکڑ ارم انجم، بریگڈئیر وحید الزمان طارق اور ڈاکڑ عظمی زریں۔

تمام ممتاز سکالرز نے نہایت سیر حاصل اور فکر انگیز گفتگو کی۔ بالخصوص ڈاکٹر عظمیٰ زریں نے، ذوالفقار چیمہ صاحب کے اصرار پر، علامہ محمد اقبال کی شہرۂ آفاق تصنیف پس چہ باید کرد ای اقوام شرق میں پیش کیے گئے تصورِ مردِ حُر پر روشنی ڈالی اور یہ سوال اٹھایا کہ آخر مردِ حُر کون ہوتا ہے مرد حر؟

مرد حر محکم زورد لا تخف
ما بمیدان سر نجیب وسر بکف

مردِ حر از لا الہ روشن ضمیر

مردِ حُر وہ باوقار اور مستحکم انسان ہے جس کا ضمیر "لا الٰہ" کی روشنی سے منور ہوتا ہے، جو نفس کی نفی کے ذریعے اپنی ذات کو اعلیٰ مقصد کے تابع کر دیتا ہے اور دین کی ظاہری صورت سے آگے بڑھ کر اس کے باطن اور حقیقت تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ وہ زمانے کے جبر کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنی خودی کو قائم رکھتا ہے، تقلیدِ محض سے گریز کرتا ہے اور فکری آزادی کو اپناتا ہے۔ اس کی زندگی عمل، جرأت اور استقامت کا پیکر ہوتی ہے اور اس کے فیصلے وقتی مفادات کے بجائے ابدی اقدار کے تابع ہوتے ہیں۔ یوں وہ نہ صرف اپنی ذات میں ایک مکمل انسان بن جاتا ہے بلکہ اپنے کردار اور بصیرت کے ذریعے معاشرے کے لیے بھی رہنمائی کا چراغ ثابت ہوتا ہے۔

ان کے علاوہ ذوالفقار احمد چیمہ جو اس تقریب کے چشم براہ تھے، جو اپنے زمانۂ طالب علمی ہی سے ایک بااثر مقرر کے طور پر جانے جاتے رہے ہیں اور جن کی شخصیت کو سول سروسز اور مختلف تربیتی مراحل نے مزید نکھارا۔ ان کی گفتگو نہایت پراثر اور عصرِ حاضر کی عالمی صورتِ حال کو اقبالیات کی روشنی میں سمجھنے کی بصیرت سے بھرپور تھی۔

انہوں نے اپنے خطاب میں اس امر پر زور دیا کہ کسی بھی قوم کی بقا اور ترقی کے لیے دو بنیادی عناصر ناگزیر ہیں۔ اول، امید اور حوصلہ، جو کلامِ الٰہی کے بعد اگر کہیں پوری قوت اور حرارت کے ساتھ ملتا ہے تو وہ علامہ محمد اقبال کی فکر میں ملتا ہے۔ اقبال کا پیغام مایوسی کے اندھیروں میں امید کی شمع روشن کرتا ہے اور انسان کو اپنی صلاحیتوں پر یقین دلاتا ہے۔ دوم، وہ نکتہ جس پر تقریباً تمام مسلم مفکرین متفق ہیں کہ موجودہ دور میں مغربی تہذیب کے فکری، تہذیبی اور معاشرتی ایجنڈے کو اگر کسی نے گہرائی اور حقیقت کے ساتھ سمجھا اور بیان کیا تو وہ سر محمد اقبال ہیں۔

اقبال اندھی مخربی تقلید کے قائل نہیں بلکہ وہ مغرب کی سائنسی و عقلی ترقی کو سراہتے ہوئے اس کی فکری و اخلاقی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ وہ ایک ایسے توازن کی دعوت دیتے ہیں جہاں مسلمان اپنی روحانی بنیادوں کو قائم رکھتے ہوئے جدید دنیا کے مثبت پہلوؤں سے بھی فائدہ اٹھائیں۔

یوں چیمہ صاحب کی گفتگو نے نہ صرف فکرِ اقبال کی معنویت کو اجاگر کیا بلکہ حاضرین کو اس بات کا شعور بھی دیا کہ آج کے پیچیدہ عالمی تناظر میں اقبال کی فکر کس طرح رہنمائی فراہم کر سکتی ہے۔

ذوالفقار احمد چیمہ صاحب نے نوجوانوں کی اخلاقیات کے مسائل کو بھی نہایت وضاحت اور دردمندی کے ساتھ اجاگر کیا اور والدین کو مخاطب کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ بچوں کی تربیت محض نصابی تعلیم تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ بہت کم عمری ہی سے ان کے اندر اخلاقی اقدار، سچائی، دیانت اور احساسِ ذمہ داری کو پروان چڑھانا ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ موجودہ دور میں نوجوان نسل مختلف فکری و اخلاقی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، جن میں مادہ پرستی، خود غرضی، سوشل میڈیا کا بے جا استعمال اور مقصدِ حیات سے دوری شامل ہیں۔

ان کے مطابق اگر والدین اور اساتذہ بروقت رہنمائی فراہم نہ کریں تو یہ خلا غلط رجحانات کو جنم دیتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ گھروں میں مکالمے کی فضا قائم کی جائے، بچوں کو صرف احکامات نہیں بلکہ اخلاقی اصولوں کی حکمت بھی سمجھائی جائے اور انہیں عملی نمونے (role models) فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے اساتذہ کے کردار پر بھی روشنی ڈالی کہ تعلیمی ادارے محض علم کی منتقلی کے مراکز نہیں بلکہ کردار سازی کی آماجگاہ ہونے چاہئیں۔

آخر میں ایرانی جنرل مہران مواحد نے خطاب کیا اور اس امر کو اجاگر کیا کہ اس محفل میں ایک ایسی عظیم شخصیت کو یاد کیا جا رہا ہے جسے شہید آیت اللہ علی خامنہ ای نے عصرِ حاضر کا مفکر، انقلابی اور مجاہد قرار دیا۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں اقبال کے افکار کو محض ادبی سرمایہ نہیں بلکہ ایک زندہ انقلابی قوت کے طور پر پیش کیا جو آج بھی اقوام کو بیدار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

انہوں نے موجودہ عالمی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا ایک بار پھر طاقت کے عدم توازن اور جنگی کشیدگی کا شکار ہے، جہاں بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے حصول کے لیے کمزور اقوام پر دباؤ ڈالتی ہیں۔ خاص طور پر امریکہ کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے اسے ایک ایسی قوت کے طور پر پیش کیا جو مختلف خطوں میں مداخلت، دباؤ اور بالواسطہ جنگوں کے ذریعے عدم استحکام کو بڑھاتی رہی ہے، جس کے اثرات معصوم انسانوں، خصوصاً بچوں اور عورتوں تک کو بھگتنا پڑتے ہیں۔

اس تناظر میں انہوں نے ایران کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ شدید عالمی دباؤ، معاشی پابندیوں اور سفارتی تنہائی کے باوجود ایران نے اپنے داخلی استحکام، سائنسی ترقی اور دفاعی خودکفالت کے ذریعے ایک مضبوط موقف اختیار کیا ہے۔ ان کے مطابق ایران نے نہ صرف اپنے وسائل پر انحصار بڑھایا بلکہ اپنے قومی وقار اور خودمختاری کو بھی برقرار رکھا، جو ایک خوددار قوم کی علامت ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ ایسے حالات میں اقبال کا پیغام مزید اہم ہو جاتا ہے، ایک ایسا پیغام جو غلامی کے خلاف، خودی کے استحکام کے لیے اور ظلم کے مقابل ڈٹ جانے کی تلقین کرتا ہے۔ یوں یہ خطاب نہ صرف عالمی سیاست کی عکاسی تھا بلکہ فکرِ اقبال کی عملی معنویت کا ایک جیتا جاگتا اظہار بھی تھا۔

اس عظیم الشان فکری نشست کے انعقاد پر ذوالفقار احمد چیمہ کو تحسین پیش کرنا بجا ہے، جنہوں نے نہ صرف اقبالیات جیسے اہم موضوع کو اس شان سے اجاگر کیا بلکہ موجودہ عالمی جنگی حالات کو بھی علامہ محمد اقبال کے فکری تناظر میں پیش کرکے ایک نئی جہت عطا کی۔ ان کی کاوش محض ایک تقریب تک محدود نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت فکری تحریک کا حصہ محسوس ہوتی ہے، جس کا مقصد نوجوان نسل کو اقبال کے پیغام سے جوڑنا ہے۔

انہوں نے خاص طور پر نوجوانوں میں فکرِ اقبال کو فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں، جن میں جامعات میں کوئز مقابلوں، علمی سرگرمیوں اور انعامات کے ذریعے طلبہ کی حوصلہ افزائی شامل ہے۔ اپنی ذاتی کاوشوں خاص طور پر چیمہ صاحب نے گورنمٹ کالج یونورسٹی کا نام لیا، انکے اساتزہ کو بھی مخاطب کیا۔ طلبہ و طالبات کے لیے کیش انعامات اور وسائل کے ذریعے اس مقصد کو آگے بڑھانا ان کے خلوص، وژن اور قوم کے ساتھ گہری وابستگی کا واضح ثبوت ہے۔

واقعی، ایسے افراد ہی معاشرے میں فکری بیداری کی شمع روشن رکھتے ہیں۔ چیمہ صاحب کی یہ کاوش نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ ایک مثال بھی ہے، کہ اگر نیت خالص ہو تو فکر و عمل کے ذریعے نئی نسل کی سمت متعین کی جا سکتی ہے۔

ان کو دل سے سلام اور بھرپور خراجِ تحسین۔

About Mehmooda Tania Awan

Mehmooda Tania Awan is an Educationist, doing her PhD in Education and working as a Lecturer in a prestigious institution in Lahore. She has been writing different plays and articles on Allama Iqbal's philosophy. Recently, she has been researching and writing on the literary work of Atiya Syed, famous Urdu fiction writer.

Check Also

Nathu Khairon Ke Tabsare

By Rauf Klasra