Tuesday, 21 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Mehdi Bukhari
  4. Hawa Kisi Ki Nahi

Hawa Kisi Ki Nahi

ہوا کسی کی نہیں

حالات جو بھی رُخ اختیار کرتے نظر آ رہے ہوں عقل یہی کہتی ہے کہ ایران امریکا مذاکرات ہوں گے۔ گو کہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بیان جاری کیا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے پاکستان نہیں جائیں گے اور امریکا سے بات نہیں ہوگی۔ لیکن امریکی پہنچ رہے ہیں اور ان کا آنا بنا کسی یقین کے نہیں ہے۔ بیانات کی دنیا بڑی عجیب ہوتی ہے۔ ایک طرف ترجمان پوری سنجیدگی سے اعلان کرتے ہیں کہ "بات نہیں ہوگی" اور دوسری طرف دروازوں کے پیچھے کرسیوں کی ترتیب بدلی جا رہی ہوتی ہے، چائے گرم رکھی جاتی ہے اور مترجم بھی وقت کے ساتھ اپنے الفاظ کو نرم کرنے کی مشق کر رہے ہوتے ہیں۔ قوموں کے سامنے اپنے اپنے جھنڈے بلند رکھے جاتے ہیں اور بند کمرے میں گفتگو کی میز سجائی جا رہی ہوتی ہے۔

صورتحال وہی ہے جو عرض کرتا رہا۔ ایران میں ایک طرف پاسداران انقلاب ہیں جو سخت مؤقف رکھتے ہیں اور لڑنے مرنے پر تیار ہیں، دوسری جانب سیاسی نمائندگان ہیں جو بات چیت کرکے مستقل حل اور ایسا حل نکالنے کے خواہاں ہیں جس کے نتیجے میں ملک و قوم کا بھلا ہو سکے۔ معاشی پابندیوں سے نکل سکیں اور معاملات ہمیشہ کے لیے سیٹل ہو سکیں۔ اسی کشمکش کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ ایرانی سیاسی قیادت پر سخت مؤقف رکھنے والی مذہبی قیادت کا دباؤ ہے۔ پاسداران کی آنکھوں میں مزاحمت کی چمک ہے۔ وہ تاریخ کو تلوار کے دھار پر لکھنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب سیاسی چہرے ہیں، جن کے ہاتھ میں قلم ہے اور وہ جانتے ہیں کہ کچھ سطریں خون سے نہیں، سیاہی سے بہتر لکھی جاتی ہیں۔ یہی کشمکش ہر اس ریاست کا مقدر بن جاتی ہے جو نظریہ اور ضرورت کے درمیان کھڑی ہو۔

مذاکرات آج نہیں تو کل کرنا پڑیں گے اور تب بہت دیر ہو چکی ہوگی۔ یہ بات سیاسی قیادت سمجھتی ہے۔ جنگ میں نقصان دونوں جانب ہوگا۔ امریکا کا بھی ہوگا تو ایران کا کئی گنا زیادہ ہوگا۔ اس نقصان کی بھرپائی کرنا مشکل سے مشکل تر ہوگا اور آخر کار پھر مذاکرات کی میز پر ہی بیٹھنا ہوگا۔ نہ ایران امریکا جیسی وار مشین کو ختم کر سکتا ہے نہ امریکا ایران کو مکمل ختم کر سکتا ہے۔ طاقت کی اس شطرنج میں "چیک" تو بہت ہیں مگر "چیک میٹ" کہیں نظر نہیں آتا۔ آج ایران اچھی پوزیشن رکھتا ہے۔ اس کو جیو پولیٹیکل معاملات و محاذ پر سبقت حاصل ہے۔ ابھی وہ جو حاصل کرنا چاہتا ہے اس کی گنجائش موجود ہے۔ کل کو مزید نقصان کرانے یا کرنے کے بعد یہ چوائس محدود سے محدود تر ہو جائے گی۔ آج وہ جو کچھ منوانے کی پوزیشن میں ہے کل کو شاید نہ ہو۔ ابھی تو عرب ممالک بھی خاموش ہیں۔ دنیا ایران کی خاموش ہمدرد ہے۔ امریکا اسرائیل اکیلے ہیں۔ یہ جنگ پھر سے شروع ہوتی ہے تو عربوں سمیت شاید باقی ممالک کے لیے بھی ایک واضح سائیڈ لینا مجبوری بن سکتی ہے۔

بلآخر ہر جنگ کا اختتام یا تو سرنڈر کے اعلان پر ہوتا ہے یا دو طرفہ مذاکرات کی صورت۔ معاشی پابندیاں بھی عجیب ہتھیار ہوتی ہیں۔ یہ گولی کی طرح شور نہیں کرتیں مگر خاموشی سے سانس تنگ کر دیتی ہیں۔ بازار کی رونق مدھم پڑتی ہے، کرنسی کی حرارت کم ہوتی ہے اور عوام کے چہروں پر سوال بڑھتے جاتے ہیں۔ ایسے میں جنگ کا نعرہ لگانا آسان ہوتا ہے مگر جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانا بہت زیادہ مشکل۔ تاریخ کا سبق بڑا سادہ ہے مگر ہم اسے پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ ویتنام جنگ ہو یا کولڈ وار، آخرکار دھماکے خاموش ہوتے ہیں اور میزیں آباد۔ کوئی اور راستہ چننا زیادہ طویل، زیادہ خونی اور زیادہ مہنگا ہوتا ہے۔ فیصلے بروقت نہ کیے جائیں تو بعد میں صرف نتائج بھگتے جاتے ہیں۔

ایرانی سیاسی قیادت اس صورتحال کا ادراک رکھتی ہے۔ وہ ذہین قوم ہے۔ امریکا بھی جانتا ہے کہ وہ یہ جنگ منطقی انجام تک نہیں پہنچا سکتا۔ ایران کو ختم نہیں کر سکتے، اسے سرنڈر پر مجبور نہیں کر سکتے۔ پل پل بدلتی جنگی صورتحال پر کوئی حتمی رائے نہیں دی جا سکتی۔ دیکھنا ہوگا ایران میں شدت پسند قوت غالب آتی ہے یا سیاسی قوت معاملات کو مکمل اپنے ہاتھ لیتی ہے۔ مجھے اب بھی محسوس ہوتا ہے ایرانی وفد آئے گا۔ بیانات اپنی عوام کے لیے ہیں۔ پسِ پردہ معاملات ہوش والوں کے ہاتھ ہیں۔ یہ عین ممکن ہے وہ آئیں اور گفتگو میں ڈیڈ لاک برقرار رہے۔ آخر نصف صدی کے معاملات دنوں میں حل نہیں ہو جاتے۔ ہو جائیں تو عوام شک کی نظر سے دیکھتے ہیں اور اپنے عوام میں پیدا ہوتے شک و شبہات اس وقت نہ ایرانی قیادت افورڈ کر سکتی ہے، نہ امریکی کر سکتے ہیں۔

اگر ایرانی قیادت کسی سبب واقعی نہیں آتی تو سیز فائر کی مدت ختم ہونے کے بعد جنگ شروع ہونے کے قوی امکانات ہوں گے اور جنگ کسی کے مفاد میں نہیں۔ پاکستان اپنی کوششیں روک دے گا۔ پھر جو فریقین کے مقدر کا فیصلہ ہوگا وہی ساری دنیا دیکھے گی بھی اور اس کے نتائج بھگتے گی بھی۔ ہاں وہ طبقات جو مذاکرات کے سبوتاژ ہونے کے خواہشمند ہیں، پاکستان کی امن قائم کرنے کی کوششوں کو ناکام دیکھنا چاہتے ہیں یا پاکستان پر ملبہ ڈالنے کو تیار بیٹھے ہیں ان کو یہی کہا جا سکتا ہے "چراغ سب کے بجھیں گے، ہوا کسی کی نہیں"۔

Check Also

Arastu Aur Iski Siasat (5)

By Asif Masood