Eman Shakhsiyat Par Aitmad Ka Naam
ایمان شخصیت پر اعتماد کا نام

لاکھوں کروڑوں درود و سلام آپ سرکار ﷺ کی ذاتِ مبارکہ پر۔
ایمان دراصل اعتماد شخصیت ہے، ایمان تب ہی آپ کے وجود پر وارد ہوگا جب آپ کو کسی شخصیت پر اعتماد ہو جائے گا، اعتماد سے مراد ہے ایک نسبت ایک تعلق ایک محبت کسی بھی شخصیت کے ساتھ وارد ہو جانا، آپ کا ایمان وہاں سے جانگزیں ہوگا، ہر لفظ ہر جملہ اُس شخصیت کا سند ہو جائے گا آپ کے لیے، یہی منزل ہے عشقِ مجازی کی اور مجاز نے ہی عشقِ حقیقی تک پہنچانا ہے، یہ جو پیر اور مرید کا تعلق ہے، رشتہ ہے اِس کا راز بھی یہی ہے، اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ میں خود ہی کافی ہوں دین کو سمجھنے کے لیے تو ایسا ممکن نہیں ہوگا، یہ ہو سکتا ہے کہ پہلی سطح کا علم آدھا ادھورا حاصل ہو جائے۔ لیکن دین و ایمان کی روح آپ تک نہیں پہنچے گی، جب ایک انسان خود کو دوسرے انسان کے سپرد کر دیتا ہے اپنی انا اپنے تکبر کو قربان کرکے، ہتھیار ڈال دیتا ہے، پھر معرفتِ الہی نصیب ہو سکتی ہے اور وجود پر وارد ہو سکتی ہے۔
یوں تو ہم قرآن و حدیث روزانہ پڑھتے اور سنتے رہتے ہیں اور جتنے علماء اور محقق سوشل میڈیا کی وساطت سے آج میسر ہیں پچھلے ادوار میں اتنی فراوانی سے میسر نہیں تھے، علم حاصل کرنے کے لیے لوگ میلوں کا سفر طے کرتے تھے، وہ علم دراصل اُس شخصیت کی تلاش ہوتی تھی جس کے سپرد اپنا وجود کرنا ہے، اس میں وقت کی بات نہیں ہے، کوئی موجودہ دور کی شخصیت بھی ہو سکتی ہے اور کوئی ہزاروں سال پہلے کی شخصیت بھی ہو سکتی ہے جس کو رہبر مان کر مرشد مان کر باطن کا سفر طے کیا جا سکتا ہے۔
باطن کا سفر بغیر رہبر کے بغیر مرشد کے طے نہیں ہوتا، یہ خام خیالی ہی رہے گی کہ میں مکمل دین میں داخل ہو چکا ہوں دراصل یہ جملہ تکبر ہے گمراہی ہے، کیونکہ آپ نے بہت سے احکامات پڑھے یا سنے تو ہوتے ہیں لیکن وہ وجود پر وارد نہیں ہو پاتے، یہ کسی شخصیت کا فیض یا کسی شخصیت کی نسبت سے ہی ممکن ہے، یہ جو بابے ہیں، پیر ہیں، یا مرشد ہیں یہ دراصل راستے ہیں آپ کی روح کو واصل کروانے کے لیے حقیقتوں کے ساتھ، اللہ تبارک و تعالی کی ذات سے اور محبوب الہی سرکار ﷺ کی ذات سے۔
نسبت کے بغیر آپ جو بھی پڑھیں گے یا سنیں گے وہ عام طور پر وجود پر وارد نہیں ہو سکتا، یہ محبتوں کا ہی فیضان ہے کہ آنسو عطا کیے جاتے ہیں، دردِ دل عطا کیا جاتا ہے، اشک ندامت اُمڈ آتے ہیں، مجاز ہی حقیقت تک پہنچا سکتا ہے، اگر آپ اِس نسبت میں داخل ہو گئے ہیں تو پھر قران کے حرف بھی اشکال بنانا شروع کر دیتے ہیں، احادیث کی معرفت نصیب ہوتی ہے، اِس تعلق کے لیے استقامت بہت ضروری ہے اگر آپ کوئی شخصیت ڈھونڈ رہے ہیں تو پہلے اپنی پوری تسلی کر لیں پوری جانچ پڑتال کر لیں لیکن جب نسبت میں داخل ہو جائیں تو پھر پیچھے نہ ہٹیں، استقامت کے ساتھ اس شخصیت سے وابستہ ہو جائیں، وابستہ اس طرح ہونا ہے جیسے ایک چھوٹا بچہ ماں کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے ماں کی ہر بات پر یقین کرتا ہے، ایک یقین کے ساتھ۔
یہ بات قبول کرنی کچھ لوگوں کے لیے ذرا مشکل ہو سکتی ہے لیکن ایسے واقعات ہو جاتے ہیں آج بھی ہو رہے ہیں، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تلاوتِ قران سنی جائے اور اشک رواں نہ ہوں، ذکرِ محبوب الہی ﷺ ہو اور دل گداز نہ ہو، آنکھوں سے برسات نہ ہو، اگر ایسا نہیں ہو رہا تو کہیں کچھ نہ کچھ کمی ہے، اس پر غور و فکر کرنا چاہیے، کیونکہ حاصلِ زندگی ہی یہی ہے، یہ چار دن کی زندگی تو ختم ہو رہی ہے، برف کی سل کی طرح پگھل رہی ہے، فنا سے نکل کر بقا کا سفر نسبت کے ساتھ ہی طے کیا جا سکتا ہے، تعلق کے ساتھ ہی ممکن ہے۔ اگر اس تعلق میں آپ داخل ہو چکے ہیں تو پھر آپ کے تمام معاملات دینی بھی اور دنیاوی بھی اسی تعلق کے تحت ہی چلتے ہیں، کہتے ہیں کہ جی نماز پڑھنے کا حکم نہیں ہے نماز قائم کرنے کا حکم ہے۔
نماز قائم کرنے کی تعریف بزرگوں نے یہ بتائی ہے کہ مسجد کے اندر کی کیفیت اور باہر کی کیفیت مستقل ہو جائے، یہ کیفیات کوئی انسان ہی انسان کو عطا کر سکتا ہے، دراصل انسان تو وسیلہ ہے یہ قبولیت تو اوپر سے ہوتی ہے، محبت آپ کو کیا سے کیا بنا جاتی ہے، محبت میں داخل ہوا شخص وہ وہ کام کرتا ہے جو کہ شاید وہ نہ کر سکتا اگر کسی سے اتنی گہری نسبت اتنا گہرا تعلق نہ ہوتا۔ احساسات کی دنیا عطا کر دی جاتی ہے اور پھر یہ احساسات اپنے معجزے بتاتے ہیں، درد اور غم طبیعت میں امڈ آتے ہیں، دھیان دنیا سے اٹھ جاتا ہے، آخرت کے سفر کی طرف توجہ ہو جاتی ہے، ہر دنیاوی کام ایک ہی خیال کے تحت ہونے لگ جاتے ہیں اور وہ خیال ہوتا ہے محبوبِ خدا سرکار ﷺ کا، ہمارے پاس عبادات کے لیے وقت بہت کم ہے، یہی ایک شارٹ کٹ ہے مختصر راستہ ہے کہ ہمیں محبتیں عطا ہو جائیں آنسو عطا ہو جائیں، درد عطا ہو جائے۔
درد و غم ہی ہماری عبادتوں کی کمی کو پورا کر سکتے ہیں، عبادتیں بہت ضروری ہیں فرائض میں شامل ہیں، جیسے دوسرے احکامات فرض ہیں، لیکن محبت بھی فرض ہے، خود کی نماز میں اور محبت کی نماز میں بڑا فرق ہے، بزرگ پیر فقیر، مرشد یہی کرتے ہیں کہ آپ کو محبت میں داخل کر دیتے ہیں۔ ہمہ وقت ایک ہی خیال وجود پر وارد ہو جاتا ہے، اِس آفاقی خیال کے تحت دوسرے خیالات پنپتے ہیں، پرورش پاتے رہتے ہیں، یہی روح ہے دین کی، یہی کمال ہے محبتوں کا، اللہ پاک آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔

