Biscuit Bechne Wala Bacha
بسکٹ بیچنے والا بچہ

میں اپنے گھر سے نکل کر اے ٹی ایم (ڈیوس روڈ) میں داخل ہوئی، باہر آتے ہوئے میری نظر نو دس سال کے بچے پر پڑی جو ہاتھ میں بسکٹوں کا ڈبہ پکڑے رو رہا تھا۔ میں نے اس سے رونے کا سبب پوچھا تو بولا کہ میں نے صبح تین ہزار کے بسکٹ خریدے۔ میرے پاس اٹھائیس سو روپے تھے جو کہ ایک نشئی نے مجھ سے چھین لئے۔ اب اس کو پوری رات جاگ کر یہ پیسے پورے کرنے تھے۔
یہ صرف ایک بچے کی کہانی نہیں ہے۔ جو اپنے پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لئے دربدر کی ٹھو کریں کھانے پر مجبور ہے۔ خدا معلوم کتنے سفید پوش ہیں جو مانگ نہیں سکتے اور کس طرح اپنی زندگی کی گاڑی کو گھسیٹتے چلے آ رہے ہیں۔ جب بڑی بڑی اے سی والی چم چم کر تی گاڑیاں سڑک پر موجود مخنت کشوں کی ہنسی اڑاتے ہوئے گزر جاتی ہیں اس وقت ان سڑکوں پر کھڑے یہ بچے نظر نہیں آتے جب پٹرول کا رونا رونے کے باوجود پروٹوکول تیزی سے دھول اڑاتا گزر جاتا ہے، تب جب سرکاری مرعات خاص آفیسرز کو بے تحاشا دی جاتیں ہیں تب بھی کسی کو کچھ نظر نہیں آتا۔
میں تو سرکار کے چھوٹے چھوٹے کاموں سے خوش ہو جاتی ہوں جب عوام کو فری ٹرانسپورٹ میسر آتی ہے۔ اس وقت میری خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں تھا جب ہم نے اپنے سے پانچ گناہ دشمن کو شکست دی اور دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا، ہندوستان اسرائیل کے ساتھ مل کر ہمیں صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتا تھا اور اس کے بعد سب اسلامی ممالک کی باری آنی تھی کیونکہ نام نہاد اسلام بھی ان کو ہضم نہیں ہوتا، اس لئے کہ وہ ابو جہل کی طرح یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں جب ابو جہل نے کعبہ کا غلاف پکڑتے ہوئے نوحہ کیا تھا کہ محمد وہ دین لے کر آنا چاہتا ہے جس سے امیر غریب کا فرق مٹ جائے گا۔ یہ بات کفار کو تو معلوم ہے نہیں معلوم تو ہم ہی اس سے بے خبر ہیں۔
میں ہمیشہ کہا کرتی ہوں کہ ملک اگر قائم رہے گا تو ہی اللہ کا نظام قائم ہو سکے گا۔ لیکن اس قدر معاشی نا انصافی۔ اس قدر طبقاتی تفریق۔ آ خر کیوں؟ اس کے خاتمے کی طرف تو قدم اٹھنے چاہیے۔
فوج بہترین ادارہ ہے لیکن مجھے اس وقت دکھ ہوتا ہے جب ایک فوجی اور ایک جنرل کے سٹیٹس میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ یہ ملک بنایا ہی اس لئے گیا تھا کہ اس میں اللہ کا نظام قائم ہو جو یہ کہتا ہے کہ ہم نے ہر انسان کو قابل عزت پیدا کیا ہے۔
حضرت نوح سے لے کر حضور ﷺ تک سب یہی پیغام لے کر آتے رہے کہ سب انسان برابر ہیں اور حضرت شعیبؑ کے وہ الفاظ بار بار یاد آتے ہیں جب انھوں نے اپنی قوم سے نماز کی اجازت مانگی تھی اور انھیں خوشی خوشی اس کی اجازت دے دی گئی تھی کیونکہ دو رکعت پڑھنے سے تو کسی کو کچھ فرق نہیں پڑتا۔ فرق اس وقت پڑھنا شروع ہوتا ہے جب نبی یہ کہتا ہے کہ آپ اپنے پاس ضرورت سے زیادہ مال نہیں رکھ سکتے جو ہر سرمایہ دار کے لئے نا قابل قبول ہے۔
روز اول سے لے کر آج تک ہر سرمایہ دار یہی جواب دے گا جو قارون نے دیا تھا کہ یہ دولت میری ہنر مندی کا نتیجہ ہے۔ یہی حضرت شعیب کو کہا گیا کہ یہ کون سی نماز ہے جو ہمارے مال کو بھی اپنی مرضی سے خرچ نہیں کرنے دیتی۔
جب دولت کی تقسیم منصفانہ ہو اور ریاست فرد کی ہر ضرورت کی ذمہ داری اٹھائے تو ہی وہ نظام قائم ہو سکے گا جس کو ہم اللہ کا نظام کہتے ہیں۔

